4اگست ’’ یوم شہداء پولیس ویوم سویلین شہداء‘‘


آج کل بنی گالہ میں جس قدر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں ، تمام صوبوں اور مرکز میں حکومت سازی کے حوالے سے تحریک انصاف کی سینئر قیادت سر جوڑے بیٹھی ہے، چونکہ عوامی مسائل کے بڑے بڑے چیلنجز سامنے ہیں مگر اُس سے زیادہ عمران خان کو فی الحال اپنی ٹیم تشکیل دینے میں بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اور یہ مشکلات فطری عمل بھی ہے کیوں کہ اگر ن لیگ یا پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنا ہوتا تو شاید اُن کے لیے یہ مسائل نہ ہوتے مگر پہلی دفعہ اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعت کو ٹیم بنانے اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تھوڑا وقت درکار ہے۔ اس حوالے سے راقم نے چند ماہ قبل ایک کالم لکھا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’’عمران خان کو اپنی ٹیم اناؤنس کر دینی چاہیے‘‘ یہ کالم میں نے اُس وقت لکھا جب عمران خان نے 100روزہ پلان جاری کیا تھا۔ اگر اُس وقت یہ کام ہو چکا ہوتا تو یقیناًآج اُن کے لیے اپنی سینئر قیادت کو وزارتوں میں ایڈجسٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔ خیر کاؤنٹ ڈاؤن تو 11اگست کے بعد ہی شروع ہوگا جب حکومت باقاعدہ حلف اُٹھا لے گی ۔ہمیں یقین واثق ہونا چاہیے کہ عمران خان میرٹ کو سامنے رکھ کر اپنی بہترین ٹیم کا ہی انتخاب کریں گے۔ اور اُن کے اوپر خود سے چیک اینڈ بیلنس بھی رکھیں گے تاکہ ہماری اسمبلیاں پرانی ڈگر پر نہ واپس آجائیں۔ 
خیر ایک دو دن میں وزارتوں کے حوالے سے چیزیں مزید واضح ہو جائیں گی کہ کتنی وزارتیں قائم کی گئی ہیں۔ میرا مکمل کالم تو شاید اسی حکومت سازی پر ہوتا مگر اس سے پہلے کل 4اگست کو یوم شہدائے پولیس منایا جا رہا ہے اور قارئین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اس پر ضرور لکھتا رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے دور سے ہی گزشتہ حکومتوں سے اپیل کرتا رہا ہوں کہ ’’سویلین شہداء‘‘ جن کی تعداد 2001سے 2018تک 90ہزار کے قریب ہو چکی ہے کے لیے بھی یوم ’’سویلین شہداء منایا جائے ، اُن کے لیے بھی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک وزارت قائم کی جائے تاکہ ان کا کم از کم ڈیٹا تو اکٹھا کیا جاسکے۔ ابھی گزشتہ چند دن پہلے کوئٹہ میں ایک ہفتے کے دوران 200 افراد شہید ہوئے۔ سینکڑوں زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ جن کی خبر پہلے دن صفحہ اول پر ہوتی ہے، اس کے بعد گم ہوتی خبر بالکل غائب ہو جاتی ہے۔ اور شہداء کے خاندان کو 2چار لاکھ روپے معاوضہ دے کر اُس کے بعد اُنہیں زمانے کی سختیاں جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 
یہ بھی حالیہ چند سالوں میں ہوا ہے کہ پولیس بھی اپنے شہداء کے لیے دن مناتی ہے۔ انہیں یاد کر تی ہے، اُن کے لواحقین کو وہ درجہ دیتی ہے جس کے وہ حقدار ہیں ۔ وطن عزیز کے اندر عوام کے جان ،مال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لئے قائم اداروں میں سر فہرست محکمہ پولیس کا ادارہ ہے جوکہ ملک بھر میں دہشت گردی ،چوری، ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرپیکار ہے ،پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرتے ہیں تو پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ملک کے اندر موجود ،دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصر وف عمل رہتے ہیں۔ قانون کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام ، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یاسماج دشمن عناصر سے مقابلہ ، ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ براء ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔ شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کی یاد میں نیشنل پولیس بیورو پاکستان کی جانب سے ہر سال یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔جس کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یاد میں بڑی تقاریب کا انعقادکرناہے جس میں شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، شہداء کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں اور محکمہ پولیس کے شہداء کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ چاروں صوبوں کی پولیس اور سپیشل فورسز کی جانب سے صوبائی، ریجنل اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں پولیس افسران ،سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ایف آر پی، ایلیٹ پولیس، ٹرنینگ سٹاف اور ٹریفک پولیس سمیت ہر یونٹ کے افسران اور جوان ، شہدائے پولیس کے لواحقین کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ 
یہ ایک اچھا طرز عمل ہے جو ادارہ خواہ وہ پاک فوج ہی کیوں نہ ہو، اپنے شہداء کو بھلا دے گی تو یقیناًاُس کے جوانوں کا مورال بھی گر جائے گا۔ لیکن کیا وطن عزیز کے شہری اس ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ جن کی حفاظت کے لیے پولیس اور فوج کو تعینات کیا جاتا ہے اور شہری جو ریاست کی غفلت کی وجہ سے شہید ہوتے ہیں انہیں بھلادیا جا تا ہے ۔ اس حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق 100چھوٹے بڑے دہشت گردواقعات رپورٹ کیے گئے ہیں تو ان میں سے 45فیصد سکیورٹی ادارے نشانہ بنتے ہیں جبکہ 55فیصد حملوں میں سویلین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ صرف فاٹا میں 2017کے دوران 539افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 668زخمی ہوگئے جاں بحق ہونے والوں میں سیکیورٹی فورسز کے 128افراد جبکہ138سویلین شامل ہیں اسی طرح سیکیورٹی فورسز کے 65اہلکار جبکہ437سویلین زخمی ہوگئے۔اگر ہم ملک کے دوسرے حصوں کی بات کریں تو اس تناسب کا جھکاؤ عام شہریوں کی طرف ہوتا ہے۔ مثلاََ بارڈر ایریا میں اگر بھارت یا افغانستان کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے تو 10واقعات میں 70فیصد سویلین جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ سکیورٹی اداروں کے شہداء کا تناسب 30فیصد ہوتا ہے۔
میں یہ ہر گز نہیں کہتا کہ سکیورٹی اداروں کے شہداء کو اعزازات سے نوازا نہیں جانا چاہیے، بلکہ میرا مقصد ’’سویلین ‘‘ شہداء کی طرف توجہ دلانا ہے، کہ نئی نویلی حکومت کو چاہیے کہ اُن کے لواحقین کے بارے میں بھی سوچا جائے جن کا وارث کوئی نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ حکومت چند لاکھ روپے امداد دے کر ان شہداء سے مستقل طور پر جان چھڑا لیتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں ، اس لیے اتنے پیسوں پر ہی اکتفاء کریں، جبکہ اگلی برسی آنے تک امداد اور جمع پونجی سمیت سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارنے والا خاندان سڑک پر آجاتا ہے۔ جس کا مقدر زکوۃ، فطرانہ اور صدقات پر گزارہ کرنا رہ جاتا ہے۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین شہداء جو سکیورٹی فورسز اور حکو مت کی غفلتوں کی وجہ سے شہید ہوتے ہیں، ان کو پہلی ترجیح پر اعزازات ملنے چاہیءں۔ آپ اس کی مثال دنیا بھر کے ممالک سے لے سکتے ہیں۔ جہاں سویلین شہداء کے حوالے سے خاص فنڈز قائم ہیں، مثلاََبھارت، بنگلہ دیش،سری لنکا جیسے ممالک میں اگر کوئی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا ہے، سویلین شہداء ویلفیئر فنڈ میں سے رقوم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ کیوں کہ شہداء کے بچوں کو اچھی تعلیم دینے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ لوگ سویلین شہید کے بچوں کی نگرانی کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ 
یہاں پاکستان میں پاک فوج اپریل میں یوم شہدائے پاکستان کے نام سے دن منا لیتی ہے، جس سے شہدا کی فیملیز کی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے، اگست میں پولیس شہداء کا دن منا لیتی ہے اور دیگر ادارے اسی طرح کسی نہ کسی دن اپنے شہداء کی یاد منا کر غم بانٹ لیتے ہیں مگر کیا یہ ملک ’’آرم فورسز‘‘ کے لیے رہ گیا ہے ؟کہ جو فورسز کے افراد شہید ہوں انہیں کو ہی یاد رکھا جائے گا، جو ’’عام عوام‘‘سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہورہے ہیں ان کا دن کون منائے گا؟ یعنی ’’سویلین شہداء‘‘ کو کون یاد رکھے گا؟اس طرف کسی کا دھیان بھی نہیں گیااور نہ کسی نے اس حوالے سے سوچا کہ ملک میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے سب سے زیادہ عام شہری ہوتے ہیں جن کی تعداد پاک فوج اور پولیس شہداء سے بھی زیادہ ہوتی ہے اُن کا کسی کے پاس کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے۔ 
سویلین شہدا کے بچے کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں ؟کسی کو علم نہیں ہے۔ یہاں تو سروں پر اپنوں کے سائے سلامت بھی ہوں تو سلامتی کی کوئی گارنٹی نہیں تو جن کے سروں سے سائے ہی اٹھ جائیں ان کا حال کون دیکھے اور لکھے گا؟ہزاروں سرکاری محافظوں کے حصار میں محفوظ، مذمت تک محدود، زبانی کلامی حد تک عوام کے دکھوں میں شریک حکمران طبقات اس بات کو پرکاہ جتنی وقعت دینے پر بھی تیار نہیں۔ یہاں 22کروڑ کی آبادی میں چند ہزاریا چند لاکھ اوپر نیچے، آگے پیچھے بھی ہو جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ جتنے مرے، اس سانحہ کے دوران اس سے زیادہ پیدا بھی تو ہو گئے ہوں گے۔ ان کے لئے عام شہری آئی ڈی کارڈ نمبر کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ دنیا بھر میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں دس بارہ افراد ہلاک ہوجائیں وہ ان کی یاد میں صدیوں دن مناتے اور انہیں یاد رکھتے ہیں مگر یہاں ایک ایسا مکینزم بن گیا ہے جس کے ہم سب عادی ہو گئے ہیں، قاتل بھی، مقتول بھی، لاشوں پر رونے والے بھی اور حکومتی عہدے دار بھی۔میں نے شروع میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کا ذکر کیا، یقین مانیں ہمارے چینلز نے اس خبر پر ہی صحیح طرح سے فوکس نہیں کیا کہ کہیں الیکشن ریٹنگ کے چکر میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ بقول شاعر 

یہ تمہاری تلخ نمائیاں کوئی اور سہہ کے دکھا تو دے
یہ جو ہم میں تم میں نبھا ہے میرے حوصلے کی بات ہے

جب ہمارا بطور قوم یہ حال ہوگا تو پھر احساس محرومی بڑھتا ہے۔ نئی حکومت کو آئندہ نسلوں ’’سویلین شہداء ‘‘ کے حوالے سے با خبر رکھنے کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈز کے تحت چھپنے والی درسی کتابوں میں اسباق شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ جس طرح افواج پاکستان کے شہدا کے تذکرے سے ان کی یادیں روشن کی جا رہی ہیں، اور اسی طرح پولیس کے شہداء کی یاد بھی نئی نسل کے سامنے اجاگرکیا جا رہا ہے اسی طرح ان سویلین شہداء کا بھی کوئی وارث ضرور ہونا چاہیے!!!