!’’الیکٹیبلز ‘‘ کی شکست ہی تبدیلی ہے


الیکشن کمیشن کے حتمی نتائج کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ اب اسے حکومت سازی کا جو جمہوری حق بنتا ہے وہ تو کم از کم ملنا چاہیے۔ لیکن ن لیگ، پی پی پی، ایم ایم اے سمیت دیگر چھوٹی سیاسی جماعتیں کسی بڑے سر پھٹّول کے بغیر بروقت عام انتخابات منعقد ہونے اور پی ٹی آئی کی ملک گیر مقبولیت کے باعث جلن، تن بدن میں آگ لگنے اور اضطرابی کیفیت کی شکایات بڑھ گئی ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد عمران خان کے پہلے خطاب سے عام شہری کافی مطمئن ہیں اور انہیں یہ یقین ہے کہ عمران خان نے جو وعدے کیے ہیں ان پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام کا یہ اعتماد اپنے 22 سالہ سیاسی کیریئر میں حاصل کیا ہے جس میں انہوں نے غریب عوام اور بچوں کے دیے ہوئے پیسوں سے لاہور اور پشاور میں دو کینسر ہسپتال بنائے ہیں جہاں 70 فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، تیسرا ہسپتال کراچی میں زیر تعمیر ہے جبکہ گاؤں میں نمل یونیورسٹی بنائی ہے جہاں زیادہ تعداد میں غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ باتیں میں اس لیے کر رہا کہ عمران خان کی متوقع ٹیم نالائق ہی سہی مگر ان کرپٹ سیاستدانوں سے سے ہزار گنا بہتر ہوگی۔ اور میں نے پچھلے کالم میں بھی یہی کہا تھا کہ انہیں کام کرنے دیا جائے، ملک جن حالات سے گزر رہا اب یہ ملک کسی طرح سے بھی پرتشدد سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ 
ہمیں یقین واثق ہونا چاہیے کہ تبدیلی ضرور آئے گی اور ایسی تبدیلی آئے گی جس کا ہم سب انتظار کر رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تبدیلی کا پہلا مرحلہ عوام سے شروع ہو رہا ہے جنہوں نے روایتی سیاستدانوں جن میں زیادہ تعداد ’’الیکٹیبلز‘‘کی ہے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ویسے تو بہت سے برج اُلٹے ہیں جن کا ہر جگہ ذکر ہو چکا ہے لیکن ہم یہاں اُن الیکٹیبلز کی بات کریں گے جو دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ اور اگر عمران خان کو اُن کے چند لوگ یہ نہ کہتے کہ الیکٹیبلز کے بغیر وہ نہیں جیت سکتے تو شاید عمران خان بغیر مخالفت کے سولو وکٹری حاصل کرلیتے ۔ کیوں کہ یہ انہی لوٹے اور نام نہاد الیکٹیبلز کے آباؤ اجداد تھے۔ جن کو قائداعظم ؒ نے کھوٹے سکے کہا تھا، اوران سے بے زاری اور مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ انگریز استعمار کے پروردہ جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں اور سرداروں کے استحصالی جتھے اپنے طبقاتی اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے انگریز استعمار کے ہاتھ مضبوط کرتے رہے۔ آزادی کی تحریکوں کو کچلنے اور عوام کا بے رحمی سے خون بہانے میں استعماری قوت کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہی طبقے ملک کو ایک جمہوری، خوشحال، ترقی پسند اور روشن خیال ریاست اور سماج بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے۔ یہ طبقات انگریز کی پروردہ سول بیوروکریسی اور فوجی جرنیلوں کی آمرانہ حکومتوں کو قائم کرنے میں ایک موثر آلہ کار بنتے رہے ہیں۔اور ملک ان لٹیروں، ڈاکوؤں اور کرپشن کرنے والوں سے کھوکھلا ہوگیا ، بقول شاعر 

امیرِ شہر نے الزام دھر دیئے ورنہ
غریبِ شہر کچھ اِتنا گناہگار نہ تھا

لیکن اس بار الیکشن 2018ء میں70 سال بعد عوام نے جس آگہی اور شعور کا مظاہرہ کیا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے پارٹی بدلنے والوں کو یکسر مسترد کیا۔ہر بار کی طرح اس بار موسمی پرندوں کا ٹھکانہ تحریک انصاف تھی جہاں سب نے بسیرا کیا۔ قومی و صوبائی اسمبلی پر درجنوں پرانے سیاستدانوں کو پارٹی میں شامل کیا گیا۔ جن کو پارٹی میں اس لیے شامل کیا گیا کہ وہ پارٹی کو سیٹ جیت کر دیں گے ان میں سے90فیصد بری طرح ہار گئے۔ ہارنے والے الیکٹیبلز میں فردوس عاشق اعوان، غلام مصطفےٰ کھر، صمصان بخاری، نذر محمد گوندل، رانا نذیر ان کا بیٹا عمر نذیر، سردار ذوالفقار خان کھوسہ،منظور احمد وٹوں ان کا بیٹا، سابق سپیکر صوبائی اسمبلی افضل ساہی، ذوالقرنین، ڈاکٹر نثار، ظفر اللہ چیمہ، ڈاکٹر سہیل احمد چیمہ، رضوان اسلم بٹ، میاں مظہر ان کا بھائی طارق محمود، سردار آصف احمد علی، فاطمہ طاہر چیمہ،علی اصغر منڈا،اعجاز ڈیال، منشا سندھو، محمد احمد چٹھہ، ندیم افضل چن، امیر بخش بھٹو، شاہنواز جتوئی، احسان جتوئی صداقت علی جتوئی، زیب نیازی سمیت دوسری پارٹیوں سے لیے گئے درجنوں الیکٹیبلز شامل ہیں۔ 
ان الیکٹیبلز کے حوالے سے اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ مفاد پرست ٹولہ ہر دور میں ملک کے لیے مسائل کھڑے کرتا رہا ہے۔ تاریخ پاکستان کے بننے کی ابتدا میں ہی 16 اگست 1947ء میں نواب ممڈوٹ کی سربراہی میں پنجاب کے صوبے میں مسلم لیگ کی حکومت بنتی ہے اور اس میں ممتاز دولتانہ اور سکندر حیات خان وزارت کا قلم دان سنبھالتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ یہ جاگیردار قائداعظم کی زندگی میں ہی کیسی کیسی سازشیں شروع کرتے ہیں اور اسمبلی ممبران کو مویشی منڈی کے جانور بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ پھر جنرل ایوب خان کا دور یاد کرلیں یہی مفاد پرست مسلم لیگ کنونشن کے سائے تلے جمع ہوتے ہیں اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایک ڈکٹیٹر کا ساتھ دیتے ہیں۔پھر یہی بھٹو کی پارٹی میں آجاتے ہیں ۔یہی جاگیردار یہی الیکٹیبلز ضمیروں کو بیچنے والے دھڑا دھڑ عوامی مقبولیت حاصل کرتی اس پارٹی میں جائے پناہ حاصل کرتے ہیں 1977ء کا دور آتا ہے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کی دیر ہوتی ہے ان بے ضمیروں کو ایک ڈکٹیٹر ضیاالحق اپنا آقا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے مجلس شوری سے لیکر غیر جماعتی اسمبلی کا سفر کس سے پوشیدہ ہے۔ جونیجو کی حکومت ختم کی جاتی ہے ایک ہی روز میں اسی سیاسی پارٹی میں جوتیوں میں جو دال بٹتی ہے اور اس میں نواز شریف ’’ووٹ کوعزت دو‘‘کا نعرہ لگانے والے کا جو کردار سامنا آیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پھر جس طرح مصر میں بازار لگتا تھا اسی طرح یہاں بھی چھانگا مانگا کے جنگلوں میں یہ لوگ بکتے ہیں۔ بی بی کے پہلے دور حکومت میں عدم اعتماد کی تحریک میں ایک دفعہ پھر ضمیر بکتے ہیں پھر آئی جے آئی بنتی ہے سرمایہ صرف جسم اور وجود کی خرید کا ذریعہ ہی نہیں بنتا ضمیر بیچنے اور خریدنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
آج جس تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے یہی حقیقی تبدیلی ہے۔ اب عوام اسی تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ عوام نئے لوگوں کو اپنا نمائندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ابھی کچھ نمائندے ہیں جن پر کرپشن کے کئی مقدمات ہیں مگر پھر بھی وہ پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے۔ لیکن اگلی دفعہ شاید وہ بھی اسمبلیوں میں نہ ہوں۔ ان کے ساتھ ساتھ لاہور میں پی ٹی آئی کی نشستیں جیتے والوں میں واحد پی ٹی آئی کا چہرہ حماد اظہر ہے ، جو اصل پی ٹی آئی کا چہرہ ہے۔ حماد اظہر سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کا فرزند اور میاں اظہر سے زیادہ حیران کر دینے والی شخصیت بھی دوسری کوئی نہیں ۔میاں اظہر جیسے کردار اب صرف کہانیوں میں ہی دکھائی دیتے ہیں ورنہ تو زمانہ وارداتیوں کا ہے۔ اس کے ساتھ فیصل آباد سے فرخ حبیب جیسے کھلاڑیوں نے بھی تحریک انصاف میں جان ڈالی ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے جس پڑھے لکھے طبقے نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا وہ یہی لوگ ہیں۔ جنہیں سپورٹ کیا جانا چاہیے۔کسی اور سیاسی جماعت میں شاید ہی کوئی ان کا ہم پلہ ہو۔ نیک ناموں اور خاندانیوں کے یہ بچے پی ٹی آئی کی طرف سے لاہور اور اہل لاہور کے لئے بیش قیمت تحائف سے کم نہیں تو بوجھ بھی نہیں، ان کو تن من دھن سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان کی ’’یوتھ‘‘ نازک اور اہم ترین ذمہ داریاں اٹھانے نبھانے کے قابل ہیں۔ ان کے لئے چیلنج عام نوجوانوں سے کہیں زیادہ اس لئے بھی ہے کہ قدرت نے انہیں اچھے خاندان، نیک نام بڑوں، دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں کی تعلیم اور خوشگوار شخصیتوں سے بھی نوازاتو ان کا فرض ہے اس پیکیج کی عزت کریں، اس کی لاج رکھیں اور میری دعا ہے کہ ان کا کل ان کے آج سے کہیں زیادہ روشن اور تابناک ہو۔
قارئین وطن عزیز میں بہت سے مسائل ہیں جن کا حل کیا جانا ابھی باقی ہے۔ ابھی الیکشن اصلاحات میں بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ الیکشن تکنیک کے کھلاڑیوں کو اس میدان سے بھگانے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان الیکشن تکنیکس کے حوالے سے مزید باتیں اگلے کالم میں کریں گے تاکہ قارئین کو بھی علم ہو سکے کہ عمران خان کو آخر الیکٹیبلز کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی تھی؟ ہمیں ان روایتی سیاستدانوں کی تکنیک سے بچتے ہوئے نیا پاکستان تشکیل دینا ہے تاکہ آئندہ کوئی کرپٹ حکومت اس ملک پر قابض نہ ہو سکے اور ملک یونہی پھلتا پھولتا رہے ۔