انڈین بارڈرفورس کا پاکستانی رینجرز کیساتھ احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ

 واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے موقع پر ہونے والی پریڈ کے دوران قومی کرکٹر حسن علی نے انڈین بارڈر سیکیورٹی فورسز اور بھارتی عوام کی جانب رخ کر کے جشن منانے کا مخصوص انداز اپنایا تو بھارتیوں کیساتھ ساتھ بھارتی فوج کو بھی

 

”مرچیں“ لگ ہی گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین بارڈر فورس نے حسن علی کی جانب سے پریڈ میں مداخلت کرنے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستانی رینجرز کیساتھ احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ پروٹوکول کے مطابق تقریب میں انڈین بارڈر سیکیورٹی فورس اور پاکستان رینجرز کے جوان ہی شریک ہوتے ہیں۔بارڈر سیکیورٹی فورسز (پنجاب فرنٹیئر) کے انسپکٹر جنرل موکول گوئل نے بھارتی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” حسن علی کی مداخلت نے پریڈ کی ’حرمت‘ کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم پاکستان رینجرز کو احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔“۔گوئل نے مزید کہا کہ ”بارڈر کے دونوں جانب تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ پر رہ کر کوئی بھی جارحانہ انداز اپنا سکتا ہے لیکن کوئی بھی عام شخص پریڈ میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ پریڈ سے پہلے یا پریڈ کے مطابق لوگوں کو اس طرح کے کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن پریڈ کے درمیان ہرگز نہیں۔“بارڈر سیکیورٹی فورس کے ترجمان اور ڈی آئی جی آر ایس کٹاریہ نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ”میں چھٹیوں پر ہوں لیکن اس معاملے کی تحقیقات کی ہیں۔ بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم پریڈ دیکھنے کیلئے

واہگہ بارڈر آئی تھی۔پریڈ کے دوران ایک پاکستانی کرکٹر نے پریڈ کے دوران ہی اشتعال انگیز اشارے شروع کر دئیے ۔ یہ پاکستانی سائیڈ پر ہوا جبکہ بعد میں پاکستانی حکام نے ہی اس کھلاڑی کو بٹھا بھی دیا۔ چونکہ یہ دو ملکوں کی فوج کے درمیان ہونے والی پریڈ ہے، اس لئے بی ایس ایف پاکستان رینجرز کو احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔