!سیاست بمقابلہ ذاتی زندگی


ملک بھر میں الیکشن کی تیاریاں زورو شور سے جاری ہیں،بظاہر اس بار سکروٹنی کا عمل پہلے سے زیادہ سخت ہے، اس معاملے میں سپریم کورٹ پہلے سے زیادہ فعال نظر آرہی ہے۔ نا اہلیاں بھی تیزی سے ہو رہی ہیں اور ’’بحالیاں‘‘ بھی اُسی تیزی سے ہو رہی ہیں۔ہر حلقے میں سالہا سال تک ملک و قوم کو لوٹنے والوں کے ’’استقبال ‘‘ کی ذمہ داری خود عوام نے لے لی ہے۔ایسے میں ہر سیاستدان پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔ کچھ اُمیدواروں نے تو حلقوں میں جا کر مہم کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا ہے۔ جس سیاستدان کی کہیں کرپشن نظر نہیں آتی اُس کی ذاتی زندگی پر پے در پے وار کیے جا رہے ہیں، اور اس قسم کے حملوں کا نشانہ سب سے زیادہ عمران خان کو بنایا جارہا ہے۔ حالانکہ شہباز شریف ، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، آصف زرداری سمیت بہت سے سیاسی رہنماؤں کی ذاتی زندگیاں ہنگاموں سے بھری پڑی ہیں لیکن عمران خان کی ذاتی زندگی اس وقت قوم کا اور خصوصاََ کرپٹ سیاسی پارٹیوں کے لیے نمبر ون مسئلہ بن چکی ہے۔ 
آج کل سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سمیت ہر طرف عمران خان کی بابافرید الدین گنج شکر کے مزا پر حاضری موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ عمران خان کی عقیدت کو اُس کے مخالفین ’’سجدہ‘‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ عمران خان اسے بزرگوں کی تعظیم سے تشبیہ دے رے ہیں۔ لیکن معاملہ یوں ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ جیسے یہاں آج تک کسی خاص مسلک کے لوگوں کی حکومت رہی ہے۔پاکستان کے سیاستدانوں کی ذاتی عقیدوں کے حوالے سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ قائد اعظمؒ اور حسین شہید سہروردی کے علاوہ ہمارا کوئی سیاستدان بھی ایسا نہیں جو درگاہوں سے باز رہ سکا ہو۔نواز شریف اور شہباز شریف دھنکّاشریف کے رحمت اللہ عرف دیوانہ بابا کے ایسے مرید رہے کہ پیر صاحب سے سوٹیاں کھانے پیدل ان کے آستانے تک جاتے تھے ، دھنکّا شریف کے گاؤں میں بجلی بھی میاں صاحب ہی کی لگوائی ہوئی ہے۔بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم بنیں تو انہوں نے غالباً یہ سوچا کہ جوپیر صاحب نواز شریف کو دو مرتبہ وزارتِ عظمی پر فائز کر سکتے ہیں،کیا نہیں کر سکتے؟ چناچہ محترمہ کی ہدایت پر دھنکّا شریف میں بطورِ خاص ایک’’ ہیلی پیڈ‘‘ بنوایا گیا۔ بے نظیر بھٹو بھی تو آکسفورڈ کی گریجوایٹ تھیں، تو عمران خان نے آکسفورڈ کا گریجوایٹ ہوکر ایک درگاہ پر ماتھا ٹیک دیا تو کونسی نئی بات ہو گئی؟ علامہ اقبالؒ نے یونہی نہیں کہا تھا:

شہری ہو دیہاتی ہو مسلمان ہے سادہ
مانندِ بتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن

عمران خان کے مخالفین پوچھتے ہیں کہ جو شخص درگاہوں پر سجدے کرتا ہو ، کیا اُسے ووٹ دینا چاہیے؟ ایک بندے کا مسلک کیا ہے؟ میرے خیال میں اس پر کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی چاہیے۔کیوں کہ پاکستان پر شیعہ، وہابی، سنی ہر مسلک کے لوگوں نے حکومت کی ہے۔ اب اس مسلک پر ہم مسئلہ کھڑا کر لیں کہ وہ شیعہ تھا، سنی تھا وہابی تھا اس لیے اسے حکومت نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ سراسر غلط ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ شیعہ تھے۔ یہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ذوالفقار علی بھٹو تک پاکستان کے زیادہ تر رہنما شیعہ رہے۔ تین وزراء اعظم بشمول ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو شیعہ تھے۔ ملک کے دو فوجی سربراہ جنرل اسکندر مرزا اور جنرل یحییٰ خان شیعہ تھے۔1971میں جب ذوالفقار علی بھٹو بر سر اقتدار آئے تو ان کے دور میں پوری دنیا میں پاکستان کو واقعتاً ایک طاقت کے طور پر دیکھا جانے اور تسلیم کیا جانے لگا۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کی ایک سنی مسلم ملک کی حیثیت برقرار رہی۔پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد بریلویوں کی ہے اور انہوں نے سب سے کم حکومت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بریلوی غلط تھے کہ وہ جو دوسروں کو اُن کے عقیدوں پر ووٹ دے دیتے ہیں۔ حالانکہ اہل تشیع پاکستان کی کل آبادی کا بمشکل 20فیصد ہوں گے باقی 80فیصد انہیں قبول نہیں کرتے رہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ اگر عمران خان سنی ہے تو باقی لوگوں کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ کیا ہم نے پاکستان کو عقیدوں کی بنیاد پر چلانا ہے۔بلکہ پاکستان کی اکثریت تو یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کو مذہب کی بنیاد پر چلانے سے بھی گریز کیا جائے کیوں کہ یہاں غیر مسلموں کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے مسلمانوں کو ہیں۔ اور یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ان کا مفاد ہوتا ہے یہ لڑائی کو اُس حد تک لے جاتے ہیں ۔ پھر عمران خان کی ذاتی زندگی سے ہٹ کر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہے۔ یہ لوگ کیا خود ساری زندگی بھٹو کی مدد سے سیاست نہیں کرتے رہے؟ اور بھٹو کو سیاست میں لانے والا ایوب خان ہے۔ نواز شریف کو جنرل جیلانی سیاست میں لے کر آئے۔ق لیگ کو اسٹیبلشمنٹ نے بنایا، آئی جے آئی ، ایم ایم اے کو اسٹیبلشمنٹ نے بنایا ۔۔۔ اور آج اگر یہ حالات عمران خان پر آگئے ہیں تو وہ کیسے غلط ہوسکتا ہے؟
کون نہیں جانتا کہ ہمارا اصل مسئلہ کرپشن ہے جس کے بچے غربت،لاقانونیت اور میرٹ کی پامالی ہیں، تو آپ خود ہی فرمائیے کہ کرپشن میں کون اپنا ثانی نہیں رکھتا؟ کس نے ہماری آنے والی نسلوں تک کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا؟ کس نے 5برس کے دوران ملکی قرض میں10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ کیا اور کس نے 4سال میں 35 ارب ڈالر کے اضافے سے ایک نیاریکارڈ بنا ڈالا، پھر بھی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے اتنی خراب ہو گئی کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر سکڑ کر دو مہینے کے لئے رہ گئے جبکہ انکی کم از کم حد تین مہینے کے لئے ہونی چاہیے؟ کس نے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے ملک و قوم کو کنگال کر دیا؟ ملک کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ کر بھی کیا میاں برادران اور زرداری اینڈ سَن کو توفیق ہوئی کہ اپنی جیب سے معمولی رقم بھی فلاحِ عامہ کے کسی منصوبے پر لگا سکیں،کیاپاکستان کے امیرترین لوگوں میں عمران خان کا شمار ہوتا ہے یا نواز شریف اورآصف علی زرداری کا؟ دو دو تین تین مرتبہ اقتدار کس کو ملا؟ کون جھوٹ پر جھوٹ بولتا رہا؟
کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ میں تحریک انصاف کا کارکن نہیں اور نہ ہی عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے آخری حد تک جانا چاہتا ہوں مگر اب میں کیا یہ چاہوں کہ عمران خان کی بجائے شریف برادران، زرداری اینڈ سن یا مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم بن جائے؟اول توان حضرات کے ساتھ عمران خان کا موازنہ ہی سراسر زیادتی ہے، اس پر ستم یہ کہ اربوں کھربوں کی کرپشن کے مقابلے میں شادیاں یا درگاہوں پر کیے گئے سجدے پیش کیے جاتے ہیں۔ عمران خان آسمان سے نازل شدہ کوئی فرشتہ نہیں ، ہماری آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہے، وہ بھی اسی گلے سڑے معاشرے کا حصہ ہے جہاں ہر طرف گند گی وغلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں،اس قوم کی غلطی یہ ہے کہ وہ عمران خان میں پرفیکشن تلاش کر رہی ہے ۔ Perfectionتو آپؐ کے بعد ختم ہوگئی تھی، ہم ہر حکمران میں حضرت عمر فاروقؓ کو تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ہمیں یہ پرفیکشن نہیں ملنی، ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ ڈلیور کر رہا ہے یا نہیں؟ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ عوام کو ڈلیور کر رہا ہے یا نہیں؟ہاں اللہ کرے کہ ہم اخلاقی اور تعلیمی لحاظ سے اس قابل ہوجائیں کہ ہم بعد ازاں پرفیکشن ڈھونڈنا شروع کر دیں مگر فی الحال تو ہم جمہوریت کے پرائمری سیکشن کو پاس نہیں کر پا رہے۔ اس کے بعد مڈل سیکشن ہے، پھر میٹرک، پھر انٹرمیڈیٹ کے بعد گریجوایشن حاصل کرنی ہے ۔۔۔ ماسٹر اور پی ایچ ڈی تو بہت دور کی بات ہے۔ 
خیر عوام تو شہباز شریف، نوازشریف کو اُس کے سکینڈل کے باوجود ووٹ دیتی رہی ہے۔شہباز شریف اور حمزہ شہاز کی زندگی خواتین کے حوالے سے بھری پڑی ہے۔ عوام نے تو اسے کبھی موضوع سخن نہیں بنایا، حتی ٰ کہ عائشہ احد چوہدری شجاعت حسین کے پاس بھی گئیں تھیں تو انہوں نے کہا کہ بیٹا یہ آپ لوگوں کی آپس کی لڑائی ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ پاکستانیوں کی عادت بنتی جا رہی ہے کہ اگر کوئی غلط کام میں کروں تو ٹھیک دوسرا کرے تو غدار۔۔۔ ہماری اخلاقیات یہاں تک گر چکی ہیں کہ مجھے یہ حق حاصل کہ میں دوسرے کے خاندان پر انگلی اُٹھاؤں ۔۔۔ اور اگر کوئی دوسرا میرے خاندان پر اُنگلی اُٹھائے تو یہ مجھے قبول نہیں ہوگا۔ ہم اپنی ڈیوٹیز پوری نہیں کرتے کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟پی آئی اے، ریلوے، واپڈا سمیت تمام سرکاری اداروں میں جو لوگ تنخواہیں لیتے ہیں اور گھر بیٹھے رہتے ہیں کیا یہ غلط نہیں ہے؟اور سب یہی کہتے ہیں کہ فلاں کرپٹ ہے ، فلاں کا کردار ٹھیک نہیں ہے؟ فلاں شخص سجدے کرتا ہے۔ ہمارا تو قومی نعرہ ہی یہ بن گیا ہے کہ دوسرے کو بولو کہ وہ کرپٹ ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ سیاست کو ذاتیات سے الگ کیا جائے، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ عوام کو ڈلیور کیا کر رہا ہے؟ ہمیں اپنا نہیں تو کم از کم اپنی آنے والی نسلوں کا ہی کچھ خیال کرنا چاہیے اور سوچناچا ہیے کہ انہیں ہم سے وراثت میں کیسا معاشرہ ملے گا ؟مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا لیکن ہم تو تین تین بار ڈسے جا چکے ہیں۔بار بار آزمائے ہوؤں کو پھر آزمانے سے کیا بہتر نہیں کہ اس مرتبہ کسی نئے کو آزما لیاجائے؟اس لیے خدارا ذاتی زندگی اور سیاست کو الگ الگ ہی رکھیے تو بہتر ہوگا۔ اور خدا کے لیے سیاست کو سیاست رہنے دیں اسے مسلکوں اور عقیدوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں، پاکستان مسلمانوں کا ہے اور پاکستانیوں کا ہے۔ یہ پاکستان کسی خاص مسلک کے لیے نہیں بنا تھا، یہ ملک کسی شیعہ، سنی یا وہابی کے لیے نہیں بنا تھا بلکہ مسلمانوں اور صرف پاکستانیوں کے لیے بنا تھا اس لیے ان چیزوں سے ہمیں ہر صورت پرہیز کرنا چاہیے۔