!مبارک ہو عمران خان


مبارک ہو! عمران خان کو، اُن کی پوری ٹیم کو ، ’’ٹائیگرز‘‘ کو اور عوام کو کہ انہوں نے اس بار دو روایتی کرپٹ پارٹیوں کو شکست سے دو چار کر کے عمران خان کو بھرپور موقع فراہم کیا ہے۔ جس وجہ سے تادم تحریر رزلٹ آنے تک تحریک انصاف اگلے پانچ سال کے لیے مرکز، کے پی کے اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ گزشتہ 3سال سے راقم نے ن لیگ کے خلاف لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔ اب کوئی اگر یہ پوچھے کہ تین سال کیوں؟ پانچ کیوں نہیں؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ جب نئی حکومت (خواہ کسی کی بھی ہو )بنتی ہے تو اسے ضرور موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔۔۔ اُسے ڈلیور کرنے کا موقع دینا چاہیے ، کیوں کہ نئی نویلی حکومت کے پہلے چار چھ ماہ’’ ہنی مون‘‘ پیریڈ ہوتا ہے۔ اُس کے بعد اگلے ایک دو سالوں میں اُس کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے کہ اُس نے جو ٹیم اناؤنس کی ہے وہ کتنے پانی میں ہے؟ اُس کی پالیسیاں کیا ہیں؟ اس کا منصوبہ کیا ہے؟وہ قرض لے کر معیشت چلانے پر یقین رکھتی ہے یا ملک کے اندر سے وسائل کو استعمال کرکے معیشت کی بہتری کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے؟ اب گزشتہ حکومت کی بات کی جائے توگزشتہ حکومت چونکہ پہلے دو تین ماہ کے اندر آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی اور ریکارڈ ساڑھے سات ارب ڈالر کا قرضہ آٹھ اقساط میں حاصل کرنے میں ’’کامیاب‘‘ ہوئی۔ اس کے بعد تو سابق حکومت کو قرضہ لینے کی ایسی لت پڑی کہ وہ چھوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ اس وجہ سے گزشتہ حکومت کے لچھن پہلے دو سال میں ہی پتہ چل گئے تو راقم نے قلم کے ذریعے احتجاج کرنا شروع کر دیا کہ حکومت جو کر رہی ہے وہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ اُس کے بعد قوم نے دیکھاکہ کس طرح ہمارا قرضہ بڑھتا رہا، امپورٹ بڑھتی رہی، ایکسپورٹ ختم ہو کر رہ گئی اور ملک دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ گیا۔ 
کون نہیں جانتا کہ ہمارا اصل مسئلہ کرپشن ہے جس کے بچے غربت،لاقانونیت اور میرٹ کی پامالی ہیں، تو آپ خود ہی فرمائیے کہ کرپشن میں کون اپنا ثانی نہیں رکھتا؟ کس نے ہماری آنے والی نسلوں تک کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا؟ کس نے 5برس کے دوران ملکی قرض میں10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ کیا اور کس نے 4سال میں 35 ارب ڈالر کے اضافے سے ایک نیاریکارڈ بنا ڈالا، پھر بھی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے اتنی خراب ہو گئی کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر سکڑ کر چند دن کے لئے رہ گئے جبکہ انکی کم از کم حد تین مہینے کے لئے ہونی چاہیے؟ کس نے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے ملک و قوم کو کنگال کر دیا؟ ملک کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ کر بھی کیا میاں برادران اور زرداری اینڈ سَن کو توفیق ہوئی کہ اپنی جیب سے معمولی رقم بھی فلاحِ عامہ یا چیف جسٹس کے بنائے گئے ڈیموں کے منصوبے کو دے دیں۔
اب جبکہ عمران خان جو ایک بار پھر مبارکباد کے مستحق ہیں کو ڈلیور کرنا ہوگا۔اور شروع کے ایک دو سال میں ہی کارکردگی سامنے آنی چاہیے۔ ورنہ یہ قلم طنز و تنقید کے نشتر چلائے گااور خوب چلائے گا۔ کیوں کہ عمران خان اس قوم کے لیے آخری اُمید ہیں اور عوام نہیں چاہتی کہ جو عمران خان نے ’’الیکٹیبلز ‘‘کے نام پر لوٹے، لٹیرے، ڈاکو، بدکردار ، کرپٹ، آزمائے ہوئے اور مفاد پرست عناصر اکٹھے کر لیے ہیں ، جن کی ایک حد تک ضرورت تھی انہیں آگے آنے دیا جائے۔ عوام یہ بھی نہیں چاہتے کہ حکومت کی ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو معیشت کو تباہی کی طرف لے کر جائیں،آخری خبریں آنے تک جمائما نے بھی عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے یہی کہا ہے کہ’’ وہ عوام کو ایسا پاکستان دیں جسکا انہوں نے وعدہ کیا ہے‘‘۔ کیوں کہ موجودہ حالات میں کاروبار بند ہیں، ملیں، فیکٹریاں اور اربوں روپے پاکستان میں انویسٹ کرنے والے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس لیے اب وہ کابینہ بننی چاہیے وہ ایکشن ہونے چاہیے، جو اس ملک کے عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق ہوں۔ ایسی وزراتیں تشکیل دینی چاہییں جو اچھے اور ایماندار لوگوں پر مشتمل ہوں۔ تاکہ عمران خان نہ صرف دیے گئے 100روزہ ایجنڈے پر عمل کر سکیں بلکہ تحریک انصاف کم از کم اگلے پانچ سال اپنے منشور پر ہی عمل کرلے ، اگر ایسا ہوگیا تو وہ تاریخ میں اپنا نام پیدا کر سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کی یقینی جیت کے بعد عوام نے آخر کار تھرڈ پارٹی پر یقین کر ہی لیا۔ اگر جذبہ سچا ہے، اور واقعی کرنا چاہتے ہیں تو دنیا میں کیا نہیں ہوسکتا۔ پی ٹی آئی کو حقیقت میں ڈلیور کرنا ہوگا ورنہ عوام اسے بھی روایتی اور کرپٹ پارٹی تصور کر لیں گے۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے کے پی کے میں پانچ سال ملے ،صوبہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا تھا، پھر بھی بہت زیادہ مثالی نہیں لیکن وہاں کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔ اب عمران خان کو اپنے 100دن کے پلان پر بھی عمل کرنا ہے۔ آج ’’پی ٹی آئی‘‘‘ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ کیوں کہ یہ ہماراآج ہے، آنے والا کل انشاء اللہ اس سے کہیں بہتر، برتر اور خوبصورت ہوگا۔پہلے 100روزہ پلان جو بھی ہو نیت صاف ہوگی تو عمران خان سرخرو ہوگا۔ ورنہ اس کے لیے مشکل کے پہاڑ کھڑے کرنے والے بہت سے ہوں گے اور اب تو سنا ہے کہ یہ دونوں بڑی پارٹیاں الیکشن کے بعد خوب شور مچانے کا باقاعدہ پروگرام رکھتی ہیں ۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو میرے خیال میں اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہوگی۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ عوام کو ڈلیور کیا کر رہا ہے؟ ہمیں اپنا نہیں تو کم از کم اپنی آنے والی نسلوں کا ہی کچھ خیال کرنا چاہیے اور سوچناچا ہیے کہ انہیں ہم سے وراثت میں کیسا معاشرہ ملے گا ؟مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا لیکن ہم تو تین تین بار ڈسے جا چکے ہیں۔بار بار آزمائے ہوؤں کو پھر آزمانے سے کیا بہتر نہیں کہ اس مرتبہ کسی عمران خان کو آزما لیاجائے؟اس لیے خدارا پوری قوم عمران خان کا ساتھ دے، اس کی لیڈر شپ میں اس ملک کو ترقی ملنی چاہیے، جس کے لیے وہ اکیلا خود کچھ نہیں کر سکتا جب تک عوام کا ساتھ نہ ہو۔ ملائشیا جب مہاتیر محمد کو ملا تو کیا تھا؟کرپٹ ترین ملک تھا، مہاتیر نے اسے ایشیائی ٹائیگر بنا دیا۔ ترکی جب اردوان کو ملا تو کیا تھا؟شورش زدہ ملک تھا جہاں خانہ جنگی کا ہر وقت کھٹکا لگارہتا تھا، اردوان نے اسے یورپ کے سامنے مضبوط معیشت بنا کر کھڑا کر دیا، چین کیا تھا؟ سری لنکا کیا تھا؟ جنوبی افریقہ کیا تھا؟ ان سب ملکوں کو شفاف قیادت نے ترقی کے زینوں تک پہنچایا ہے۔اور سب سے بڑھ آپؐ کو کیسا معاشرہ ملا تھااور انہوں نے لیڈر شپ کے ذریعے کمال کیا۔ لیکن اس کے برعکس ہماری بدقسمتی رہی کہ ہمیں ہمیشہ جھوٹے سیاستدان ملتے ہیں ، ایسے سیاستدان جو جھوٹے وعدے کرتے رہے ۔ جبکہ لیڈر شپ کا تقاضا ہی یہی ہے کہ آپ کو کمزور ملک ملے اور آپ اسے ترقی کے زینے طے کروا کر آسمانوں تک پہنچا دیں۔ 
لہٰذانواز شریف ہو یا شہباز شریف، آصف زرداری یا مولانا فضل الرحمن، اور باقی تمام جماعتوں کے رہنما اہم گزارش ہی کرسکتے ہیں کہ خدا کے واسطے پاکستان کے مفادات دیکھیے۔ ذاتی زندگی اپنی جگہ اختلافات اپنی جگہ، سیاسی نظریات اپنی جگہ، لیکن ضابطہ اخلاق بہتر ہو، سوچ میں حب الوطنی اور عوام سے محبت ہو تو آپ کی اونچی اڑان کوئی روک نہیں سکتا۔عمران خان کو پورا موقع دیں۔ وہ عوام کو ڈلیور کرے گا ۔ اور اگر نہ کر سکا تو ہم جیسے ادنیٰ سے کالم کار بھی آپ کی صفوں میں کھڑے ہو کر عمران خان کو برا بھلا کہیں گے۔ مگر اس وقت ملک کو قیادت کی ضرورت ہے۔ میں مانتا ہوں کہ عمران خان صاحب کی سیاست کا محور ہمیشہ روایتی سیاست کی مخالفت رہا۔ ان کو اپنے اصولوں اور طریقہ کار پر بلا کا اعتماد ہے۔ وہ بڑے خواب دیکھنے کے نہ صرف خود عادی ہیں بلکہ اپنے ٹائیگرز کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ ناممکنات کے حصول کیلیے پہچانے جانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کثیر تعداد میں ناتجربہ کار نوجوانوں کو عملی سیاست کا حصہ بنایا، تعلیم، صحت، پولیس و پٹوار کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا اور ان کے درپردہ اس بوسیدہ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف لڑنے کا وعدہ کیا۔نوجوانوں ان کے ساتھ جڑا رہا وہی نوجوان، وہی نووارد طبقہ ان کے کندھے سے کندھا ملائے دھرنے دیتا دکھائی دیا، گرفتار ہو کر جیلوں میں بھرا گیا، آنسو گیس اور ڈنڈا بردار حکومتی جبر کا نشانہ بنا مگر آپ سے چمٹا رہا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا تھا کہ عمران خان جیت رہا ہے۔ اس کی سوچ جیت رہی ہے، اس کا آئیڈیلزم جیت رہا ہے۔اس نوجوان کو بہت سمجھایا گیا کہ خان صاحب کو سیاست نہیں آتی، معاملہ فہمی سے عاری ہیں، سیاسی تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے اور ناتجربہ کار ہیں۔ لیکن پاکستانی نوجوان خان صاحب کی انہی خامیوں کو ان کی اچھائیاں گردانتا رہا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ نظام ہار رہا ہے، سیاسی اشرافیہ خائف ہے اور پرانے نظام میں نئے خون کی آمیزش تبدیلی کی نوید ہے۔یہ درست ہے کہ الیکشن جیتے بغیر آپ اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے تھے۔ بقول شاعر 

جن کے رتبے ہیں سوا
ان کی سوا مشکل ہے

 

اب اُمید یہی کرتے ہیں کہ خان صاحب اپنی ایک ایسی ٹیم بنائیں گے جن کی نیت پر کوئی شک نہ کر سکے، جو ڈلیور کرسکیں، جو عوام کے دل جیت سکیں اور سب سے بڑھ کر جو اس ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکیں( نئے پاکستان کی سب کو مبارکباد اللہ تعالیٰ اس ملک کا حامی و ناصر ہو)