!لاوارث بیٹیاں


آج سے 26سو سال قبل ’’انا چارسس ‘‘ ایک یونانی فلاسفر تھاجس نے قانون پر بہت خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’قانون ایک مکڑی کے جالے جیسا ہوتا ہے۔ وہ کمزور کو پکڑ لیتا ہے لیکن دولت اور طاقت والے اسے تار تار کر دیتے ہیں‘‘ہمارے معاشرے میں اناچارسس کے یہ الفاظ ہو بہو اس وقت پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں جب 4 جون 2018 کے دن لاہور ہائی کورٹ ملزم شاہ حسین کو بری کر دیتی ہے۔۔۔ یہ وہی ملزم ہے جس نے خدیجہ نامی ایک طالبہ پر اس کے ایک ہم جماعت لڑکے نے خنجر کے 23 وار کیے صرف اس لیے کیے کہ کیونکہ یہ لڑکی اس میں دلچسپی لینے سے انکاری تھی اور اس سے دور رہنا چاہتی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس لڑکی کی گردن کے زخموں کی تصاویر موجود ہیں۔اس کیس کے مطابق21 سالہ خدیجہ اپنی چھ برس کی چھوٹی بہن صوفیہ صدیقی کو اس کے سکول سے لینے کی خاطر گئی۔ وہ گاڑی تک پہنچی ہی تھیں کہ ہیلمٹ پہنے ہوئے ایک شخص ان کی طرف لپکا۔ صوفیہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اور خدیجہ بیٹھ رہی تھیں کہ حملہ آور نے ان کو دھکیلا اور ان پر خنجر کے وار شروع کر دیے۔ ننھی صوفیہ اپنی بڑی بہن کو بچاتے ہوئے زخمی ہو گئی۔خدیجہ کے ڈرائیور نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ہیلمٹ سر سے ہٹ گیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے اسے ایک مشہور وکیل کے بیٹے شاہ حسین کے طور پر شناخت کیا جو لاء کالج میں خدیجہ کا ہم جماعت تھا۔ملزم گرفتار ہوا، مقدمہ چلایا گیا ۔مگر آج دفعہ 324 یعنی اقدام قتل کا یہ ملزم ضمانت پر رہا ہوگیاہے۔ عدالت نے جن وجوہات کی بنا پر ملزم کو بری کیا ان میں چند ایک تو یہ ہیں کہ ۔۔۔ ابتدائی رپورٹ میں میڈیکو لیگل افسر نے فقط گیارہ زخم لکھے تھے۔ بعد ازاں بارہ مزید ڈالے گئے۔۔۔ خدیجہ اور اسکی بہن کا خون بہا مگر عدالت میں انکے خون آلود کپڑے یا گاڑی میں خون کے ثبوت نہیں دئیے گئے۔۔۔ ملزم کا حملہ کرنے کا مقصد موجود نہیں۔ کیونکہ خدیجہ نے مانا کہ اس کے بہت سے دوست ہیں ملزم سمیت جنکے ساتھ اسکی تصاویر موجود ہیں۔ سو یہ الزام غلط ہو جاتا ہے کہ ملزم خدیجہ کو ہراساں کرتا تھا اور انکار پر حملہ کیا۔۔۔ ملزم نے جو چھری برآمد کرائی وہ خون آلود نہیں تھی اور پانچ ماہ بعد ایک پارک سے برآمد ہوئی جو کہ ملزم کا ذاتی علاقہ نہیں تھا۔۔۔ گاڑی سے ملزم کا ملنے والا ہیلمٹ سرخ ہے جبکہ پولیس کانسٹیبل نے کہا کہ کالا تھا۔۔۔ ایک بھرے پرے علاقے میں دن دیہاڑے حملہ ہوا مگر سوائے ریاض، خدیجہ اور اسکی بہن کے کوئی گواہ نہیں پیش کیا گیا۔بقول شاعر 

ظلم تو بے زبان ہے لیکن 
زخم کو تو زبان کب دے گا

 

میں قانون دان تو نہیں مگر معذرت کے ساتھ ان نکات کو پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جیسے خدیجہ ’’جس کے بہت سے دوست‘‘ تھے، اس نے خود ہی خود کو چھریاں مار لیں یا کوئی اور مار گیا اور الزام نا جانے کیوں معصوم شاہ حسین پہ لگ گیا۔اور شاید عدالت کا خیال ہو کہ جس لڑکی کے ایک سے زائد دوست ہوں، اسکو چھری لگ جانا متوقع ہوتا ہے۔اور ویسے بھی پاکستان جیسے معاشرے میں عدالتوں کی خواری سے بچنے کیلئے کوئی بھی آسانی سے گواہ نہیں بنتا۔ ایسے میں انجان لوگ گواہ کہاں سے لائے جاتے؟ کیا زخمی خدیجہ یا اسکی بہن کی واقعہ کے بارے میں گواہی میں کوئی جھول تھا؟ اگر خون آلود کپڑے نہیں پیش ہوے تو یہ بھی تفتیش کا قصور ہے۔خیر باقی نکات وکیل جانیں اور منصف جانیں۔مگر ایک بات تو طے ہوئی کہ چاہے سپریم کورٹ کیس کو خود ہینڈل کیوں نہ کرے مگر نہ جانے مجھے یہ کیوں لگ رہا ہے کہ ملزم بے گناہ ہی رہے گاکیوں کہ میرے ملک میں آج تک کسی اثرو رسوخ والی شخصیت کو سزا نہیں ہوئی ۔ خواہ وہ کانجو ہو، جتوئی ہو، گیلانی ہو، خاور ہو، ریمنڈ ڈیوس یا کرنل جوزف ہو۔ 
ان کیسز کے علاوہ آپ تانیہ قتل کیس دیکھ لیں جس میں سہون میں رشتے سے انکار پر تانیہ کو گھر میں گھس کر قتل کرنے والے ملزم خان محمد نوحانی کو پولیس نے گرفتار بھی کیا۔ملزمان نے اعتراف بھی کیا مگر آج تک انہیں سزا نہ ہوسکی۔ یہ ملزم بدنام ڈاکو غلام قادر نوحانی کا بھتیجا ہے۔۔۔آپ 10 برس قبل بالائی سندھ کے ضلع جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے قصبے حسن سرکی سے 6 سالہ فضیلہ اغواء کے اغواء کا کیس دیکھ لیں، مجرموں نے جرگہ میں تسلیم کیا اورواپسی کا وعدہ بھی مگر پھروہ ادھر ادھر ہوگئے اور پچھلے 10 برسوں سے فضیلہ کی والدہ سکینہ اور والد رزاق ٹھل سے کراچی تک مارے مارے پھرتے ہیں مگر انصاف ہے کہ انہیں مل کر نہیں دیتا۔ 
پھر طیبہ تشدد کیس سب کے سامنے ہے، جس کا 2016 میں بہت چرچا ہوا، وہ ایک جج کے گھر میں کم سن ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔اس کے جسم پر متعدد زخموں کے نشانات پائے گئے تھے، جس میں جسم پر گرم استریوں کے نشان نمایاں تھے، بچی کو سردیوں میں بغیر بستر ٹھنڈے فرش پر سونے کے لیے مجبور کیا جاتا ۔ اس کیس میں ماہین ظفر اور اس کے شوہر جج راجہ خرم علی کو ایک زخمی بچی سے صرف نظر کرنے پر ایک ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی ، تاہم انہیں طیبہ پر تشدد سمیت دیگر تمام الزامات سے بری کر دیا گیا، لیکن اب تاحال خبریں آنے تک اس کیس کا چیف جسٹس سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہوا تھا، اُن کی اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزا دو برس بڑھا دی گئی ہے۔ لیکن اس کیس کا مستقبل کیا ہوگا کچھ علم نہیں!
پھر6سالہ کائنات بتول کیس دیکھ لیں جس میں شاید اُس کے زخم بھرچکے ہوں، لیکن وہ اب بھی زیادہ تر راتوں میں، وہ گھنٹوں تک سوتی رہتی ہے، لیکن جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ بے قابو ہو کر چیخنے لگتی ہے۔ وہ کسی کو نہیں پہچانتی، نہ اپنے والدین کو اور نہ ہی چھوٹے بہن بھائیوں کو۔اُس کے والدین آج بھی وہ لمحے یاد کرتے ہیں جب اُن کی بچی قصور کی مرکزی ہول سیل مارکیٹ کے قریب کچرہ کنڈی سے ملی۔وہ بے ہوشی کی حالت میں تھی، اس کا لباس پھٹا ہوا تھا جبکہ چہرے پر زخموں کے نشانات تھے۔۔۔ پھر کائنات کیس کے 2ماہ بعد مشہور زینب قتل کیس برآمد ہوا، سارا پاکستان سراپا احتجاج ہوا، جس پر راقم کالم بھی لکھ چکا ہے، اور یہ وہی کیس ہے جس پر ملزم عمران کی گرفتاری پر سابقہ خادم اعلیٰ نے تالیاں بجا کر اُ س کے باپ کے زخموں پر نمک پاشی بھی کی گئی تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو 4مرتبہ سزائے موت بھی سنائی تھی، آج کل اس کیس کی شنوائی سپریم کورٹ میں جاری ہے، جس میں ملزم کو رہا کرنے کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ 
جب مذکورہ بالا کیسز میں مظلوم کو انصاف ہی نہیں ملنا تو معاشرے میں ایسے گھناؤنے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہمارا عدالتی نظام ہی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے۔ انصاف ہوتا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ ایک اور مشہور قول ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف کی تدفین ہے۔صرف قانون کی کتاب میں یہ الفاظ لکھ دینے سے عدالت کا احترام نہیں ہوتا کہ عدالت کا احترام کیا جائے۔ عدالت کو غریب اور کمزور کو انصاف دے کر اپنا احترام کرانا ہوتا ہے۔ ایسے کیس دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ عدالت کا احترام نہیں کیا جائے گا۔معاشرے عدل پہ قائم رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اک حدیث کا مفہوم ہے کہ سابقہ لوگ برباد ہو گئے کیونکہ وہ کمزوروں کو انصاف دلانے میں ناکام رہے۔ ہمارا نظام عدل گل سڑ چکا ہے اور اس قدر بدبودار ہو چکا ہے کہ اب میڈیا کے ذریعے اس پر چھڑکا گیا پرفیوم بھی بدبو میں فقط اضافہ ہی کرتا ہے۔ ڈرنا چاہیے ہر منصف کو اس وقت سے جب مظلوموں کی آہیں اور دندناتے مجرم خود انکو ہی نقصان دے دیں گے۔اور پھر چرچل کی مثال سب کے سامنے ہے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی نے پوچھا تھا کہ اب برطانیہ کیسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا تو اُس نے پوچھا کہ یہاں عدلیہ آزاد ہو تو بتایا گیا کہ ہاں عدلیہ آزاد ہے تو اس نے کہا کہ یہ ملک جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔ آج برطانیہ سمیت یورپ، ترکی ، ملائشیا جیسے ملکوں نے اگر ترقی کی ہے تو اس کے پیچھے عدلیہ جیسے اداروں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ 
اگر ہمارے ادارے انٹرپول کے ذریعے ملائیشیا‘ امریکہ اور عرب امارات سے کرپٹ بیورو کریٹس‘ منشیات کے اسمگلر اورسنگین جرائم کے مرتکب افراد کوگرفتار کرکے پاکستان لاسکتے ہیں، انہیں سزائیں دلوا سکتے ہیں تو ان بیٹیوں کے لیے کیوں کچھ نہیں کرتے۔ خدیجہ کیس کے سلسلے میں میری ایک خاتون سوشل ورکر سے بات ہوئی تو اُس نے دل چھو لینے والی بات کی جو شاید ہمارے معاشرے کے کرتا دھرتا افراد کے منہ پر زور دار تمانچہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اگر آپ عورت ہیں تو آپ کو انصاف نہیں ملے گا‘‘ کیا یہاں یہی حقیقت ہے؟ اگر یہی حقیقت ہے تو چیف جسٹس صاحب سے التماس ہے کہ وہ ان بیٹیوں کے کیسز کی سنوائی خود کریں اور عدالتی نظام پر اُٹھنے والی انگلیوں پر خود کارروائی کریں، تاکہ لوگوں کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو!