!ڈالر اور تیل مہنگا:عوام حقائق جانناچاہتے ہیں


مبارک ہو! چوروں، ڈاکوؤں،لٹیروں، ٹھگوں، جیب کتروں، قبضہ گروپوں،رشوت خوروں وغیرہ کو مبارک ہو کہ عوام اُن کے دیے ہوئے ثمرات سے لطف و اندوز ہونا شروع ہوگئے ہیں، پانچ پانچ سال حکومت کرنے والی دونوں حکومتوں نے عوام کے مزے کرا دیے ہیں۔ ایک ہی دن میں بغیر پیشگی اطلاع کے پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں چھ چھ روپے اضافے کی جو عیدی قوم کو دی گئی ہے میرے خیال میں اس لاچار عوام کے لیے اس سے اچھا اور کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا! ہو بھی کیوں؟ کیوں کہ ہم ہیں ہی اس قابل کہ جب ایک حکومت کرپشن کر رہی ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اسے مدت پوری کرنے دی جائے اور جب وہ اپنی کرپشن کی ’’مدت‘‘ پوری کر چکی ہوتی ہے تو ہم سر پر ہاتھ رکھ کر بددعائیں دے رہے ہوتے ہیں اور حکومتی ارکان بغلیں بجا بجا کر دلاسے دے رہے ہوتے ہیں۔ انہی دلاسوں کی بدولت تو اگلی حکومت میں آنے کے لیے عوام کے سامنے ایک نااہل شخص کبھی کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’’جہاں سے جو ہدایات دوں، ان پر عمل کرنا۔یعنی عوام ’’روبوٹ‘‘ ہیں جنہیں گوالمنڈی کے سپوت ریمورٹ کنٹرول سے ہینڈل کریں گے، یا جاتی امراء کی چھت پر چڑھ کر خطاب فرمائیں گے، یا اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے پیغام رسانوں کے ذریعے عوام کو پیغام دیں گے اور عوام بے تابی سے اپنے سپوت کا حکم بجا لانے کے لیے بے قرار نظرآئیں گے۔ حالانکہ یہ وہی نااہل شخص ہے جسے ابھی تک یہ علم نہیں کہ اُسے امام خمینی بننا ہے، قائداعظم بننا ہے، چی گویرا بنناہے، شیر شاہ سوری بننا ہے یا گاندھی !
اس کنفیوزڈ شخص سے اور اس کی پارٹی ن لیگ سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ یہ کیسی حکومت تھی؟ جس کی طے کردہ معیشت 10دن بھی نہ چل سکی، اور حکومت ختم ہونے کے بعد ہی ورلڈ بینک نے معیشت کے حوالے سے پروانہ جاری کر دیا کہ وطن عزیز کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا ورنہ ملک دیوالیہ ہونے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ یہ کیسی معیشت بنائی گئی تھی کہ 10دن بعد ہی نگران حکومت کی ہوائیاں اُڑ گئیں اور پٹرولیم کی مد میں عوام سے پیسہ اکٹھا کرنا پڑگیا، نئے نوٹ چھاپ کر روپے کی ویلیو کم کردی گئی۔کہاں ہیں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اُن کے تخت نشیں مفتاح اسماعیل جن کے ادوارمیں کئے جانے والے ’’سنہرے کارناموں‘‘ نے آج یہ دن دکھایا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی کی کشتی کو کاغذات میں انتہائی تیزی سے اوپر کی جانب جاتے ہوئے دکھایا تھا جس کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا اور سب کچھ فرض کیا گیا معاملہ تھا۔ گزشتہ 5سالوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سب سے زیادہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرکے ’’ورلڈ ریکارڈ‘‘ قائم کیا ہے۔کہا گیا کہ یہ سارا پیسہ انرجی سیکٹر میں لگایا گیا، کہاں ہے لوڈ شیڈنگ میں کمی ؟آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں 8 گھنٹے سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔
آج تاریخ کی مہنگی ترین بجلی پیدا کی جارہی ہے، انرجی سیکٹر میں جتنے بھی پراجیکٹ لگائے گئے اُن میں بے شمار کمیشنز کھائی گئیں، حقیقت میں پچھلی حکومت نے معیشت کو مضبوط کرنے کے نام پر معیشت کو برباد کرنے کی جو سکیمیں دیں وہ انتہائی بوگس اور جعلی قسم کی تھیں جن میں انتہا درجے کی بدنیتی شامل تھی۔ اگر میں گزشتہ حکومت کو جرائم اور کرپشن کا گٹھ جوڑ کہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اسی گٹھ جوڑ نے معاشرے کا جوڑ جوڑ علیحدہ کردیا اور یہی گٹھ جوڑ عدل و انصاف کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جو اس ملک کو اٹھنے، سنبھلنے اور ٹیک آف نہیں کرنے دے رہی۔اور آج جب عوام کو فوری طور پرعلم ہوتا ہے کہ اُس کی معیشت کا ایک بار پھر جنازہ نکلنے لگا ہے اور ڈالر پکڑ میں نہیں رہا تو وہ انقلابی نگاہوں سے کسی مسیحاکی راہیں دیکھتے ہیں کیوں کہ ان جمہوری حکمرانوں نے تو ملک کو دیوالیہ کرنے کے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔بقول شاعر 

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا 
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا 

 

میرے خیال میں وطن عزیز انسانی تاریخ کا وہ پہلا ملک ہوگا جس کی’’مضبوطی‘‘ بددیانتی کی بنیادوں پر استوار ہوگی کیونکہ ان بنیادوں میں چوری، ڈکیتی،ایمنسٹی اور پلی بارگیننگ کے پتھر ہوں گے۔ ان کا ہر پراجیکٹ کرپشن سے لبالب بھرا ہوا ثابت ہواجن میں سستی روٹی سکیم، لیب ٹاپ سکیم، دانش سکول، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، یوتھ لون سکیم، ٹیکسی سکیم، ہرا ٹریکٹر سکیم، ہیلتھ کارڈ سکیم، میٹروبس پراجیکٹس، اورنج ٹرین نمایا ں ہیں۔ ان میں نہ تو کوئی حکمت عملی نظر آئی نہ سسٹم، نہ میکنزم اور نہ ہی منصوبہ بندی نظرآئی۔ یہ اس سابقہ حکومت کا ہی کما ل ہے کہ پاکستانی معیشت کو اندورنی اور بیرونی خدشات کا سامنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نگران حکومت کا ڈالر پر کنٹرول نہ رہنا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردینا اور ابھی معاشی ماہرین عید کے بعد روپے کی قدر میں شدید کمی کا عندیہ دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں آنے والی 70فیصد اشیائے ضرورت جو امپورٹ کی جاتی ہیں وہ اس قدر مہنگی ہو جائیں گی کہ عام آدمی سڑک پر آجائے گا۔ 
اس کے علاوہ سابقہ حکومت نے 3ارب ڈالر کے سکوب بانڈ جاری کیے تھے جن کی ادائیگیاں2019ء میں شروع ہونی ہیں ،حکومت نے ان بانڈز کا اجرا زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے کیا تھا سابقہ حکومت نے ضمانتی قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے اپنے موٹر ویز اور ائیر پورٹ گروی رکھ دیئے ، حکومت جاری اخراجات پورا کرنے کیلئے روزانہ بینکوں سے قرضے حاصل کر تی رہی،جس سے بینک مزے میں ہیں چونکہ حکومتی ضمانت کی وجہ سے انہیں قرضے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور وہ خاصہ منافع کما رہے ہیں۔جبکہ بینکوں کے تجارتی صنعتی اور کاروباری قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے ،کیونکہ ہماری صنعتیں بحران سے دو چار ہیں جس کی وجہ بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں اور مہنگا ہونا ہے۔لاگتی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسٹائل ملز کے ٹیکس ریفرنڈ بھی صنعتی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ 
افسوس آج پاکستان پر کل قرض 2سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، ملک میں پیدا ہونے والا ہر ہر بچہ 2لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے، آج پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں تیس لاکھ نوجوان داخل ہو رہے ہیں جس میں تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ گریجویٹ بھی شامل ہیں، انہی نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے تحریک انصاف نے اپنے سو روزہ ایجنڈا میں بیس لاکھ نوجوان کو سالانہ نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کی مجموعی ترقی کی شرح 13%سالانہ ہو ،اللہ کرے ایسا ہی ہو، اگلی حکومت ان گزشتہ دو حکومتوں کے علاوہ کسی تیسری پارٹی کو ملے شاید وہ ہی عوام کی مسیحا بنے اور عوام کی ان روایتی لٹیروں، ڈکیتوں سے جان چھوٹ جائے۔جن کی تمام معاشی پالیسیاں اپنے ارد گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں، جو عوام سے حقائق چھپا کر آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرکے شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔ 
بہرکیف نواز لیگ کے گزرے ہوئے پانچ سال سیاست، معیشت، معاشرت پر بہت بھاری ثابت ہوئے۔ تعلیم، صحت، مذہبی رواداری، بین الاقوامی تعلقات، کرپشن،دہشت گردی،ادارہ جاتی تصادم کے بدترین حکومتی رویے اور طرزِ حکمرانی نے ریاست کو مفلوج کر دینے کی حد تک منفی اثرات مرتب کیے۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ڈیڑھ سو کے قریب فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور صرف اسی شعبے سے وابستہ 8لاکھ مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ اسکے معاشی، اقتصادی، پلاننگ اور منصوبہ ساز اداروں میں بیٹھے افراد گزشتہ پچیس سالوں سے اپنے بیرونی آقاؤں اور انکے مقاصد کوپورا کرنے میں مگن ہیں اور حکومتیں اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں مگر وہ تمام افسران شطرنج کے کھیل کی طرح کبھی ایک سیٹ سے دوسری سیٹ پر براجمان ہوکر پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ہر پاکستانی پر قرض ہے۔ قرض کی ’’مے‘‘ پینے والو ں کو اپنی ’فاقہ مستی‘ کے رنگ لا نے کی امید ہے۔قرض لے کر ہی قرض اتاریں جائیں گے تو یہ خوشحالی کیسے آئے گی۔آخر کار دیو الیہ ہو نے پر قرض کی ادئیگی اور وصولی بند ہو جائے گی۔کب تک ملک کے دگرگوں حالات اور دہشت گردی کا رونا رویا جائے گا۔ قرض دینے والے عالمی ادارے اب تو ملک میں خود ٹیکس عائد کرنے کی فرمائش کر تے ہیں۔جبکہ اس سارے عمل میں عوام کو بے خبر رکھا گیا ہے، بے خبر کیسے نہ رکھا جاتا عوام خود کچھ جاننے کے لیے بھی تگ و دو نہ کرتی، اگر عوام میں اتنا شعور آجائے تو حکومتوں کے دو نمبریاں کرنے سے پہلے ہی اُس کا تختہ گرا دے بالکل اُسی طرح جس طرح یورپی و مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔