اپوزیشن کا آپریشن عزم استحکام کی حمایت سے انکار

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے 'عزم استحکام' کے نام سے فوجی آپریشن شروع کرنے کے اعلان پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔وزیرِ اعظم پاکستان کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس کے دوران انسدادِ دہشت گردی مہم تیز کرنے کے لیے 'عزم استحکام' آپریشن کو ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔ آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کو افغانستان سے متصل مغربی سرحد پر آئے روز مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوو¿ں کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکومتی حلقے اس اعلان کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں جب کہ بعض سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتے ہوئے معاملے کو پارلیمان میں لانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ محترم حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان نے آپریشن عزم استحکام کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مزید کسی فوجی آپریشن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی کی واضح پوزیشن ہے کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں،گزشتہ 30 برسوں میں جتنے آپریشن ہوئے ان سے فائدے کی بجائے نقصان ہوا، ملک کو امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا گیا۔ اس جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی سویلین اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے،، قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان بیرونی ایجنسیوں کا اکھاڑا بن گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے افغانستان سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی کاکہنا تھا کہ حکومت کو اب تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینا چاہیے ۔فوج ، عوام ،جموریت اور پاکستان کے لئے یہی بہتر ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ نہ ہو جس سے ملک بحران کا شکار ہو جائے ۔ دہشت گردی کے اسباب کا جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کو فوجی آپریشن کی نہیں، سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ امن، معاشی اور سیاسی استحکام عوام کی رائے سے بننے والی حکومت ہی کے ذریعے آ سکتا ہے۔ امن کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور بیرونی مداخلتوں کا سدباب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ماحول اور اعتماد کی بحالی، چین اور دوست ممالک کے سرمایہ کاروں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والوں کی حفاظت پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے عوام بالخصوص خیبر پی کے اور بلوچستان کے قبائلی عوام فوجی آپریشن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پارلیمنٹ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور قومی، سیاسی جمہوری قیادت سے بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ماضی کی تاریخ واضح ہے کہ اس طرح کے فوجی آپریشن ناکام ثابت ہوئے ہیں، جس کے باعث خود اداروں کی نیک نامی پر حرف آیا۔ ان آپریشنز کے نتیجہ میں عوام اور فوج کے درمیان خلیج بڑھتی رہی۔ دہشت گردی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس، پولیس اور عدالتی نظام کو فعال اور موثر بنایا جائے کیوں کہ آپریشن کے بعد بھی تو سارے معاملات سول اداروں ہی نے سنبھالنے ہیں، لہٰذا جن سول اداروں کا یہ کام ہے انہیں مضبوط بنایا جائے۔ ضرورت ہے کہ پاکستان اپنے دوست ممالک سے بات چیت کے ذریعے خطے کے امن کو بحال کرے۔ عوام دشمن اور اشرافیہ دوست بجٹ ہے ،اتحادی اور حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، ن لیگ اور اتحادی آپس میں نورا کشتی کے ذریعے ملک کو تباہ کر رہے ہیں ، نیپرا کے کنٹریکٹ کو جماعت اسلامی چیلنج کرے گی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے نئے شروع کیے جانے والے انسداد دہشت گردی آپریشن ’ عزم استحکام‘ کو ’عدم استحکام آپریشن‘ قرار دیا ہے جو انکے مطابق ملک کو مزید کمزور کر دے گا۔ ملک میں ریاست کی تقریباً کوئی رٹ نہیں ہے۔ ہم آپریشن کے نام پر 2010 ءسے مار کھا رہے ہیں۔ ہم آپریشن عدم استحکام کی طرف جا رہے ہیں۔ عزم استحکام کے نام پر پتا نہیں کیا چیز شروع کردی گئی ہے۔ اس سے استحکام نہیں عدم استحکام آئے گا۔ ہم نے آپریشن کے لیے لوگوں کو علاقے خالی کرنے کا کہا۔ عوام نے اپنے علاقوں میں ہجرت کی قبائلی خواتین کو صحراہوں میں بھیجا گیا۔ قبائلی علاقوں میں متعدد جگہوں کو لوگوں سے خالی کروالیا اور انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کردیا گیا۔ ان کی چادریں تار تار کردیں اور روایات کو نقصان پہنچایا۔ متاثرین کو مکان بنانے کے لئے چار لاکھ دیئے جارہے ہیں۔ چار لاکھ سے گھر تو کیا غسل خانہ بھی نہیں بن سکتا۔آپ مذاق کررہے ہیں۔ ان کو چار لاکھ بھی نہیں دیئے گئے بلکہ ٹوکن دیئے گئے ہیں۔ ریاست نے ہمیں کہاں کھڑا کردیا ہے۔ کیا بطور شہری ہم ریاست پر کوئی حق نہیں رکھتے۔