!پھر وطن واپسی


لیں جناب !
وہ دن بھی آگیا جس کاتھا شدت سے انتظار!
کہ جس دن اداروں کی جیت ہو گی یا 
چلے گا اُسی ’’فرد واحد‘‘ کا وار !
یہ وہی فرد واحد (مجرم) ہے جو ملک کے تمام اداروں کو کمزور کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ احتساب کا ادارہ ہو، خزانہ ہو، خارجہ ہو، داخلہ ہو، بیوروکریسی ہو یا ملکی سلامتی کے ادارے ہوں اس ’’فراد واحد‘‘ نے جہاں تک بن سکا ان اداروں کو ذاتی مقاصد کے لیے انتہا کی حد تک کمزور کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج جب ایک مجرم (فرد واحد) نواز شریف جو تادم تحریر اپنی بیٹی کے ہمراہ واپسی کے شیڈول کا اعلان کر چکا ہے وہ پاکستان میں آکر کس قدر انتشار کا باعث بنتا ہے۔ کیا وہ ملک میں اداروں کے ٹکراؤ کا باعث بنے گا یا عدلیہ کا احترام کرتے ہوئے اپنی سزا پوری کرنے کو ترجیح دے گایہ تو وقت ہی بتائے گا مگرمیرے خیال میں جب آپ کا سب کچھ داؤ پر لگا ہو تو یہ الیکشن اسٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔اس فرد واحد کی واپسی کے حوالے سے محض نیب کے چیئر مین کا بیان پڑھ لیں ساری صورتحال واضع ہو جائے گی ’’ذاتی یا سیاسی انتقام کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں، اربوں کی کرپشن میں ملوث لوگوں پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں، جن کے پاس 6 مرلے کا مکان نہیں ہوتا تھا آج ان کے دبئی میں ٹاور ہیں، کیا ان سے پوچھا نہ جائے کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔نیب پر سیاسی بنیادوں پر کاروائیاں کرنے کا الزام ہے جس کو مسترد کرتاہوں، نیب کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، جمہوریت کا ہر قدم عوام کی فلاح کے لیے ہوتا ہے، عوام جس کو چاہے اقتدار میں لے آئیں، نیب کا کوئی لینا دینا نہیں تاہم ہمارے ملک میں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کی کوئی جگہ نہیں۔‘‘
چلیں اس بات کی تو خوشی ہے کہ اگر احتساب ہو رہا ہے تو علی الاعلان سب کا ہو رہا ہے۔ اکیلے شریف خاندان کا نہیں ہو رہا ، مشرف کو بھی بلا لیا گیا ہے، چودھریوں کے بھی چکر لگ رہے ہیں، علیم خان، بیوروکریٹس اور زرداری بھی نرغے میں آچکے ہیں۔ اس لیے یہ کہا جائے کہ نواز شریف یا ن لیگ کو ہی نشان عبرت بنایا جا رہا ہے تو یہ سراسر نا انصافی ہوگی۔ ناانصافی اس لیے بھی ہوگی کہ جس فیصلے پر نواز شریف اور ان کی بیٹی کو سزا ہوئی وہ کس قدر صداقت پر مبنی ہے کس قدر نہیں۔۔۔ اسے جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ اس پر مغز کھپانے کی ضرورت ہے کہ نواز شریف کتنے دیانت دار ہیں کتنے نہیں۔ اس کے لیے یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ ان کے خاندان نے جنرل ضیاء الحق کی چھتر چھایہ تلے ایوان اقتدار میں قدم رکھا تو ان کے کاروبار کو بھی دن دوگنی اور رات ہزار گنی ترقی مل گئی۔ ساری صنعتی و مالیاتی ترقی 1980اور 1990کی دو دہائیوں میں ہوئی۔ ان دو دہائیوں میں نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ، دوبار وزیر اعلیٰ اور تین بار وزیر اعظم بنے۔ کیا انہوں نے پنجاب کا وزیر خزانہ بننے کے بعد خاندانی کاروبار سے علیحدگی اختیار کی؟ ان کے بچے 1993ء سے ایون فیلڈ والے فلیٹ میں مقیم ہیں اور جس فلیٹ میں وہ مقیم ہیں اور بیٹھ کر نئی حکمت عملیاں طے کر رہے ہیں وہ اُن کی ملکیت کے حوالے سے بھی کلیئر نہیں ہیں۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ باہر سے کوئی چیز لے کر آئے اور اس کا باپ پوچھے کہ یہ کہاں سے لے کر آئے ہو تو بچہ کہے کہ ثابت کر کے دکھائیں کہ یہ چوری کی ہے۔۔۔ اگر پہلے کرایہ دار کے طور پر مقیم تھے تو کرایہ نامہ کہاں ہے؟ حدیبیہ پیپر مل اور برطانوی بینک، التوفیق کے مالیاتی تنازع میں کیسے یہ فلیٹس بنک کی ملکیت میں چلے گئے۔ یعنی کچھ بھی صاف شفاف نہیں ہے ہر طرف دھندلا پن ہے۔
اور یہ اسی نواز شریف کا دور گزرا ہے جس کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں اوراگلی ایک دہائی تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ کیوں کہ 200ارب ڈالر کی واپسی بھی اسی دس سالوں میں ادا ہونی ہے۔2013 میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 48.1 ارب ڈالر تھاجو65سالوں میں لیا گیا جس کو نواز شریف نے اپنی چار سالہ دور حکومت میں 90 فیصد بڑھا کر 92ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔نواز حکومت نے صرف 5سالوں میں 44 ارب ڈالر کا ریکارڈ قرضہ لیا گیا جوکہ اب تک کا سب سے زیادہ قرضہ ہے جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر سے بھروسہ ہی اٹھ گیا ہے ۔ جبکہ اندرونی قرضوں کی بلند ترین سطح دیکھی جائے تو نواز حکومت کے ابتدائی سال میں ملک کا اندرونی قرضہ 14138 ارب روپے تھا جو اب 25 ہزارارب روپے تک جا پہنچا ہے۔پاکستان کے بڑے سرکاری اداروں اسٹیل میل، پی آئی اے اور پاکستان ریلوے کو سال 2012-13میں تقریباً 450 ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا جبکہ نواز حکومت نے اس کو مزید بڑھا کر 770 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ یہ اب تک کا ملکی اداروں کا ریکارڈ توڑ خسارہ ہے جس کا سہرا نواز شریف کے سر جاتا ہے۔ 2008ء کے اختتام تک فی کس قرض 30ہزار روپے تھا جو 2013ء تک 70ہزارروپے ہو گیا اور اب یہ یہی اندرونی و بیرونی قرضوں کو ملاکر ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس پاکستانی ہو چکا ہے۔ اسی طرح آج معیشت پر دباؤ کی وجہ سے ڈالر 125روپے کا ہوگیا ہے ۔ جنریٹروں سے تیار کرکے مہنگی ترین بجلی بنا کر عوام کو ماموں بنانے والا مجرم جب پاکستان پدھارے گا تو میر ی سمجھ سے باہر ہے کہ کون اس شخص کے استقبال کے لیے جائے گا، صرف وہی لوگ جو اس شخص سے ذاتی فائدے حاصل کرتے رہے۔ میرے خیال میں ایک باشعور شخص تو کبھی نہیں جائے گا کیوں کہ اسے علم ہے کہ جو بجلی چین یا انڈیا میں 3چارروپے فی یونٹ بنتی ہے وہ یہ شخص عوام کے پیسوں سے 45روپے فی یونٹ تک بنا کر دیتا رہا۔ جب سب کچھ سامنے ہے تو میری سمجھ سے یہ بات باہر ہو چکی ہے کہ اگلی مدت کے لیے یہی جماعت کس طرح دعوے اور وعدے کر رہی ہے اور عقل سے پیدل ایک گروہ نہ جانے کیوں اس جماعت کے پیچھے پیچھے بھیڑ بکریوں کی طرح چل رہا ہے ۔ جسے نہ منزل کا علم ہے اور نہ ملک کی فکر ہے۔ اسے یہ علم نہیں ہے کہ یہ قرض ادا کس نے کرنے ہیں؟ آج جب ملک دیوالیہ ہورہا ہے تو مجرم کو ہار پہنانا پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔
غصہ اور حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ مجرم فوراََ اپنے آپ کو نیلسن منڈیلا سمجھ بیٹھتے ہیں، انہیں خدارا یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اُس عظیم شخص نے 27سال جیل میں گزارے، منڈیلا نے 6برس قیدِ تنہائی بھی کاٹی ،رہائی کے بعد انہیں1993میں نوبل انعام ملا جبکہ 1994میں وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے ،صدارت کے پہلے دن گھر سے نکلے ، معمول کے مطابق گارڈز کے بغیر کیپ ٹاؤن کی ان سٹرکوں پر جاگنگ کی ،جن سٹرکوں، فٹ پاتھوں پر لاشوں کاپڑے ہونا ایک عام بات اورجن سٹرکوں پر گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں کیلئے بندے مارنا کسی شغل سے کم نہیں ،مگر جب منڈیلا باہرنکلے تو 1994تک دنیا کا خطرناک ترین ملک جنوبی افریقہ ایک سال بعد ہی اس قابل ہوگیا کہ رگبی ورلڈ کپ ہوگیا ، یہ تھے نیلسن منڈیلا، یہ ہے لیڈر شپ ، ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ، کبھی اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ،اقربا پروری پاس سے نہیں گزری ، یہ منڈیلا ہی کہہ سکتا ہے کہ’’ اگر آپ دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ کام کریں ،وہ آپ کا پارٹنر بن جائے گا ،باہمت لوگ امن کیلئے کبھی معاف کرنے سے نہیں گھبراتے اور یہ اہم نہیں کہ ہم کیسی زندگی گزار رہے اہم یہ کہ ہم نے اپنی زندگی میں دوسروں کی بہتری کیلئے کیا کیا‘‘۔ صورتحال یہ کہ چالیس پچاس فیکٹریاں ملک میں، 5براعظموں میں جائیدادیں الگ ،کمائی ایسی حلال کہ پیسے کما ئے کیسے ،باہر بھجوائے کیسے اور جائیدادیں بنائیں کیسے، ایک جواب بھی نہیں ،مجرم ہوا تو فرمایا،اب عوام اور جمہوریت کی جنگ لڑی جائے گی۔ 
خیر ترس ہی آتا ہے پاکستان پر ، کس بے دردی سے لوٹا ان قصائیوں نے ،یقین جانئے انہی قصائیوں اور ان کے پجاریوں کی محنتیں کہ ملک قرضوں میں مکمل ڈوب چکا، بیروزگاری، مہنگائی عروج پر ،تمام قومی ادارے آخری سانسیں لیتے ہوئے،عالمی تنہائی ،سرحدوں پر کشیدگی، عدم برداشت نے گھر تقسیم کر دیئے ،پانی ہے نہیں ، آبادی آؤٹ آف کنڑول ،چاروں صوبوں میں بڑھتی دوریاں، جبکہ قوم کو لگایا ہوا اس طرف کہ نواز شریف ، مریم کی گرفتاری شو کتنا پاور فل ہوگا؟کون کتنی سیٹیں لے گا؟ فلاں فلاں کے ساتھ نیب کیا کرے گا؟ عدالت عظمی ٰ سوموٹو کیوں نہیں لے رہی؟
رہی بات نواز شریف کی واپسی کی تو اس حوالے سے محض اتنا ہی کہوں گا کہ گیارہ برس قبل 10ستمبر 2007ء کو سب نگاہیں اسلام آباد ایئر پورٹ پر مرکوز تھیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف برسہابرس کی جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس لوٹ رہے تھے۔جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے سورج کو گرہن لگ چکا تھا۔اگرچہ سپریم کورٹ جسٹس افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس بحال کرنے کا فیصلہ دے چکی تھی ،عدالتی احکامات کی روشنی میں نوازشریف کو واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا تھا لیکن لندن سے آنے والی پرواز کے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کرتے ہی سیکورٹی اہلکاروں نے کنٹرول سنبھال لیا۔نوازشریف کے ساتھ آنے والے صحافیوں کو تتر بتر کرنے کے بعدڈنڈا ڈولی کرکے سابق وزیراعظم کو سعودی عرب جانے والے جہاز میں ڈال دیا گیا۔نوازشریف کا خیال تھا کہ ان کے چاہنے والوں کا سیلاب اُمڈ آئے گا لیکن ایسا نہ ہوسکاکیوں کہ انہوں نے کچھ ڈلیور نہیں کیا تھا۔اس لیے وہ شو بھی فلاپ ہو گیا تھا اورآج دیکھیں اس مجرم کے لیے میرے ملک میں کیا ہوتا ہے!!!