نئے کاغذات نامزدگی


شنید ہے کہ الیکشن خواہ جیسے بھی ہوں 25جولائی کو ہی ہوں گے، خواہ جیسے بھی ہوں سے میری مراد حلقہ بندیوں کے مسائل ہوں یا مردم شماری کے، فاٹا کے الیکشن کے مسائل ہوں یا کاغذات نامزدگی فارم میں ردو بدل کے ، بقول سپریم کورٹ الیکشن میں ایک دن کی تاخیر بھی برداشت نہیں ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے ہونا بھی ایسا ہی چاہیے، لیکن شفاف انتخابات کے لیے ہم نے کیا کیا ہے؟ تمام سیاستدانوں نے شفاف انتخابات کے لیے تو کچھ کیا نہیں مگر اپنے مفادات کے لیے گزشتہ پانچ سالوں میں 78سے زائد بل ضرور پاس کروا لیے۔ قصور تو ہمارا بھی ہے کہ ہم گزشتہ پانچ سال آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور پڑوسی ملک بھارت الیکشن سسٹم میں جدید نظام متعارف کرواتا رہا، آج بھی وہاں جدید سوفٹ وئیر متعارف کروائے جارہے ہیں، احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کے جدید طریقے سامنے لائے جارہے ہیں اور ایسے ایسے قانون پاس کیے جارہے ہیں جن سے سیاستدانوں کا کرپشن کرنا تو دور کی بات کرپشن کے بارے میں سوچنے سے بھی کتراتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ دنیا میں کرپشن کے حوالے سے بھارت کی رینکنگ کئی درجے کم ہوچکی ہے۔ لیکن یہاں اسمبلی میں بیٹھنے والے اصحاب ایسے ایسے گل کھلاتے ہیں کہ عوام اپنی بہتری کی اُمید لگانا تو دور کی بات اپنے بچاؤ کی جنگ لڑنے لگ جاتی ہے۔ 
آج جب الیکشن 2018ء کے انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور دو دن بعد 8جون کوکاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے، یہ وہی کاغذات ہیں جن میں کمال مہارت سے ردوبدل کے بعد 19کے قریب ایسی شقیں نکال دی ہیں جو ایک تو عالمی سٹینڈرڈ کے برخلاف ہیں ، مذکورہ تمام 19شقیں اسمبلیوں میں بیٹھی اشرافیہ نے اپنے مفادات کے لیے نکالی ہیں۔ حقیقت میں یہ وہی ’’کاغذات‘‘نما فارم ہیں جن کے ذریعے پاکستان کی قومی اسمبلی میں منتخب ہونے والا ہر سیاستدان اپنے کوائف عوام کے سامنے لا کرکے اسمبلی میں پہنچتا ہے۔ 
قارئین کو یاد ہوگاکہ 2017ء میں جب الیکشن اصلاحات کے نام پر چند تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں تو پوری قوم کی نظر محض ناموس رسالتؐ کے حلف نامے پر پڑیں اور دھرنوں کے بعد حلف نامہ تو بحال ہوگیا مگر بقیہ فارم پر کسی کی نظر نہ پڑی، اس سلسلے میں انہی دنوں نجی ٹی وی کے ایک اینکر نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی جس میں ا س فارم کے حوالے سے توجہ دلائی جس کا فیصلہ گزشتہ دنوں یکم جون کو لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی عدالت میں فیصلہ سنا یا گیا تو جمہوریت کے چیمپیئن اسے لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے ، جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ پارلیمنٹ کے بنائے کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم ہیں۔ نئے کاغذات نامزدگی تیار کرتے ہوئے ان میں آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے پورے کیے جائیں۔لیکن دو دن بعد ہی سپریم کورٹ نے اس ڈر سے فیصلہ معطل کر دیا کہ کہیں 25جولائی کے الیکشن تاخیر کا شکار نہ ہو جائیں اس کے بعد الیکشن کمیشن نے نئے شیڈول کا اعلان کر دیا جس کے مطابق نیا ترمیم شدہ فارم ہی قابل قبول ہوگا۔ 
اندازہ لگائیں کہ عام انتخابات 2018 کے لیے تشکیل دیے گئے نئے نامزدگی فارم سے 19 شقیں ختم کی گئی ہیں۔ ان میں دہری شہریت کی شق، آخری تین سال کی انکم ٹیکس تفصیلات فراہمی کی شق، ایگریکلچر ٹیکس کی تفصیلات فراہم کرنے کی شق سمیت غیر ملکی دوروں کی تفصیلات اور فوجداری مقدمات سے متعلق شقیں شامل ہیں۔ امیدواروں کے لیے جاری کردہ نئے فارم میں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد سے متعلق حلف نامہ کی شق بھی ختم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیوی اور بچوں کے نام پر جائیدادوں کی تفصیلات اور تعلیم سے متعلق شق بھی فارم سے خارج کر دی گئی تھی۔موجودہ پیشے کی تفصیلات اور پہلے سے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ہونے کی صورت میں بڑے کام کی تفصیلات فراہم کرنے کی شق کے ساتھ قرضوں اورغیر ملکی پاسپورٹ ہونے سے متعلق شق بھی ختم کی گئی۔بقول اعتبار ساجد 

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ

 

اب جبکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ گزشتہ پارلیمنٹ میں موجود ہر پارٹی کے جید ارکان نے دو سال لگا کر الیکشن قوانین میں اصلاحات بھی کیں تو ایسی کہ الیکشن لڑنے والے کے لیے حرام خوری، ناجائز اثاثے، ٹیکس چوری اور بے نامی جرائم نہ رہیں بلکہ وہ انہیں فنونِِ لطیفہ کے زور پر الیکشن میں کامیاب ہو کر ہمارے سینوں پر پانچ سال یا زندگی بھر کے لیے مونگ دلتا رہے۔ یعنی آئندہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے جو کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں،ان میں پچھلے تین سال میں ادا کیے جانے والے ٹیکسوں کی تفصیلات دینے کا تکلف ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ تصور کیجیے کہ وہ پارلیمنٹ جس نے منتخب ہو کر پوری قوم سے ٹیکس وصول کرنا ہے‘ اس میں موجود ہر پارٹی یہ چاہتی ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ سے ان کے ٹیکسوں کا حساب نہ پوچھا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی پارلیمنٹ میں پہنچانے کا راستہ ہموار کر لیا جائے جو ٹیکس دینا تو دور کی بات ریٹرن فائل کرنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس شرط کے ساتھ ساتھ دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے بھی آسانی پیدا کی گئی ہے کہ وہ الیکشن لڑ تے ہوئے اپنی غیر پاکستانی شہریت کا ذکر نہ کریں جو پہلے ضروری تھا۔ ظاہر ہے دہری (دوغلی) شہریت والا تو ٹیکس کسی دوسرے ملک میں دیتا ہو گا اس لیے کاغذاتِ نامزدگی میں ٹیکس کا ذکر ختم کر دینے کا فائدہ تمام سیاسی پارٹیوں کے بیرونِ ملک بیٹھے سپانسرز کو بھی ہو گا جو الیکشن جیت گئے تو اپنی غیر ملکی شہریت ترک کرکے ہم پر حکومت کریں گے ورنہ واپس جا کر ملک و قوم کا غم کھایا کریں گے۔
میں نے پاکستان کے قرب و جوار کے ممالک کے نامزدگی فارم(Nomination Form) دیکھے، تمام فارمز کا فارمیٹ تقریباََ ایک جیسا پایا، یہاں تک کہ افغانستان جیسے ممالک میں بھی منتخب ہونے والے اراکین اپنے تمام اثاثہ جات اور سالانہ آمدنی اور متوقع آمدنی تک پوچھی جاتی ہے، اُن کے عزیز اقارب کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے، تاکہ کوئی منتخب رکن اگر کسی ذرائع سے جائیداد بناتا ہے تو وہ فوراََ پکڑا جائے اور احتسابی ادارے اس سے پوچھ گچھ کر سکیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں نے بھی اس پہلو پر غور نہیں کیا، یا پراسرار خاموشی اختیار کیے رکھی کیوں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ 
حیرت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس بھی ایک ہی دن میں کیس آیا اور اسی دن انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا۔ حیرت یہ بھی ہے کہ اگر 8 10دن الیکشن آگے ہوجاتے تو قانونی طور پر کوئی فرق بھی نہیں پڑنا تھا۔ لیکن ایسے لگا جیسے عوام بے بس ہے اور ادارے ’’سپر ہیروز‘‘ ۔اور ویسے بھی یہاں پہلے ہی جمہوریت نما بادشاہت قائم ہے اور اگر اب اس فارم کے تحت الیکشن ہو تے ہیں تو عوام کے ساتھ یہ ظلم ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاناما پیپرز کے معاملے کے بعد الیکشن میں کاغذات نامزدگی میں سیاستدان اپنے اثاثوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات دیتے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔ لیکن سب کچھ اُلٹ ہوگیا، کوئی سختی نہ کی گئی اُلٹا تمام جماعتوں کے نمائندگان کہہ رہے ہیں کہ کاغذات نامزدگی کا فارم الیکشن ایکٹ کا حصہ ہے، اسی کے تحت سینیٹ انتخابات 2017 بھی ہوئے تھے، اگر یہ منسوخ ہوتا ہے تو سینیٹ انتخابات پر بھی سوالیہ نشانات اٹھیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ الیکشن اصلاحات کمیٹی جس نے زاہد حامد کی سربراہی میں ترامیم کیں اور ان ترامیم میں تمام بڑی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل رہے تو سپریم کورٹ انہیں بلا کر یہ تو پوچھ سکتی ہے کہ اپنی آسانیوں اور اپنی ہی مراعات کے لیے آخر کب پارلیمنٹ کو استعمال کرتے رہیں گے۔ 
سپریم کورٹ سے دست بستہ گزارش ہے کہ اگر نئے نہیں تو کم از کم 2013ء کے فارمز ہی اپنی اصل حالت میں بحال کردیں تاکہ عوام کے ٹیکسوں پر راج کرنے والوں کے بارے میں عوام بھی پوری طرح جان سکیں۔ ورنہ یہ ملک مزید لٹتا رہے گا اور آپ، میں اور عوام کچھ نہیں کر سکیں گے!، سپریم کورٹ ہی یہ سب کچھ کر سکتی ہے، اُسے کرنا بھی چاہیے اس کے لیے اگر الیکشن دو چار دن التواء کا شکار ہوتے ہیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر شفاف انتخابات نہ ہوئے اور منتخب اراکین میں پھر چور لٹیرے آگئے تو تاریخ ہم سے کسی کو بھی معاف نہیں کرے گی!!!