!سابق حکومت کے آفٹرشاکس


جس طرح ایک کامیاب حکومت ملک کو دنیا کی بڑی قوتوں میں شامل کردیتی ہے اسی طرح ایک ناکام حکومت ملک کوکئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیتی ہے اس کی مثال کچھ یوں لے لیں جیسے عرب بہار آئی، جس نے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اس کا فوری اثر مصر پر بھی ہوا کیوں کہ وہاں کے عوام بھوکوں مر رہے تھے اور حکمران کھربوں ڈالر کے مالک بن رہے تھے۔ مصر اتنا غریب کیوں ہوا؟ حالانکہ اس میں بھی وہی معدنیات ہیں جو دوسرے عرب ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ اس کی وجوہ پر غور کیا جائے تو حسنی مبارک نے اس غریب ملک میں جس طرح لوٹ مار کی اس کی مثال یہ ہے کہ اس کی ذاتی دولت کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ۔وہ ہر چیز میں کمیشن وصول کرتا تھا یہاں تک کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے مصر میں ایک سافٹ ڈرنک لانچ کرنا تھی۔ حسنی مبارک نے اُس میں اپنا کمیشن فکس کرلیا۔ یوں مصر میں سرکاری دفتروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں صرف اس سافٹ ڈرنک کو بیچنے کی اجازت دے دی گئی۔ مصر کی نجی کمپنیاں بھاری نقصان کے ساتھ بند ہونا شروع ہوگئیں۔اور ملٹی نیشنل کمپنی ایمانداری سے حسنی مبارک کو اُس کا حصہ دیتی رہی اور ملک کا سرمایہ سمیٹتی رہی۔ اس ملک میں کمیشن لینا اس قدر عام بن چکا تھا کہ کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی کو اس ملک میں آسانی سے آنے دیا جاتا اور حصہ وصول کرنے میں بادشاہ، وزیر، چمچے سب آگے آگے ہوتے۔ اسی دوران عوام کا استحصال ہوتا رہا پھر ایک دن اسی عوام نے حسنی مبارک کو پاؤں تلے روند دیا۔ حسنی حکومت کا خاتمہ ہوا، عوام نے خوشی منائی مگر بدقسمتی سے حکومت کے خاتمے کے بعد بھی بے ایمانی اور غیر دیانتداری کے نشان موجود رہے۔ الیکشن ہوئے اخوان المسلمین اقتدار میں آئی اپنوں نے ’’غیروں ‘‘ کے ساتھ مل کر تھوڑے ہی عرصے بعد اخوان المسلمین کو کچل دیا اور وہاں دوبارہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہوگئی اور مغربی ممالک اب مصر کو قرض پر قرض دے کر اپنے چنگل میں پھنسا رہے ہیں اور عوامی حالات بد سے بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ 
یہی حال پاکستان کا ہے یہاں بھی ’’حسنی مبارک‘‘ کی شکل میں سابق وزراء اعظم نے اقتدار کے مزے لوٹے، خوب مال بنایا مگر افسوس کے ابھی تک عبرت کو نہیں پہنچے۔ ان میں سے ایک سابق وزیر اعظم کا فیصلہ آج متوقع ہے۔ اس کیس کا نام ایون فیلڈ ریفرنس ہے۔خدا خداکر کے ایون فیلڈ ریفرنس اختتام کو پہنچا ،سپریم کورٹ نے کہا’’ تینوں ریفرنسز 6ماہ میں نمٹائے جائیں ‘‘یہاں ایک ہی ریفرنس چلا ساڑھے 9ماہ ،صرف واجد ضیاء پر جرح ہوئی 18دن ، کیس میں 3بنیادی سوال تھے ،پیسے کمائے کیسے ،لندن بھیجے کیسے اور لندن فلیٹس خریدے کیسے ، سیدھے سادے معصوم سے ان 3سوالوں کے جواب میں کہانیاں اور وہ بھی الف لیلا سے آگے کی ،جیسے میاں شریف نے پیسے کمائے ،قطریوں کے ساتھ سرمایہ کاری کی، لیکن یہ سب خاندان سے چھپائے رکھا ،کسی کو دھواں تک نہ لگنے دیا ،سوائے 8دس سالہ حسین نواز کے ،میاں شریف فوت ہوئے ،حسین نواز نے قطریوں سے دادا جی کی سرمایہ کاری کا حساب مانگا تو قطریوں نے اپنے لندن فلیٹس دیدیئے ، لیکن سرمایہ کاری ، پیسے آنے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ خیر ان چیزوں کو ہم کئی بار ڈسکس کر چکے ہیں۔ اس حکومت کے کارناموں میں جہاں بہت سے نامی گرامی اقدامات ہیں اُن میں سے کئی ایک تو حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آرہے ہیں۔ 
روپے کی قدر میں کمی اور پٹرول ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں بجلی کی دوبارہ لوڈ شیڈنگ اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے؟ کیوں اب بھارت کنٹرول لائن پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے؟ آج پاکستانی معیشت وہاں پہنچا دی گئی ہے کہ واپسی کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ
’’اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘
ن لیگ کی حکومت نے آخری 9ماہ میں 10ارب ڈالر قرض لیا۔ بجلی پوری کرنے کے لیے نہ کوئی ھائیڈل پاور منصوبہ مکمل کیا، نہ کول پاور بنا، نہ ونڈ پاور بنا، نہ کسی ایٹمی بجلی گھر کاآغاز ہوا، نہ شمسی توانائی نے زور پکڑا، بلکہ ن لیگ نے تیل سے مہنگی ترین بجلی بنا کر عوام کو تحفے میں دی۔ جی ہاں !دنیا کی سب سے مہنگی بجلی جس کو تھرمل بجلی بھی کہتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ جنریٹر چلا رہا تھا۔ یہ وہ بجلی ہوتی ہے جس کا خرچہ امریکہ، انڈیا اور چین جیسے بڑے اقتصادی ممالک بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ بھی اپنی آدھی سے زائد بجلی کوئلے اور بقایا پانی سے بناتے ہیں۔ ان ’’ جنریٹرز‘‘ کی کل پیدواری صلاحیت 21000 میگاواٹ ہے اور یہ سارے نجی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ ان میں پاکستان کے ایک معروف سرمایہ دار کا بھی نام آتا ہے۔ جسے نوازشریف نے اقتدار میں آنے کے بعد ساڑھے چار سو ارب روپے کی ادائیگی کی تھی۔ 
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذرائع کنفرم کر رہے ہیں کہ ن لیگی حکومت کی جانب سے اقتدار کے آخری روز ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے عالمی طاقتوں کے مطالبے پر آزادجموں وکشمیر عبوری آئین 1974ء کے ترمیمی بل کی منظوری دی گئی۔ تھرڈ شیڈول میں ترمیم کے ذریعے پاکستان کو آزاد کشمیر کے تمام مالی وانتظامی معاملات اور اختیارات سے الگ کردیا گیا ہے۔ آزادکشمیر حکومت کو اپنے کرنسی نوٹ جاری کرنے ، غیر ملکی امداد، خارجہ امور، تجارت، مواصلات، نیو کلیئرانرجی کی پیداوار کیلئے معدنیات کا استعمال اورنیو کلیئرفیول کی پیداوارکا اختیاردیدیا گیا ہے۔ ترمیمی بل کے ذریعے کشمیر کونسل تحلیل اور آزاد کشمیر میں امن وامان کے قیام سمیت تمام امور میں پاکستانی اختیارات ختم کردئیے گئے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکرٹری کی ہدایت پر راتوں رات سمری تیارکرکے 31مئی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی۔ حساس ادارے نے تحریری طور پر ترمیمی بل کو ملکی مفاد کے منافی اور مسئلہ کشمیر کیلئے نقصان دہ قراردیا۔وزارت دفاع سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی آراء حاصل کئے بغیر سمری 31مئی کو وفاقی کابینہ سے منظور کروائی گئی۔ وفاقی سیکرٹری وزات امورکشمیر و گلگت بلتستان نے آزادکشمیر میں آئینی وانتظامی اصلاحات ترمیمی بل کو ملکی مفاد کے منافی قراردیا۔ آزادکشمیر میں اصلاحات کیلئے ترمیمی بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔اصلاحات کے نام پر آزادکشمیر کو خودمختارریاست بنانے اور تحریک آزادی کشمیر کو ناقابل نقصان پہنچایا گیا۔ رولز آف بزنس کے سیکشن 18کی ذیلی شق 4کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیشنل سکیورٹی کونسل سے حتمی ڈرافٹ کی منظوری حاصل نہ کی گئی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اقدام کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیا ہے اورجسٹس عمرفاروق نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2ہفتوں میں جواب طلب کیا۔ عبوری آئین میں ترمیم کے بعد پاکستان صرف آزادکشمیر کو سالانہ اربوں روپے بجٹ فراہم کریگا مگر پاکستان کو آزادکشمیر میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ آزادکشمیر حکومت کو پاکستان کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے یانہ کرنے کا اختیار دیدیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی اور عالمی طاقتوں کے لابسٹ نے نوازشریف کو قائل کیا۔ نوازشریف کی ہدایت پر 2016ء میں آزاجموں وکشمیر عبوری آئین میں اصلاحات کے نام پر ترمیم کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا مگر 27اپریل 2017ء کو معروف بھارتی بزنس مین سجن جندال کے دورے کے بعد اس معاملے کو حتمی شکل دے کر وزارت امور کشمیر اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو قائل کرنے کاکام شروع کیا گیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب نوازشریف کی نااہلی کے بعد عالمی طاقتوں کے اس منصوبے کو دھچکا لگا تاہم اپریل 2018ء میں اس پلان کو منطقی انجام تک پہنچانے پر دوبارہ کام شروع ہوا جس کی بالاخر تمام قواعد وضوابط رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے منافی 31مئی کی رات 10بجے تکمیل کی گئی۔ 
یہ تو تھیں قومی مفاد کی باتیں جن میں بھی ذاتیات کو ترجیح دی گئی مگر ان کے علاوہ گزشتہ حکومت نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہایت خاموشی سے مالی بل2018-19کے ذریعے موجودہ اور سابق اراکین پار لیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی اضافہ کر دیا ، اس سلسلے میں دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومت کے اس اقدا م کا فائدہ صرف پارلیمنٹیرینز ہی نہیں بلکہ ان جیون ساتھیو ں کو بھی پہنچے گا اور یہ مراعات یقیناًدوگنا تک کر دی گئیں ہیں۔ حالانکہ الیکشن دستاویزات کے مطابق ہمارا ہر ہر سیاستدان کھرب پتی ہے۔ ان کھرب پتیوں کو شرم نہیں آتی کہ یہ اپنے نوکروں، ڈرائیوروں اور سیکرٹریوں تک کی تنخواہیں سرکاری اخراجات سے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کرتے ہیں ۔
بہرکیف یہ وہ حسنی مبارک کا دور گزرا ہے جس کے اثرات اگلی ایک دہائی تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ کیوں کہ 200ارب ڈالر کی واپسی بھی اسی دس سالوں میں ادا ہونی ہے۔یعنی گزشتہ حکومت کے آفٹر شاکس اگلے ایک دو دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔اورویسے بھی میری تو سمجھ سے یہ بات باہر ہو چکی ہے کہ اگلی مدت کے لیے یہی جماعت کس طرح دعوے اور وعدے کر رہی ہے اور عقل سے پیدل ایک گروہ نہ جانے کیوں اس جماعت کے پیچھے پیچھے بھیڑ بکریوں کی طرح چل رہا ہے ۔ جسے نہ منزل کا علم ہے اور نہ ملک کی فکر ہے!