آزادکشمیر : ہر چیز کا حل پابندی نہیں ہونا چاہیے!

ابھی گلگت الیکشن کے مسائل ختم نہیں ہوئے تھے کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ایک ایسی خبر آئی جس نے ہر محب وطن پاکستانی کو پریشان کر دیا،،، وہ خبر یہ تھی کہ وہاں پر سب سے زیادہ مقبول ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ پر پابندی لگا دی گئی۔ اور فرمان جاری ہوا کہ اب اس تنظیم کو کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔آگے چلنے سے پہلے اس کمیٹی کے بارے میں بتاتا چلوں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) آزاد کشمیر 2023 کے دوران ایک منظم عوامی پلیٹ فارم کے طور پر ابھری، جس میں تاجروں، وکلا، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، مزدوروں اور مختلف سماجی تنظیموں نے شمولیت اختیار کی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد مہنگی بجلی، آٹے کی قیمتوں میں اضافے، ٹیکسوں اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف عوامی آواز کو منظم کرنا تھا۔ ابتدا میں حکومت اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا، تاہم 2024 میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب کمیٹی نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے بڑے پیمانے پر ہڑتالوں، لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔ پھر بعد ازاں کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اورعوامی دباو¿ اور مذاکرات کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے، تاہم اس جماعت نے 9جون کو مہاجر سیٹوں کے خاتمے کے لیے احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا،،، لیکن اس سے پہلے ہی آزاد کشمیر حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی اور تادم تحریر راولا کوٹ میں پولیس اور مذکورہ جماعت کے درمیان شدید جھڑپوں کے بارے میں سنا جا رہا ہے،،، بہرحال اطلاعات یہ ہیں کہ انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک نے وفاقی حکومت سے 14ہزار اہلکار طلب کیے ہیں تاکہ قانون کے نفاذکو یقینی بنایا جا سکے۔ آگے چل کر حالات کیا بنتے ہیں، اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا،،، مگر جس نکتے پر اس وقت اتفاق نہیں ہو رہا وہ ریاستی اسمبلی میں جموں و کشمیر کے مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستیں ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ انہیں یکسر ختم کر دیا جائے کہ اس کے ذریعے وفاقی ادارے ریاستی حکومت کو دباﺅ میں رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے دستور کے مطابق پاکستان میں مقیم جموں اور کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین کو اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ مہاجرین (اور ان کی اولادیں) پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور 12ارکان کو منتخب کر کے ریاستی اسمبلی میں بھیجنے کا آئینی استحقاق انہیں حاصل ہے۔ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں پاکستان کی مختلف جماعتوں اور اداروں کے زیر اثر ہیں‘ اس لیے انہیں ختم کر دینا چاہیے‘ جبکہ ان کے مخالف اس استدلال کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔اور سرکار نے مستند دلائل سننے کے بجائے مذکورہ جماعت پر ہی پابندی لگادی،،، بالکل اسی طرح جس طرح ہٹلر حکومت جرمنی میں ہر چیز کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی عادی ہو چکی تھی،،، چلیں ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ مہاجر کشمیریوں کو اُن کا حق رائے دینے سے روک دیں،،، لیکن جب اوور سیز پاکستانی چیختے رہے ہیں کہ اُنہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے،،، جب اُنہیں یہ سہولت میسر نہیں ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ کشمیر کے لیے یہ سہولت دے دیں؟ اوور سیز کے لیے یہ بہانہ بنایا جاتا ہے کہ اُنہیں پاکستان کے یا جدھر کا ووٹر ہوتا ہے وہاں کے حالات کا علم نہیں ہے، تو پھر اگر آپ یہی فارمولا کشمیریوں پر لگاتے ہیں تو جو کشمیری اپنے علاقوں سے باہر بیٹھے ہیں، اُنہیں کشمیر کے بارے میں کیا علم ہوسکتا ہے؟ کیوں اُنہیں تو کئی کئی دہائیاں ہو گئی ہیں کشمیر سے نکلے ہوئے۔ اس لیے کالعدم کشمیر کمیٹی کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ان 12سیٹوں کو ختم کیا جائے،،،کیوں کہ ان سیٹوں سے اُن کا استحصال ہو رہا ہے،،، کیوں کہ اب ہوتا یہ ہے کہ جو پنجاب کی مہاجر سیٹیں ہیں وہ ن لیگ لے جاتی ہے، جو سندھ کی مہاجر سیٹیں ہیں وہ پیپلزپارٹی لے جاتی ہے ،،، اسی طرح باقی صوبوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ لہٰذاجو خالصتاََ کشمیر کی پارٹی ہے وہ جتنا مرضی کام کرے وہ وہاں پر مار کھا جاتی ہے،،، کیوں کہ مہاجر سیٹوں کی وجہ سے پھر وہاں حکومت بنانے میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی اب ہو یہ رہا ہے کہ ”سرکار“ جو دلائل اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے دیتی ہے، اب وہی دلائل یہاںمہاجر کشمیریوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے دیتے ہیں۔ اور پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ کشمیری 2ووٹ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ یعنی ایک تووہ پاکستان کے جنرل الیکشن کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں، دوسرا وہ کشمیر کے الیکشن میں بھی اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جتنے کشمیری مہاجر پاکستان میں ہیں، اُس سے زیادہ پنجابی سندھ میں خصوصاََ کراچی میں رہتے ہیں،،،اور اُس سے زیادہ پٹھان بھی کراچی یا لاہور میں ہیں،،، اور اسی طرح بلوچستان میں بھی پنجابی اور پٹھان موجود ہیں بلکہ بلوچستان میں تو 35فیصد پشتون آبادی ہے،، اورپھر اسی طرح پنجاب میں 10لاکھ بلوچی، 24لاکھ پشتون اور کم و بیش 4لاکھ سندھی موجود ہیں،،، تو پھر اسی تناسب سے ہر صوبے کے لیے ”مہاجر“ سیٹیں ہونی چاہییں،،، لیکن اس کے برعکس یہ حق صرف اور صرف کشمیریوں کو ہی کیوں ہے؟ کہ وہ دو دو ووٹ ڈالیں ،،، پھر یہ حق گلگت والوں کو بھی دیا جائے،،، بہرحال اب ہمارے فیصلہ کرنے والے کشمیر میں پنجاب اور اسلام آباد سے پولیس منگوا رہے ہیں،،، اور ساتھ رینجرز بھی ”امن و امان“ قائم رکھنے میں مدد دے گی،،، اور ابھی گزشتہ رات ہی راولا کوٹ میں سرکاری اطلاعات کے مطابق جھڑپوں میں چند پولیس والے شہید ہو گئے ہیں،،، تو بتایا جائے کہ ایسے حالات کیوں پیدا کیے جا رہے ہیں کہ مسلمان ہی مسلمان کا دشمن اور پاکستانی ہی پاکستانی کا دشمن بن گیا ہے،،، اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جایا جا رہا ہے،،، لہٰذا یہ حالات صرف کشمیر کے ہی نہیں ہیں بلکہ آپ بتادیں کہ ملک میں کونسا حصہ اس وقت امن میں ہے،،، پنجاب میں سی سی ڈی نے سب کو آگے لگایا ہوا ہے،،، اندرون سندھ کے حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں،،، کراچی میں دن دیہاڑے لاقانونیت کا راج ہے،،، بلوچستان میں آپ جا ہی نہیں سکتے،،، آدھے سے زائد کے پی کے میںآپ سفر نہیں کر سکتے،،، گلگت میں آپ پاک فوج کے ذریعے نظام چلا رہے ہیں،،، لہٰذااگر حکومت چاہتی ہے کہ امن و امان ہوتو عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے،،، یعنی اس وقت ہمیں صرف اور صرف ایک کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ عوام کی نمائندہ حکومت کو اقتدار میں آنے دیں،،، مثلاََ فرض کیا کہ اگر کشمیر میں آپ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بحال کرکے اُن کی پسندیدہ حکومت کو اقتدار سونپ دیں گے تو اُس سے کیا ہوگا؟ میرے خیال میں اُس سے یہ ہوگا کہ آپ کی من مرضی کے خلاف حکومت اقتدار میں آجائے گی،،، تو اس سے کیا ہوگا؟ صوبہ کے پی کے میں بھی تو آپ کی حکومت نہیں ہے،،، تو اُنہوں نے آپ کے خلاف کونسا پہاڑ ڈھا لیا ہے جو کشمیری ڈھا لیں گے؟ الغرض اگر کہیں عوامی حکومت بن بھی جاتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کے ہمسائے بھارت میں کل 28ریاستیں ہیں،،، ان میں سے 14-15ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے،،،ا ور باقی 13، 14ریاستوں میں مرکز کے خلاف حکومت ہے تو کیا بھارتی حکومت ان ریاستوں کے خلاف مضبوط جماعتوں پر پابندی لگا دیتی ہے؟ نہیں وہاں عوامی حکومت ہی قائم ہوتی ہے،،، تبھی تمام ریاستیں بھی مرکز کا احترام کرتی ہیں،،، اور کہیں کوئی بڑی سازشیں یا شورش ہم نہیں دیکھی۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے اندر اتنا حوصلہ ہی نہیں ہے،،، کہ ہم عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں،،، بلکہ ہم عوامی مینڈیٹ کو سختی سے کچلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دنیا بھر میں صلح کروا رہے ہیں اور اپنے شہریوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں، اُن پر سیاسی مقدمات قائم کر رہے ہیں ،،، یا اُنہیں شہید کر رہے ہیں یا اُنہیں غائب کر رہے ہیں۔ نہ جانے ہم نے کن ملکوں کو کاپی کرنا شروع کر دیا ہے، یا علم نہیں کے ہمارا آئیڈیل ملک کو نسا ہے، جسے ہم فالو کر رہے ہیں،،، لیکن اگر ہم امریکا کی پیروی کر رہے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ امریکا اگر پوری دنیا پر حملے کرتا ہے تو دوسری طرف وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو بھی یقینی بناتا ہے،،، وہاں آپ کسی اسٹیٹ پر کوئی ہنگامہ نہیں دیکھیں گے،،،ا ور نہ ہی وہاں عوامی مینڈیٹ کو کچلا جاتا ہے،،، وہ اپنے شہریوں کی دنیا بھر میں حفاظت کرتا ہے،،، آپ اس کی مثال ایران امریکا اسرائیل جنگ میں دیکھ لیں کہ اُنہوں نے اپنے ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے ایران کے اندر سرجیکل اسٹرائیک کی جس پر اربوں خرچ کر ڈالے،،، پھر آپ ریمنڈ ڈیوس جیسے واقعے کو دیکھ لیں،،، کہ امریکا نے اپنے شہری کو بچانے کے لیے کیا کیا کیا تھا،،، مجھے یاد ہے کہ جب 90کی دہائی میں مظہر ٹبی کو مقابلے میں مارا تھا تو اُس وقت مبینہ طور پر ایک امریکی شہری بھی ساتھ ہلاک ہوا تھا،،، جس پر امریکی ایمبیسی نے ہمارے اداروں کا جینا حرام کر دیا تھا،،، پھر انہوں نے مظہر ٹبی کی پوری فائل تیار کرکے امریکا کو دی اور کہا کہ مظہر ٹبی گینگسٹر تھا،،، اور جب وہ مارا گیا تو کسی کو علم نہیں تھا کہ اُس کے ساتھ کوئی امریکی شہری بھی تھا،،، لہٰذاکہا جاتا ہے کہ ریاستی سطح پر معافی تلافی کے بعد ان کی جان خلاصی ہوئی تھی۔ بہرکیف کشمیرجیسا مسئلہ انتہائی نازک ہے،،، یہاں پہلے ہی بھارت تاک میں بیٹھا ہے اور عالمی سطح پر پراپیگنڈہ کرتا نہیں تھکتا کہ دیکھو پاکستان اپنے شہریوں پر کس قدر ظلم کر رہا ہے تو ایسے میں اگر ہم نے مزید سختی سے کام لیا تو میرے خیال میں پھرہمارے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے،،، اور اگر کہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس وقت کشمیریوں کی رائے لے لی گئی تو پھر خدشہ ہے کہ نتائج ہماری پسند کے نہ آئیں ،،، اور خاکم بدہن اگر ایسا ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ اس لیے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اُتنے حالات خراب کریں، جتنے وہ سنبھال لیں! ورنہ مشکلات سب کے لیے بڑھ جائیں گی! اور آخری بات بقول شخصے کہ کسی کی رائے کچھ بھی ہو‘ مطالبہ کچھ بھی ہو‘ سیاست کا جواب سیاست سے دینا لازم ہے۔ آزاد کشمیر کو بہرحال آزاد کشمیر رہنا چاہیے!