!شوق نیلسن منڈیلا بننے کا


آج کل پاکستان میں کرپشن کے کیسز میں قید ایک شخص پر نیلسن منڈیلا بننے کا بھوت سوار ہے۔ اُس شخص نے شاید نیلسن منڈیلا کی تاریخ کو پڑھنا تو دور کی بات کسی سے سنا بھی نہیں ہوگا۔ ورنہ وہ اُس کا نام لیتے ہوئے بھی کوسوں دور رہتے ۔نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کا وہ لیڈر ہے جس نے نسلی امتیازکو نہ صرف اپنے ملک میں ختم کیا بلکہ دنیا بھر کو اس موذی مرض سے نجات دلائی۔نیلسن کی پیدائش 1918ء میں جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی ۔ وہ مدیبا قبیلے سے تھے اور جنوبی افریقہ میں انہیں اکثر ان کے قبیلے کے نام یعنی مدیبا کہہ کر بلایا جاتا تھا ، ان کے قبیلے نے ان کا نام ’’رولہلاہلا دالب ہگا‘‘ رکھا تھا لیکن ان کے اسکول کے ایک ٹیچر نے ان کا انگریزی نام نیلسن رکھا ، ان کے والد تھیبو راج خاندان میں مشیر تھے اور جب ان کی وفات ہوئی تو نیلسن منڈیلا 9 سال کے تھے ۔ ان کا بچپن تھیبو قبیلے کے سربراہ جوگنتابا دلندابو کی نگرانی میں گزرا ، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور 1952ء میں جوہانسبرگ میں اپنے دوست اولیور ٹیبو کے ساتھ وکالت شروع کی ان دونوں نے نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مہم چلائی۔ اور سیاسی پارٹیوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ 1949ء میں سیاسی جماعت اے این سی میں عہدہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ وہ ہر جگہ سیاہ فارم لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک دیکھتا تو بہت افسردہ رہتا۔اور اُن کے لیے کوشش کرتا رہتا۔1952ء میں نیلسن منڈیلا پہلی بار گرفتار ہوئے۔ مارچ1960ء میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا۔ شارپ ویل میں سیکورٹی فورسز نے ایک مظاہرے میں شریک 69 سیاہ فاموں کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ 400سے زائد زخمی ہوئے۔اس قتل عام نے تحریک کو پوری دنیا میں پھیلادیا، دنیا بھر کے اخبارات نے اس درندگی کی تصاویر صفحہ اول پر شائع کیں۔ جنوبی افریقہ کے اندر بھی بدترین بحران پیدا ہوگیا۔ اس واقعہ نے تحریک آزادی کو ایک ہی دن میں برسوں کی پیش رفت عطاکی۔ سیاہ فاموں نے اپنے شناختی پاس اجتماعی اندازمیں جلاناشروع کردئیے۔
تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی تو منڈیلا کو ایک بارپھر گرفتارکرلیاگیا۔انھیں ایک ایسی کوٹھڑی میں بندکردیاگیا جس کے فرش میں اجابت کیلئے بس ایک سوراخ تھا جہاں سے وہ گٹر میں بہادی جاتی تھی۔ اجابت کا سوراخ باربار بند ہوجاتاتھا جس کے نتیجے میں کوٹھڑی میں ناقابل برداشت صورت حال پیدا ہوجاتی۔ پھر انہیں ایسے کمبل دئیے گئے جو خشک خون اور قے سے بھرے ہوئے تھے اور جن پر جوئیں، کیڑے اور لال بیگ رینگ رہے تھے، ان سے گندے نالے کی طرح بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے تھے۔
منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر طویل مقدمہ چلا تاہم فیصلہ دیتے ہوئے جج نے لکھا ’’ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہاہے کہ اے این سی ایک کمیونسٹ تنظیم ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر جج نے تمام قیدیوں کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔ رہائی کے بعد نیلسن منڈیلا اپنے گھر نہیں گئے بلکہ وہ ایک ایسی مخلوق کا حصہ بن گئے جو اندھیرا چھاجانے کے بعد نمودار ہوتی تھی۔ان کی سرگرمیوں کا مرکز جوہانسبرگ ہی رہا تاہم جب خطرہ زیادہ محسوس کرتے تو کسی دوسرے علاقے کی طرف جانکلتے۔حکومت کسی بھی قیمت پر نیلسن منڈیلا کو گرفتار کرناچاہتی تھی لیکن وہ بھیس بدل بدل کراپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہے تھے۔ انھیں گرفتارکرنے کیلئے جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کی جاتیں، ان کیلئے کوڈورڈ’’ کالاجنگلی‘‘ استعمال ہوتا۔تاہم حکومت ایک عرصہ تک اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔
اس دوران منڈیلا نے زیرزمین رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے ملک کا خفیہ دورہ کیا۔ کیپ ٹاؤن کے مسلمانوں، نٹال کے شوگرورکرز اور پورٹ الزبتھ کے فیکٹری ورکرز سے ملاقاتیں کیں۔متعدد بار منڈیلا پولیس والوں کے عین درمیان میں ہوتے تھے لیکن اہلکار ’’کالے جنگلی‘‘ کی موجودگی سے بے خبر رہتے۔ایک بارایک پولیس اہلکارنے پہچان لیا، منڈیلا کویقین ہوگیاکہ گرفتاری کا لمحہ آن پہنچا لیکن اہلکار نے انھیں آنکھ کے اشارے سے نکل جانے کا اشارہ کردیا۔اس طرح کے بہت سے واقعات رونما ہوئے ، پولیس اہلکاروں کو اپنا طرفدار پاکر منڈیلا کا عزم وہمت کئی گنا زیادہ بڑھ گیا۔پھر منڈیلا نے اپنی حکومت کے خلاف گوریلا اور مسلح تحریک بھی شروع کی ۔ جسکی وجہ سے حکومت نے اے این سی کو غیرقانونی قرار دے کر پابندی عائد کردی۔اس دوران منڈیلا نے ایتھوپیا سے الجزائر تک دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ واپسی پر5اگست1962ء کو بچوں سے ملنے کیلئے جاتے ہوئے دھر لئے گئے۔اسی دوران ان پر مزید مقدمات بھی قائم کئے گئے۔کہاجاتاہے کہ ان کی مخبری ایک امریکی سفارت کار نے کی تھی۔قریباً دوبرس تک مقدمہ چلا جس کے بعد انھیں عمرقیدکی سزا سناکر جزیرہ روبن میں قیدکردیاگیا۔ یہاں انھیں1982ء تک رکھاگیا۔اس جیل میں چند فٹ کا ایک کمرہ تھا، جہاں صرف ایک مضبوط کھڑکی تھی، ایک گندہ واش روم اورایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ اس دوران اے این سی کی گوریلاکارروائیاں جاری رہیں جس نے جنوبی افریقن حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ چنانچہ گیارہ فروری1990ء کو انہیں رہاکردیاگیا۔ اگلے برس منڈیلا اے این سی کے صدرمنتخب ہوئے،1993ء میں انھیں نوبل امن انعام دیاگیا۔1994ء میں ملک میں پہلی بار سیاہ فاموں کو برابری کا درجہ دے کر انتخابات منعقد کرائے گئے جن میں منڈیلا کو قوم نے بھاری اکثریت سے ملک کا صدر منتخب کرلیا۔
منڈیلا 76برس کی عمر میں ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔صدر بنتے ہی انہوں نے کسی عابد باکسر یا راؤ انوار جیسے لوگوں سے مخالفین کو مروانے کے بجائے سب کو معاف کر دیا۔ وہ اکیاسی برس کی عمر تک یہ بھاری بھرکم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے، انھوں نے وطن کی ازسرنوتعمیر اور ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انھوں نے پوری دنیا کے باسیوں کو یہ سبق دیا کہ جب سماج میں بڑی تبدیلی پیدا کرکے انصاف کا نظام قائم کرنے اور اپنے ملک کو دنیا کی بہترین جگہ بنانے کا جذبہ ہوتو عمرکو خاطر میں نہیں لایاجاتا۔
بی بی سی نے 1999ء میں نیلسن مینڈیلا کا انٹرویو کیا،اینکرنے انٹرویو کے دوران نیلسن مینڈیلا سے پوچھا ، آپ کے خیال میں سیاستدان اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے؟نیلسن مینڈیلا نے مسکراتے ہوئے جوا ب دیا، سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے اور لیڈر اگلی ’’نسل ‘‘ کا۔ اینکر نے اگلا سوال پوچھا۔آپ کے خیال غربت کو ختم کرنے کا آسان ترین فارمولا کیا ہے؟ نیلسن مینڈیلا کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ گہری ہو گئی، نیلسن مینڈیلا تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر بولے، غربت کو ختم کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ایک ہی ہے اور وہ ہے سستا اور فوری انصاف۔ 
اب آتے ہیں پاکستانی منڈیلا کی طرف جسے آج کل اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ وہاں کے باتھ روم، کچن ، چارپائی اور مچھر کھانے کو دوڑ رہے ہیں، حالانکہ موصوف اسی ملک کے تین دفعہ وزیر اعظم بنے اور جیلوں کا معیار بھی انہی کی مرہون منت ہے۔ پھر اسی جیل سے وہ بزدلی اور سہل طلبی کا طعنہ وصول کرکے 1999 میں ایک آمر کے ساتھ ’’ڈیل‘‘ کر کے سعودی عرب میں جلاوطنی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھاجو انکے سیاسی کیرئیر پر ایک داغ بن گیا۔ عام خیال یہی تھا کہ خوش خوراکی کے رسیا اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے عادی نواز شریف جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے اور یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ یہ جیل 1986 میں راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر، ڈسٹرکٹ کورٹس سے 13 کلومیٹر دورایک نئی جیل تعمیر کی گئی جسے سنٹرل جیل راولپنڈی کا نام دیا گیا۔ یہ اڈیالہ جیل سے ہی مشہور ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مشرف آمریت میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاکے تحت گیارہ فروری 2001 میں گرفتار کیا گیا اور پانچ برس بعد وہ سات اکتوبر 2006 میں اڈیالہ جیل سے رہا ہوئے۔ زرداری بھی اسی جیل میں ایک عرصہ تک قید رہے۔
لیکن پاکستانی ’’منڈیلے‘‘جنہیں قید ہونے کے شوق نے جیل کی صعوبتوں سے کوسوں دور رکھا ہوا ہے۔ وہ نیلسن منڈیلا کبھی نہیں بن سکتے۔ وہ نظریاتی لیڈر تھا، یہ کرپشن کے ان داتا ہیں، یہ نازک لوگ ہیں یہ جیلیں نہیں کاٹ سکتے ۔اگر یہ جیل میں آئے بھی ہیں تو کسی ڈیل کے چکر میں آئے ہیں۔ یا عنقریب کچھ ہونے والا ہے۔ جس کی نوید شاید نواز شریف کو پہلے سنا دی گئی ہو۔ دوست احباب کہیں سے بغاوت کی باتیں بھی سنا رہے ہیں مگر جو ہوا وہ ملک کے لیے کم از کم بہتر نہیں ہوگا۔ خیر کہاں 8فٹ کی منڈیلا کی کال کوٹھڑی اور کہاں جیل میں بہترین سہولتوں کے ساتھ رہنے والا شخص ۔ چلیں آپ منڈیلا کو چھوڑیں اپنے ہی لیڈر بھٹو کے بارے میں تاریخ کھنگال لیں جسے ڈسٹرک جیل راولپنڈی میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر مجال ہے کہ انہوں نے ایک بھی رعایت مانگی ہو۔ حالانکہ وہ اس سے بڑے نواب کا بیٹا تھا۔ اور مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ وہ بیٹی کے حوالے سے ہمدردیاں کیوں بٹورنا چاہتے ہیں، جب مریم سیاست میں آگئی ہیں اور ہر قدم میں نواز شریف کی جانشین ہیں تو پھر وہ سیاسی خاتون بن چکی ہیں۔ اور جب اپنی بیٹی کی باری آئی ہے تو کہا جا رہا ہے کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں تو کیا دوسروں کی دفعہ بیٹیاں سانجھی نہیں تھیں۔جب بے نظیر کے ساتھ برا سلوک ہو رہا تھا، شرمیلا فاروقی، امینہ کے ساتھ ظلم ہورہا تھا اُس وقت ان کو بیٹی کا رشتہ یاد نہیں آیا کرتا تھا۔ لہٰذاجیل کو سیاست کے طور پر استعمال نہ کریں، ملک میں اسی صورت انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے جب اداروں کا احترام کیا جائے اور احترام یہی ہے کہ انہی حالات میں اپنی سزا پوری کریں تاکہ ہمارے ملک میں بھی عدلیہ کی سربلندی ہو سکے اور ایک اعلیٰ مثال قائم ہوجائے۔