سیاست میں مفادپرستی اور عمران خان


ایک سیاست دان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی کی سزا عوام کو نہیں ملنی چاہئے۔ ارے بھئی کوئی ان کو سمجھائے کہ بھائی صاحب، حکومت کی نااہلی نہیں بلکہ نااہلیوں کی سزا صرف عوام کو ہی ملتی ہے۔ اگر حکمرانوں کو ملی ہوتی تو آج ہمارے ہاں کوئی حکومت تو ڈھنگ کی آئی ہوتی۔ اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ ہمارے صاحبان اور سیاست دان آپس میں گتھم گتھا ہیں کیونکہ یہ اپنی ناکامیوں ، نااہلیوں کی ذمہ داری نااہل ہو کر بھی قبول نہیں کرتے او راپنی مخالف حریف پارٹیوں سے خوب جم کر زبانی کلامی جنگ میں لفظوں کے تیر اور گولہ بارود ایک دوسرے پر برساتے ذرا نہیں تھکتے بلکہ ساتھ ہی جوتوں، لاتوں، ڈنڈوں سیاہیوں اور گولیوں سے بھی ایک دوسرے کی خبر لی جاتی ہے۔ اب تو ویسے بھی الیکشن سر پر ہیں اور آنے والے دنوں میں الیکشن مہمات میں تیزی آئے گی، الزامات کی سیاست عروج پر رہے گی، کئی مزید سکینڈلز آئیں گے۔
ان الیکشن میں عوام کا ارادہ کیا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر سیاسی ماہرین کے مطابق چونکہ عوام نے پانچ سالہ نام نہاد جمہوریت پیپلز پارٹی کی بھی دیکھ لی اور پانچ سالہ مکمل ’’جمہوری پیکج‘‘ ن لیگ کا بھی دیکھ لیا، دونوں نے عوام کو جس طرح لُوٹا اس کا احوال تو آپ روپے کی قدروقیمت اور قرضوں سے ہی لگا سکتے ہیں، یعنی ان دو ادوار کا مختصر احاطہ کیا جائے تو 2008ء میں پاکستان پر کل قرضے 55ارب ڈالر تھے، اور ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں 60روپے تھی، لیکن آج الا ماشاء اللہ ڈالر 122روپے کااور ملک پر کل قرضوں کا بوجھ 200ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یہ دو ادوار تو عوام نے دیکھ لیے اور ان کا ثمر بھی خوب کھا لیا گیا مگر اب رہ جاتی ہے ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف جسے عوام اس بار ضرور آزمانہ چاہیں گے،لیکن اس وقت اس جماعت کو سب سے بڑا مسئلہ مفاد پرست سیاستدانوں یعنی الیکٹیبلز کا آجانا دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ تحریک انصاف میں الیکٹیبلز کی ریکارڈ تعداد موجود ہے۔ اور اُمید ہے کہ اس بار تحریک انصاف بھاری اکثریت سے نہ سہی مگر مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن پر آجائے گی۔ لیکن ایک مسئلہ ہے کہ اب اگرتحریک انصاف ان الیکٹیبلز سیاستدانوں کے ذریعے اقتدار میں آہی جائے گی تو کیا یہ تحریک انصاف کو چلنے دیں گے؟ کیا یہ عمران خان کو اس کے مشن پر پورا اُترنے دیں گے؟ کیا یہ ملک میں ’’تبدیلی‘‘ کا موجب بنیں گے؟ اور اگر ان کے ذریعے عمران خان بھی ناکام ہوگیا تو اس قوم کے پاس کوئی اُمید نہیں بچے گی۔پھرشاید خونی انقلاب ہی اس دھرتی کا مقدر بنے گا۔ بقول شاعر

مری امید کا سورج کہ تیری آس کا چاند
دیے تمام ہی رخ پر ہوا کے رکھے تھے

راقم کے ذہن میں یہ ابہام اس لیے پیدا ہوئے کہ تاریخ میں جن جن پارٹیوں نے الیکٹیبلزElectablesکو اپنے نظریاتی کارکنوں، پرانے ورکرز اور قربانیاں دینے والے پارٹی رہنماؤں پر ترجیح دی ہے وہ ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں۔یا انہیں ناکام بنا دیا گیا۔ آپ جوزف سٹالن کی مثال لے لیں1923 میں لینن کی وفات کے بعد وہ سوویت یونین کا سربراہ بنا ، اقتدار میں آنے کے بعد سٹالن نے سیاسی معزولیوں کا خوفناک سلسلہ شروع کیا، اس نے آزاد ریاستوں لٹویا،لیتھوانیا اور اسٹونیا کو ساتھ ملایا،اُس نے ہٹلر کو شکست دی، وہ عروج پر تھا، وہ انتہا کا ذہین تھا،مگر اُسے عجیب خوف تھا کہ اُس کے پرانے پارٹی ورکرز و رہنما ہی اسے اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے اور اسے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔اس لیے اُس نے اپنے پرانے ساتھیوں سے پیچھا چھڑانا شروع کیا، اور وہ آخر تک اپنی کابینہ میں اکیلا ہی رہ گیا تھا، اس لیے وہ اپنی اہمیت کھو گیا اور جلد ہی اس کا اقتدار کمزور پڑ گیا اور اسے سب کچھ چھوڑنا پڑا یہاں تک کہ اپنی عمر کے 74 ویں برس میں وہ خود کوعظیم ترین تصور کرتا تھا۔وہ خلل دماغ میں مبتلا ہوگیا پھر وہ آخری ایام میں اپنے ڈاکٹروں کے قتل کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔اسے ان پر بالکل اعتماد نہیں تھا۔مریضانہ حد تک شکی مزاج وہ پہلے سے تھا شبہ کیا جاتا ہے کہ اسکا علاج روک دیا گیا تھا چنانچہ اسکی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ لاعلاج ہو گیا۔
پھر آپ پاکستان میں بھٹو کی مثال لے لیں ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ء کو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے غریبوں کی بات کی، غریبوں کے لیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی۔ پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور،محمود علی قصوری، حیات محمد خان شیر پاؤ اور طارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولانا کوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفیٰ جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئے جب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔اسی طرح وہ پرانے لوگوں سے متنفر ہوتے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ نئے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو ہائی جیک کرنا شروع کیا اور ڈبل گیم کھیلنا شروع کی۔ بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو 1977ء کے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی مصلحتوں کے تحت بھٹو پیپلز پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم میں بدل ڈالا اور پی این اے کے دباؤ میں آکر سیاسی مصلحت کے تحت مولانا مودودی کے گھر پہنچ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ فیصلہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی موت ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں نظریاتی کارکن بھٹو کی مصلحت پسند سیاست کا شکار ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما تھے اور پیپلز پارٹی ایک ملک گیرجماعت تھی اور سارے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ بنک بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا۔ 
1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور پی این اے کے احتجاج کو بہانہ بناکر پانچ جولائی 1977ء کوجنرل ضیاء الحق حکومت پر قابض ہوگیا۔ جنرل ضیاء الحق نے جب یہ دیکھا کہ بھٹو کی مقبولیت اقتدارسے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اس نے غیر سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ چار اپریل 1979ء کو جنرل ضیاء الحق حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے جیالوں نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل کو جس طرح جھیلا یہ کوئی مجھ جیسا پیپلزپارٹی کا اُس وقت کا ایک عام ورکر ہی بتا سکتا ہے، جیالوں نے پیپلزپارٹی اور بھٹو کی خاطر جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، قلعے برداشت کیے، صعوبتیں جھیلیں اور کئی سالوں کے بعد 1986ء میں بے نظیر بھٹو جو لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں ،بالآخر متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ زید کی مدد سے وہ پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہوئیں جہاں عوام نے اُن کا ایسا تاریخی اورشاندار استقبال کیاکہ میں بذات خود اس کا چشم دید گواہ ہوں اُس وقت لاہور کی آبادی آج سے چار گنا کم بھی تھی اور جلسہ گاہ میں کرسیوں کو رواج بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ کھڑے ہو کر اپنے لیڈر کو سنتے تھے۔ مینار پاکستان پر ایسا جم غفیر تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ 

 

(جاری ہے)