! اندرونی سازشیں اور کامیاب نگران حکومت


پاکستان کی تاریخ میں وہ دن بھی آگیا جب بڑے مجرم اڈیالہ جیل پہنچ گئے، مسلم لیگ ن کے حواریوں نے اسے ’’سیاسی ایونٹ‘‘ بنانے کی بھرپور کوشش کی مگر نگران حکومت نے کامیابی سے اپنا ٹاسک پورا کیا جسکی وجہ سے ن لیگ کے کارکنوں کے ’’سمندر‘‘ کی کوئی ایک موج بھی ایئرپورٹ کے قریب نہ پہنچ سکی۔ حالانکہ سیاسی پنڈتوں کو اُمید تھی کہ چلو سمندر نہیں، اس کی کوئی موج نہیں تو کم ازکم پانی کی نمی تو وہاں تک جائے گی۔ لیکن کیا کریں کہ ن لیگ نہیں بلکہ شہباز لیگ کے کارکنوں کے سمندر کی موجوں کا سارا طلاطم مال روڈ پر بہتے بہتے دھرمپورہ پہنچ کر گھروں کو چلاگیا۔کئی لیگی قائدین نے ڈرامے بازی بھی کی تاکہ ان کے نمبر بن سکیں۔ مثلاََدانیال عزیز نے کشتی (بیڑہ )پر گاڑی رکھ کر دریا عبور کرکے لاہور پہنچنے کی حقیر سی کوشش کی۔ کئی قائدین نے جان بوجھ کر گرفتاریاں دیں تاکہ فوٹو سیشن ہو سکے۔ اورکچھ تو گھروں میں ہی ’’نظربند‘‘ ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عوام آج سوال پوچھتے رہے کہ وہ دعوے کہاں گئے جن میں کہا گیا تھا کہ لاکھوں کارکن اپنے تاحیات قائد کا استقبال کریں گے۔ ن لیگی لیڈر یہ دعوے بھی کرتے رہے کہ وہ تمام رکاوٹیں توڑ کر ایئرپورٹ جائیں گے۔ شہباز شریف سب سے زیادہ متحرک نظر آرہے تھے۔ انھوں نے ایک دن پہلے پورے لاہور کا دورہ کیا۔ تیاریوں سے لگتا تھا لاہور میں ن لیگ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوگا اور سب رکاوٹیں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گی۔
مگر افسوس کہ تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ن لیگ کے اندر سے بھی آوازیں اُٹھنے لگیں کہ کیا واقعی اس ایونٹ کو شہباز شریف نے سنجیدہ لیا تھا یا معاملہ کچھ اور لگتا ہے۔ بیس پچیس ہزار لوگ تو گھروں سے نکلے مگر لوگ کہتے ہیں کہ لاہور جہاں ایم این اے کی چودہ نشستیں ہیں اگر ایک نشست سے نون لیگ کاایک امیدوار دس ہزار ووٹرز کو بھی باہر نکال لاتا تو ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ صرف لاہور سے ریلی میں شریک ہوتے۔پورے پنجاب سے تو دس پندرہ لاکھ لوگ جمع ہو سکتے تھے۔نواز شریف کی کابینہ میں جتنے وزیر تھے اگر ہر سابق وزیر ہی آ ٹھ دس ہزار لوگ اپنے حلقے سے لے آتا تو چار پانچ لاکھ جمع ہو گئے ہوتے لیکن کابینہ کے اسی فیصد وزیروں نے خود ریلی میں شرکت نہیں کی۔پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں ن لیگ کے پاس پچانوے فیصد اقتدار ہے۔اگر ہر یوسی چیئرمین صرف دوسو افراد بھی ساتھ لاتا تو لاہور جام ہو گیا ہوتا۔ایک سوال اور بھی ہے۔سابق وفاقی وزیر مشاہد اللہ نے ریلی کا حصہ بننے کی بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایئرپورٹ پر جانے کا پروگرام کیوں بنایا۔ کیا انہیں معلوم تھا کہ شہباز شریف کی ریلی ایئر پورٹ تک نہیں پہنچے گی۔یہ بھی ایک سوال ہے کہ مشاہد اللہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایئر پورٹ تک پہنچ گئے مگرشہباز شریف اپنی ریلی سمیت کیوں نہیں پہنچ سکے۔کیا واقعی ن لیگ کی لیڈر شپ نے نواز شریف کے ساتھ دغا کیا ہے یا لوگ گھروں سے باہر نکلنے کیلئے تیار ہی نہیں تھے۔حتی کہ خواجہ آصف ،سعد رفیق،دانیال عزیز اور احسن اقبال بھی ریلی میں شریک نہیں ہوئے۔کسی اور کی کیا بات کریں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی دکھائی نہیں دئیے۔یعنی نواز شریف کے ساتھ پھر وہی واردات ہو گئی ہے جو گیارہ برس پہلے پرویز مشرف کے دور میں ہوئی تھی۔وہ یہ سوچ کر اسلام آباد پہنچے تھے کہ میرے جہاز کے اترتے ہی پاکستان میں انقلاب آجائے گا۔ لوگ تمام بیرئرز توڑ تاڑ کر مجھے لے جائیں گے مگر جب جہاز اترا تو دور دور تک کوئی نہیں تھااور نیب والے نواز شریف سے کہہ رہے تھے۔ کہ اگلے جہاز میں بیٹھنے کی تیاری کریں ۔ 
حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ جب نواز شریف کا طیارہ جب لینڈ کر رہا تھا تو میں نے اپنی اخبار کے ایک رپورٹر سے رابطہ کرکے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف قافلے کو لیڈ کر رہے ہیں وہ کہاں تک پہنچا ہے۔ نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے رابط تو نہ ہو سکا مگر ٹی وی رپورٹس دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اُس وقت قافلہ ریگل چوک کے قریب پہنچا ہے۔ نواز شریف اور مریم کو اڈیالہ جیل بھی پہنچا دیا گیا لیکن ن لیگ کی ریلی خراماں خراماں چلتی رہی۔ دوپہر 2بجے تک کسی کو علم نہیں تھا کہ ریلی نکلنی بھی ہے یا نہیں؟ اور شہباز شریف 4بجے تک خود ریلی میں نہیں آئے تھے۔ اور انہیں یہ کیسے علم تھا کہ 6بجے ریلی جائے گی اور 8بجے تک پہنچ جائے گی؟ یہ ریلی نہ ہوگئی ’’شہباز سپیڈ‘‘ ہوگئی۔ اور معاف کیجئے گا کہ ایک کروڑ کی آباد کے شہر میں 20 25 ہزار بندوں کی ریلی کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ شہباز شریف 13جولائی کی رات نو بجے تک لاہور شہر کی سڑکوں پر یہی کہتے رہے۔

رقصِ مے تیز کرو ،ساز کی لے تیز کرو
سوئے میخانہ ، سفیرانِ حرم آتے ہیں

یہ ریلی رات گئے دھرم پورہ میں پہنچی اور اپنی طرف سے تاحیات قائد کا استقبال کر کے اختتام پذیر ہو گئی۔ شہباز شریف صاحب نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے انتہائی مختصر خطاب کیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے۔ یہ بھی افواہ نکلی کہ حکومت نے شاید پی ایم ایل این کے ساتھ خفیہ معاہدے کے تحت اُن کے لیے جواز پیدا کیا کہ وہ اپنی پولیٹیکل فیس سیونگ کر سکیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ If End is Good , every thing is good رہی بات رانا ثناء اللہ کو اچھی طرح علم تھا کہ جب وہ اپنی ریلی لے کر فیصل آباد سے نکلے گا تو اس کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہوں گی۔ ساری موٹر وے بند ہے۔ جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی ہوں گی تو کیا پھر یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ہے؟
بہرکیف میرے ذاتی خیال کے مطابق نگران حکومت ہر قسم کے تشدد سے بچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کیا کوئی یہ چاہتا تھا کہ تمام رکاوٹیں ہٹا دی جاتیں اور سارے مظاہریں ائیرپورٹ کے اندر جا کر پوری دنیا میں بدنامی ہوتی ، تو پھر دہشت گردوں اور ہم پاکستانیوں میں کیا فرق رہ جاتا، کیوں کہ دہشت گرد بھی کسی ملک کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ائیرپورٹ یا کوئی انٹرنیشنل مقام کا انتخاب کرتے ہیں۔ نگران حکومت نے تو ایک مجرم کے استقبال کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیے ہیں جبکہ ہر پارٹی دوسروں کے جمہوری حقوق کو پامال کرنے کے لیے یہ اقدام کرتی رہی ہے۔ کیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس کارخیر میں ملوث نہیں رہے؟ کتنی بار موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی۔ ابھی جو چند مہینے پہلے عمران خان کا جلسہ ہوا تھا اسے روکنے کے لیے آپ کو یاد ہوگا کہ کہاں کہاں تک کنٹینر لگائے گئے تھے۔ کتنی تعداد میں گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی تھی، کتنے کھلاڑیوں کو نظر بند کیا گیا تھا۔ اور ویسے بھی ن لیگ کوئی نئی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ اس نے اس سے پہلے بھی اپوزیشن دیکھی ہے۔ اسے اچھی طرح علم تھا کہ 13جولائی کو حکومت کیا کرے گی؟انہوں نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اور نگران حکومت کو بدنام کرنے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا گیا کہ وہ نواز شریف کے لیے آرہے ہیں۔ بہرکیف شہبازشریف ، رانا ثناء اللہ، ایاز صادق، پرویز ملک سمیت ن لیگ کی پوری ٹیم نے اس کے لیے جان بوجھ کر محنت ہی نہیں کی ورنہ اس سے پہلے یہ لوگ کیا کیا کرتے تھے کہ تمام لوگ ایک پہلے لاہور آ جاتے تھے۔ جہاں اپنے عزیزوں رشتے داروں کے گھر ٹھہرتے اور پھر یہاں سے آگے جایا کرتے تھے۔ لہٰذاناقص حکمت عملی یا جان بوجھ کر ایسی حکمت عملی اپنائی گئی کہ لاہور کے قریبی علاقوں جن میں لاہور ڈویژن، گوجرانوالہ ڈویژن،فیصل آباد ڈویژن، ساہیوال ڈویژن شامل ہیں وہاں سے یہ لوگ ایک دن پہلے تک بھی نہ آسکے۔ اور کسی سیاسی ورکر کا یہ کہنا کہ لاہور میں اُس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے یہ سراسر غلط ہے۔ 
آج میں یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہوں کہ شہباز شریف یہ الیکشن ضرور جیتنا چاہتے ہیں لیکن اب وہ بادی النظر میں نواز شریف کی قیادت بھی نہیں چاہتے اور خود وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں ۔ اس لیے اُن کے بیانات، لہجہ اور رویہ بھی اپنے قائد سے مختلف ہوتا ہے۔ ایک تو وہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا وہ تمام قوتوں کو خوش بھی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اُن کے خلاف کرپشن کے مقدمات کے حوالے سے ہتھ ہولا رکھا جائے۔ اور اس تمام صورتحال میں مریم کے لیے میں یہی کہوں گا کہ انہوں نے اپنی سیاست بچا لی ہے اور وہ پراعتماد بھی نظر آئیں اُن کی باڈی لینگوئج بھی پراعتماد تھی۔ اور ایک خاتون ہو کر یہ کس قدر حوصلے کی بات ہے کہ جب انہیں یہ علم نہیں تھا کہ جیل میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی یا عام قیدی کی طرح زندگی گزارنا پڑے گی۔ ایک خاتون ہو کر انہوں نے ہمت دکھائی۔ تمام تر خامیوں اور مخالفتوں کے باوجود اُن کے حوصلے کو داد دینے کی ضرورت ہے۔اور شاید یہی بات شہباز شریف گروپ کو پسند بھی نہیں ہے!!!