سیاست میں مفادپرستی اور عمران خان(2)


1986میں بے نظیر کی آمد کے بعد تمام ملک کے تفصیلی دورے کئے اور پیپلز پارٹی کو ازسرنو منظم کیا اور انتخابات کیلئے بھرپور مہم چلائی۔مگر بے نظیر کو نہ جانے کس نے خوفزدہ کر دیا تھا کہ اُس کے پاس وننگ اُمیدوار نہیں ہیں، اور وہ جیالے جنہوں نے 10سال تک ضیاء الحق کے مارشل لاء کا مقابلہ کیا تھا، وہ بے نظیر کو اقتدار نہیں دلوا سکتے۔ پھر اُس کے بعد کیا ہوا؟ بے نظیر کے قریبی مفاد پرست لوگوں نے انہیں یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ آپ کو ہر حلقے میں ابھی مزید طاقتور لوگوں کی ضرورت ہے، جس سے آپ کو اسمبلی میں سیٹیں زیادہ ملیں گی اور آپ الیکشن جیت جائیں گی۔۔۔ محترمہ ان کے جال میں پھنس گئیں، ضیاء الحق کے غیر نظریاتی لوگوں کو جن کا نظریات سے دور کا واسطہ نہیں تھا اور انہیں اقتدار کی ہوس تھی انہیں پارٹی میں شامل کر دیااور 1988ء کا الیکشن واضع اکثریت کے ساتھ نہ جیت سکیں ۔۔۔ 
اور اب انہی مفاد پرست ٹولوں کی اگلی پیڑھی عمران خان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔ اور شاید اس کی ایک قسم بلاول کی پارٹی پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ابھی تک چپکی ہوئی ہے۔ کیوں کہ جب ماضی قریب میں زرداری صاحب نے پارٹی تنظیموں کو نظر انداز کرتے ہوئےElectablesیعنی جیتنے والے اُمیدواروں سے رابطے کا فیصلہ کیا تو بلاول بھٹو نے شدید اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بھٹو شہید کے آخری دور والی غلطی نہ دہرائے اور پارٹی تنظیموں کو مضبوط اور فعال بنائے۔ پارٹی مضبوط ہوگی تو انتخاب بھی جیت جائے گی۔بلاول چاہتا تھا کہ پارٹی ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے کے لیے جمہوری اصولوں کے مطابق پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا جائے۔ پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتیں اسی جمہوری اصول کے مطابق پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے مشاورت سے کررہی تھیں مگر زرداری صاحب نے خفیہ مقاصد کے لیے پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے کا اختیار اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کو دے دیا۔ پارٹی کے ایک اجلاس میں بلاول نے پارٹی کے چند پرانے کارکنوں کو ٹکٹ دینے کی سفارش کی۔ فریال تالپور نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا ’’ بلاول ابھی تمہیں سیاسی تجربہ نہیں ہے‘‘۔ اخباری رپورٹ کے مطابق بلاول غصے میں آکر اجلاس سے اُٹھ کرچلا گیا۔ پارٹی معاملات میں نوجوان بلاول کی مداخلت اور ان کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کے لیے بلاول کو چیئرمین کی بجائے سرپرست اعلیٰ بنادیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد بلاول ناراض ہوکر پاکستان سے باہر دوبئی چلے گئے۔ حالانکہ بلاول نے لاہور میں کئی روز قیام کیا، پنجاب میں روتے ہوئے کارکنوں کو منایا، کچھ تو واپس آگئے، باقی دیکھو اور انتظار کرو کے مقولے پر ڈٹے رہے۔
کیا یہی حال آج عمران خان کا نہیں ہورہا، جگہ جگہ پرانے کارکن احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں، کیا عمران خان بھی ایسے لوگوں کے بہکاوے میں تو نہیں آگئے جو اپنی پارٹی میں چلے ہوئے کارتوس شامل کررہے ہیں۔ کل محترمہ بے نظیر نے عوام کی پرواہ کیے بغیر پارٹی میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے آج عمران خان عوامی مفادات کے برعکس وہی کام کر رہے ہیں،مشرف اور زرداری کی پارٹیوں سے لوگوں کو لا رہے ہیں جنہیں محض اقتدار کی ہوس ہے ، جن کا نظریات سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ کہاں گیا وہ نظریہ؟ کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کی اُمید کا کیا بنے گا؟ اُن لوگوں کا کیا بنے گا جو اس سونامی میں عمران خان کی قیادت میں سر جھکائے ساتھ رہے۔بقول شاعر امیر اللہ تسلیم

آس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں
کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

خیر یہ بھی اگر مان لیا جائے کہ عمران خان ان الیکٹیبلز کے ذریعے اگر اقتدار میں آجاتے ہیں تو اس بات کی کون گارنٹی دے گا کہ عمران خان ان کے چنگل سے نکل پائیں گے، شاید عمران خان کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ لوگ کس قدر شاطر ہیں جو آسانی سے پیچھے ہٹنے والے لوگ نہیں ہوتے، ان کا حکومتوں میں باقاعدہ اثرورسوخ رہا ہے۔ انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ہوتا انہیں محض اپنے کاروبار، اپنی پرآسائش طرز زندگی اور بیرون ملک موجود جائیدادوں کی فکر ہوتی ہے۔ اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اور یہ جو سوڈیڑھ سو لوگ عمران خان کے ساتھ جڑے ہیں یہ وہی ہیں جن کے باپ دادا بے نظیر کے ساتھ 1988ء میں منسلک ہوئے تھے ۔ اس لیے عمران خان انہیں اس قدر بے وقوف مت سمجھیں ،اقتدار میں آنے کے بعد ان کا عمل دخل ہونا یقینی امر ہے۔
اور عمران خان یہ بھی نہ بھولیں کہ وہ پرانے ورکرز کو کھونے کی شکل میں فاش غلطیاں کر چکے ہیں ، عمران خان صاحب نے جن ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ملکر نئے پاکستان کی بنیاد رکھی وہ سب ایک ایک کر کے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے ہیں تحریک انصاف کے نظریاتی لوگوں کو خان صاحب نے کھڈے لائن لگا دیاہے ، پارٹی پر مضبوط گروپس آچکے ہیں جو نظریاتی لوگوں کے بجائے پارٹی پرن لیگ، پیپلز پارٹی ق لیگ اور مشرف کی باقیات پر مشتمل ہیں۔ عمران خان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ درخت کو پھل دار ثمر آور اور تناور بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسکی ہر دم رکھوالی کی جائے وقت وقت پر اسے پانی دیا جائے کیڑے مکوڑوں اور باد سموم سے بچانے کے لیے سپرے اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ تب جا کر شجر پھیلتا پھولتا ہے اور تناور کی شکل اختیار کرتا ہے کیونکہ نیچے سے اسکی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں تب اسکی شاخیں اپنے بازو دراز کرتی ہیں۔ یہ مختلف مرحلوں سے گزر کر کہیں جاکر شجر سایہ دار بنتا ہے۔ اور جب اس سے چھاؤں لینے کا وقت آیا ہے تو اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے۔ 
بہرکیف میرے خیال میں یہاں سے عمران خان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ کہ وہ ان200 خاندانوں سے کیسے بچ سکے گا۔عمران خان ان لوگوں کے ہوتے ہوئے کیسے اپنا ایجنڈا،مشن اور نظریہ مکمل کرے گا۔ اور کیا عمران خان ان خاندانوں کی باتوں میں آکر بے نظیر کی طرح پرانے ورکرز کو ایک ایک پلاٹ دے کر فارغ کرے گا یا انہیں کہیں نہ کہیں کھپادے گا۔ کیوں کہ ماضی میں بے نظیر بھٹونے جیالوں کے لیے پلاٹ کے ’’تحائف‘‘ تقسیم کرنے کی حقیر سی کوشش کی تھی مگر انہیں شاید بعد میں علم ہوا کہ نظریاتی کارکن لالچی نہیں ہوتے ، افسوس کہ آج جیالے ختم اور ناپید ہوچکے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پیپلزپارٹی کا وجود پنجاب سے ختم ہورہا ہے۔اس لیے جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں اُن کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جانی چاہیے ورنہ عمران خان خود ایک جیتا ہوا الیکشن ہار جائیں گے اور عوام منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ 
لہٰذاعمران خان کو چاہیے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر ایسے لوگوں کو بٹھائے جو معیشت جانتے ہوں، اپنے منشور سے نہ ہٹیں اور جو 100دن کا منصوبہ دیا ہے اُس کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔کیوں کہ 1947ء سے لے کر آج تک کسی نے اپنے منشور کے مطابق اس ملک پر حکومت نہیں کی۔منشور کا 20فیصد بھی استعمال نہیں کیا گیا،میں آج پھر اس بات کو دہرا رہا ہوں کہ میرا تعلق کسی طرح سے تحریک انصاف سے نہیں مگر باریاں لینے والوں سے بہتر ہے کہ کسی نئے کا آزمایا جائے کہ شاید میرے ملک کی تقدیر بدل جائے !