بلاول اور کرپٹ پیپلز پارٹی


چند سال قبل ایک تقریب میں جاوید ہاشمی سے ملاقات کے دوران میں نے ان سے برجستہ سوال پوچھا کہ زرداری صاحب کی سیاست کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا اس کے لیے آپ کو سیاست میں پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے.... مجھے بے نظیر کے نویں برسی کے موقع پر ایک بار پھر ان کی طرف سے کہی ہوئی بات یاد آگئی.... کیوں کہ کبھی سابق صدر زرداری خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے رکھتے ہیں.... کبھی اپنی بولی لگوانے کے لیے حکومت کے نیچے سے اُڑن تختہ کھینچنے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں.... کبھی حکومت پر چیخنے چلانے کے لیے اپوزیشن لیڈر کو ٹاسک دے دیتے ہیں.... کبھی بلاول بھٹو کو لانچ کر دیتے ہیں اور پھر بلاول ہی کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتے ہیںاور باپ بیٹے میں طویل ناراضگی بھی جنم لیتی ہے.... کبھی بیٹے کو منا کر واپس سیاست میں لاتے ہیں.... کبھی فوج کے خلاف بیان دے کر اپنے خلاف کر لیتے ہیں تو کبھی ان کے حق میں بیان دے کر اپنی راہیں صاف کرلیتے ہیں.... کبھی جمہوریت کوبچانے کے نعرے کا سہارا لے کر اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں کو معاف کرنے کا اعلان کردیتے ہیں.... اور اب جب بی بی شہید کی برسی کے موقع پر کئی ماہ سے سنتے آرہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے دبنگ تقریر یں کی جائیں گی.... اہم اعلانات کیے جائیں گے ....غریب سندھیوں کے حقوق کی بات کی جائے گی.... پانامہ کیس کے حوالے سے وزیراعظم کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا.... اسمبلیوں سے استعفے دئیے جائیں گے تاکہ خاص طور پر قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے....فرینڈلی اپوزیشن ختم کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے.... ایسا کچھ نہیں ہوا، سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا اور دونوں باپ بیٹے نے اعلان کیا کہ اب وہ قومی اسمبلی کی جانب رختِ سفر باندھیں گے....یعنی الیکشن قریب آرہے ہیں.... فصل پک چکی ہے اورکٹائی کا موسم زیادہ دور نہیں ہے.... البتہ فصل گل میں ان کی پارٹی کا حصہ ایک سوالیہ نشان ضرور ہے....اور وہ سوالیہ نشان یہ ہے کہ اب اگر آصف زرداری اور بلاول بھٹو اگر انتخابی عمل سے گزر کر اسمبلی میں پہنچ ہی جاتے ہیں توسوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کا کیا بھلا ہو گا؟عام سندھی کا کیا بھلا ہوگا ؟جہاں پچھلے 9سالوں سے حکومت کر رہے ہیں .... ویسے بھی ان اسمبلیوں نے آج تک عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟ ....یعنی ایک بار پھر عوام کو ماموں بنادیا گیا ہے ....اگر انہوں نے اسمبلی میں جا کر حکومت سے فرینڈلی اپوزیشن کا مظاہرہ کرنا ہے اور بوقت ضرورت کندھا ہی پیش کرنا ہے تو وہ پہلے ہی سید خورشید شاہ بطریق احسن کر دار نبھا رہے ہیں ....اس لیے کسی نئے چہرے کی اسمبلی میں آمد سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا....شایدآصف علی زرداری کو یاد نہیں کہ اپوزیشن کے ”اتحاد“ میں پی پی کا رویہ واحد رکاوٹ رہی ہے.... جس نے آج تک حکومت کے خلاف کسی اتحاد کو بننے ہی نہیں دیا.... اگر یہ کہا جائے کہ آصف علی زرداری موجودہ حکومت کے پیار میں اندھے ہو چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا.... کہتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔ اندھی محبت سے لبریز کسی محب وطن شاعر نے کہا تھا کہ 

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

اگر پیپلز پارٹی اپنا رویہ اور اپنا قبلہ درست فرما لے تو آج حکومت بھی صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کر رہی ہوتی ہے.... لیکن کیا کریں جس اپوزیشن جماعت نے یہ سب کرنا ہے اسے کئی قسم کے خوف دامن گیر ہیں ایک طرف کرپشن کی داستانیں اور چند گرفتاریاں پی پی کی قیادت کو مہر بہ لب رکھنے کا باعث ہیں تو عسکری قیادت سے بگاڑ مول لیکر بھی وہ ہر اس کا شکار ہے.... اِنھی وجوہات کی بنا پر آصف زارداری کو اٹھارہ ماہ دیا رِ غیر میں گزارنے پڑے اب بھی وہ جس دن کراچی کیلئے اپنے سے کم تر امیر ”دوست “ کے جہازوں پر محو پرواز ہونے لگے تھے تو رینجر زنے ان کے قریبی رفیق کے دفاتر پر چھاپہ مارا کچھ اسلحہ ملا، چند فائلیں قبضہ میں کی گئیں....یار دوستوں نے بتایا کہ اس کارروائی پر مراد علی شاہ کو زرداری نے خوب جھاڑ پلائی مگر وہ صفائیاں دیتے رہے کہ انہیں بھی اس کارروائی سے مکمل بے خبر رکھا گیا.... پھر عین اسی وقت بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پاپا کے لیے ایک ٹویٹ کر کے ان کا موڈ فریش کرنے کی کوشش کی جس پر لکھا تھا کہ ”ایک زرداری سب پر بھاری“.... میرے خیال میں بچوں کے لیے ان کا باپ ہی آئیڈیل شخصیت ہوا کرتی ہے.... اور بلاول نے بھی ایک بیٹے کی حیثیت سے ٹویٹ کردیا ہوگا لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے والد محترم نے پاکستان کا امیر ترین شخص ہونے کا ”اعزاز “ کیسے حاصل کیا.... جہاں تک راقم کی یادداشت کا تعلق ہے تو آصف زرداری کا سیاست سے سن 80ءکے وسط تک دور دور کاواسطہ نہیں تھا.... بس ایک سراغ یہ ملتا ہے کہ1985ءکے غیرجماعتی انتخابات میں آصف زرداری نے بھی نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے.... مگر یہ کاغذات واپس لے لئے گئے.... اسی زمانے میں آصف زرداری نے وزیرِ اعلیٰ غوث علی شاہ کے ایک وزیر سید کوڑل شاہ کے مشورے سے کنسٹرکشن کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس شعبے میں آصف زرداری صرف دو ڈھائی برس ہی متحرک رہے.... 1990 ءسے 2004ءتک کے چودہ برس آصف زرداری کی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز سال ہیں.... یہ وہ سال ہیں جب امیر ترین شخص ہونے کا خواب پورا ہوا.... بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے اور موصوف کو مسٹر ”ٹین پرسنٹ“ کا خطاب دیا گیا۔سب سے پہلے 1990ءمیں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری سے آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا.... لیکن انہی غلام اسحاق خان نے بعد میں آصف زرداری کو رہا کردیا.... آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق غلام اسحاق خان نے بے نظیر اور آصف زرداری پر کرپشن کے انیس ریفرنسز فائل کئے لیکن ان میں سے کوئی ثابت نہیں ہو سکااور نہ کبھی ثابت ہو سکے گا.... کیوں کہ نواز زرداری دوستی زندہ باد.... 5 نومبر 1996ءکو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں آیا.... نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے.... سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا.... دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد.... ہیلی کاپٹروں کی خریداری.... پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے.... برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے.... سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے.... اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے.... برطانیہ میں 9، امریکہ میں 9، بیلجیئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی.... جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں.... اس دوران انہوں نے تقریباًً دس سال قید میں کاٹے اور 2004ءمیں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کردیا گیا....اور 2008ءمیں انہیں صدر پاکستان بنا دیا گیا....!!!بقول شاعر 

دھیان کے آتشدان میں ناصر

بجھے دنوں کا ڈھیر پڑا ہے!

بلاول بھٹو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا ہے.... وہ جب غریب عوام کو دیکھتا ہے تو ”ینگ بلڈ “ ہونے، بھٹو کا نواسا ہونے اور بے نظیر کا بیٹا ہونے کی خاطر وہ جذباتی ہوکر اپنے والد، پارٹی قائدین اور اپنے رفقاءسے اُلجھ پڑتا ہے.... مگر وہ بے چارہ کیا کرے.... اس کے ارد گرد ان لوگوں کا جال بچھا پڑا ہے جنہوں نے 5سال حکومت کرنے کے باوجود ملک کو کچھ نہ دیا.... اتوار کے دن بینکوں کو کھلوا کر لوٹا گیا.... ایک ایک دن میں اربوں روپے کی دھاڑیاں لگائی گئیں اور کہا گیا کہ خزانے خالی ہیں اس لیے عوام کی خاطر آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں.... اور پیپلز پارٹی ہی کی بدولت آج بھی یہ سلسلہ اسی تیزی سے جاری ہے اور ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب لا کھڑا کیا ہے.... آج حکمران سی پیک میں اپنا ”حصہ “ڈالنے کی خاطر گوادر میں زمینوں کے سروے کروا رہے ہیں.... اور کوڑیوں کے بھاﺅ خرید کر اپنے نام کروا رہے ہیں تو شاید موصوف بھی اسی خاطر اپنا بوریا بستر پاکستان میں لے آئے ہیں تاکہ ........ بس چھوڑیں بقول شاعر ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہیں کیوں کہ وہ لیڈر نہیں ہیں وہ بزنس مین ہیں جنہیں محض اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے.... 

تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

بہر کیف میں تو یہی کہوں گا کہ پیپلز پارٹی اگر گڈ گورننس سیکھ لے تو اس سے بہتر کوئی پارٹی نہیں ہے.... اور رہی بات بلاول کی تو اس کی جماعت کے قائدین اسے وراثت میں ملے ہیں.... اگر وہ حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرناچاہتا ہے تو اسے اپنا جھکاﺅ عوام کی جانب موڑنا ہوگا.... اور سب سے پہلے اپنی پارٹی کے اندر احتساب عمل شروع کرنا ہوگا .... اور ان لوگوں کو سیاست سے نکالنا ہوگا جن پر کرپشن کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں.... ورنہ بادی النظر میں بلاول کی سیاست شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتی نظر آرہی ہے....!!!