تحریک انصاف اور’’محاذ‘‘ :چند تجاویز


قارئین جانتے ہیں کہ راقم صوبہ پنجاب کے مختلف انتظامی یونٹ قائم کرنے کے حوالے سے بہت سے کالم لکھ چکا ہے۔ اور اس کی کئی وجوہات بھی بیان کر چکا ہے کہ 12کروڑ عوام کے صوبہ پنجاب کے عوام کے مسائل کسی صورت فرد واحد حل نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے ایک دو ماہ قبل کچھ لوگوں کو خیال آیا کہ جنوبی پنجاب جس کی آبادی 6کروڑ ہے کو الگ صوبہ بنانا چاہیے انہوں نے ’’جنوبی پنجاب محاذ‘‘ کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ جس پر میں نے کالم لکھا کہ اس ’’محاذ ‘‘ کو سیاست کی نذر کرنا گناہ کبیرہ ہوگا۔ کیوں کہ جنوبی پنجاب کے عوام جس کمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا احوال وہی بتا سکتے ہیں۔ اب گزشتہ روز جنوبی پنجاب محاذ اور تحریک انصاف کا آپس میں انضمام ہوا تو بہت شور مچا کہ یہ تو ہونا ہی تھا، اور شاید اس کے ’’اوپر‘‘ سے آرڈر آئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے برعکس میں سمجھتا ہوں کہ قطرہ قطرہ مل کر سمندر بنتا ہے، اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی تین تین دفعہ اقتدار میں آکر بھی عوام کے مسائل حل نہ کر سکی اور ن لیگ تو گزشتہ دس سال سے اس صوبہ میں برسر اقتدار ہے تو اسے چاہیے تھا کہ وہ خود اسے انتظامی بنیادوں پر تقسیم کردیتی تاکہ عوام مشکلات میں نہ رہتے۔ لیکن نہ یہ دونوں بڑی پارٹیوں نے ایسا کیا اور نہ ہی مستقبل میں ان کا کوئی ایسا پلان نظر آتا ہے۔۔۔ اس لیے بالآخر کسی نہ کسی نے تو اس نیک عمل میں پہل تو کرنی تھی ۔ اور یہ زمینی حقائق ہیں کہ ن لیگ سے مقابلے کے لیے جنوبی پنجاب سے چند افراد کچھ نہیں کر سکتے اس لیے انہیں ایک بڑی پارٹی یا بڑی قوت کی ضرورت تھی۔ 
اور ویسے بھی ایک سروے کے مطابق جنوبی پنجاب کے 99.9فیصد عوام الگ صوبہ بنانے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔اور جو 0.1فیصد لوگ بچتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو حکومتی مراعات سے کسی نہ کسی صورت فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ چلیں جنوبی پنجاب کی بات چھوڑیں آپ پورے پاکستان کے لوگوں کی رائے لے لیں، دنیا بھر کے ممالک کی مثالیں میں اپنے پچھلے کالموں میں دے چکا ہوں کہ کس قدر چھوٹے یونٹ رکھ کر ترقی کے زینے طے کیا جاتے ہیں اور اسی سروے کے مطابق پاکستان بھر کے 88فیصد عوام بھی ’’جنوبی پنجاب‘‘ کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں۔جبکہ 12فیصد وہ لوگ ہیں جو یاتو قومیت اور لسانیت کی بنیادوں پر صوبے بنانا چاہتے ہیں یا جیسے نظام چل رہا ہے ویسے ہی چلتے رہنے کے حق میں ہیں۔ 
اب اس قدر بڑے اور عوام دوست اقدام کو آگے بڑھانے کے لیے ’’صوبہ جنوبی پنجاب محاذ ‘‘ میدان میں آہی چکا ہے تو ہمیں اُن کا ساتھ دینے کے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا۔اگر وہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ اس وقت تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے جو قومی مفاد میں اس مقصد کو پورا کر نے کے لیے ایک بھرپور تحریک کا آغاز کر سکتی ہے۔ اس کے بنیادی طور پر تحریک کو دو فوائد حاصل ہوں گے ایک یہ کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں میں تحریک انصاف کا بول بالا ہوگا اور دوسرا یہ کہ مرکز میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کو کم از کم 35سے 40سیٹیں حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اور اب اگر ’’صوبہ جنوبی پنجاب محاذ‘‘ اور تحریک انصاف نے مل کر ساتھ چلنے کی حکمت عملی بنالی ہے تواس حوالے سے چند تجاویز آپ کی خدمت میں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔محاذ کا ’’ایک نکاتی‘‘ ایجنڈا’’صوبہ جنوبی پنجاب کی پنجاب سے علیحدگی‘‘ ہو، اس میں کسی قسم کی ’’سیاست ‘‘نہ ہو، کیوں کہ اگر اسے سیاست کی نذر ہی کیا جانا مقصود ہے تو پنجابی کی ایک ضرب المثل کا اردو میں ترجمہ ہے کہ 

’’برُا رونے سے چپ رہنا بہتر ہے‘‘ 

 

صوبہ جنوبی پنجاب محاذ ، تحریک انصاف میں ضم ہونے کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے پلیٹ فار م سے الیکشن لڑے۔ اور صوبہ بننے تک یہ محاذ اپنی کوششوں کو جاری رکھے ، اگر تحریک انصاف اس معاہدے سے منحرف ہو تو ’محاذ‘ اپنے آپ کو تحریک سے علیحدہ کر لے، تاکہ تحریک کا ون پوائنٹ ایجنڈا متاثر نہ ہو۔۔۔ تحریک انصاف اس محاذ کو کھلے دل سے تسلیم کرے ، اس کے تادم تحریر 21اراکین اسمبلی کو اُن کی اہلیت کے مطابق مقام دے اورنیا صوبہ بننے تک مشترکہ طور پر اس کو متحرک رکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں دونوں اطراف سے ممبران شامل ہوں، اور اس کمیٹی کے ممبران کو کوئی اضافی ذمہ داری بھی نہ سونپی جائے تاکہ یکسوئی اور فوکس کے ساتھ اس پر کام کیا جائے۔ایسا کرنے سے یقیناًبہت سے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ ۔۔۔ ’’محاذ‘‘ اپنے تمام امیدواروں کو تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن میں جانے اور تحریک انصاف کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لینے کا پابند ہوگا۔۔۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے باہمی مشاورت عمل سے میرٹ پر ٹکٹیں تقسیم کی جائیں اور کسی قسم کی سفارش کو ہر گز قبول نہ کیا جائے۔ چونکہ تحریک انصاف کے لوگ بھی جنوبی پنجاب میں ٹکٹ کے حصول کے لیے کوشاں ہوں گے اور جنوبی پنجاب محاذ کے لوگ پہلے سے وہیں موجود ہیں تو تحریک انصاف کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا طے کرنا ہوگا۔ 
اسی طرح ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب محاذ تحریک انصاف کے تمام دفاتر کو مشترکہ آفسز کے طور پر ’’جنوبی پنجاب تحریک ‘‘کے طور پر استعمال کرے۔ اور اگر کہیں کسی قسم کا اختلاف سامنے آئے تو اس کے لیے بھی بروقت مرکز میں سے کسی سینئر رہنماء کی زیرنگرانی ایک وفد وہاں بھیجا جائے جو اختلاف کو ختم کر اسکے۔ یہ وہ فارمولا ہے کہ جو دنیا کی بڑی بڑی پارٹیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اختلاف اُٹھنے سے پہلے ہی کچل دیا جاتا ہے۔۔۔ اور چونکہ اس محاذ کو ناکام بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ پوری طرح تیار رہے گی، اور کئی لیگی اور پی پی پی رہنمابھی اس حوالے سے خاصے متحرک نظر آئیں گے، اس لیے ’’محاذ‘‘ اور تحریک انصاف میں کہیں کوئی اختلاف سامنے آئے تو اس کے لیے عمران خان خود کردار ادا کرکے معاملے کو بڑھنے سے بچائیں۔ اس لیے اعتماد سازی کی بحالی کے لیے آج ہی سے کام کریں۔ 
اگر ’’محاذ‘‘ میں سے کسی شخصیت پر تحریک انصاف کو شک ہو کہ فلاں شخص مستقبل میں اپنی وفاداری بدل سکتا ہے تو ’’جنوبی پنجاب محاذ‘‘ میں شامل لوگوں کو اس بات پر تحریک انصاف کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے کہ وہ مستقبل میں بھی تحریک انصاف کا حصہ ہوں گے۔ ۔۔۔اور جنوبی پنجاب کے عوام کو بھی یہ یقین ہو کہ یہ محاذ ایک نکاتی ایجنڈے پر قائم ہوا ہے اور اس کے بعد یہ قومی دائرے میں ہی شامل رہے گا۔ اور کسی علاقائی سیاست کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ صرف اپنے ایک نکاتی ایجنڈے کے حصول تک اس محاذ کو قائم رکھے گا اور پھر اسے تحریک انصاف میں ضم کرے گا ۔۔۔’’محاذ‘‘ کے لوگوں کی بھی اعتماد سازی کے لیے تحریک انصاف کام کرے اور انہیں سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ، کور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں شامل کرے تاکہ اعتمام کی فضاء بحال ہوسکے۔۔۔ اعتماد حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف اس بات کا اعلان کرے یا ’’محاذ‘‘ کے ساتھ ایک معاہدہ کرے کہ اگر اُسے مرکز میں حکومت مل گئی تو پہلے 100دن میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدام کیے جائیں گے۔ اس کے لیے قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے طور پر صوبہ جنوبی پنجاب کا اعلان کرنا ، قوم سے پہلے خطاب میں اس کو قوم کے ساتھ اپنے منشور کے حصے کے طور پر اسے تسلیم کرنااور اپنے منشور میں اس صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کی معاونت کے ساتھ صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا وعدہ کرنا بھی شامل ہوگا۔ 
یہ وہ چند تجاویز ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر اس محاذ کو ماضی کی طرح سیاست کی نذر ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ دیر آئید درست آئید کے مصداق ’’محاذ‘‘ کے سربراہ خسرو بختیار پر جو الزام ہے کہ وہ اتنے سال مسلم لیگ ن کے ساتھ اقتدار میں رہے اور آخری چند ماہ میں انہیں صوبہ بنانے کا یاد آگیا اس الزام کو رد کرنا ہوگا۔ انہیں ان لوگوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگاجوکاشت کارڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے 370 کلومیٹر پیدل مارچ کر کے لاہور سے پینے کا پانی مانگنے آئے تھے ، خسرو بختیار کو اُن لوگوں کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا جوراجن پور میں انٹرنیشنل طرز کی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے باوجود تعمیر نہ ہو سکنے پر احتجاج کے لیے نکلے تھے۔ لیکن اُن کی ایک نہ سنی گئی اور یونیورسٹی چپکے سے اسلام آباد شفٹ کر دی گئی۔ ’’محاذ‘‘ کو اُن لوگوں سے بھی رابطہ کرنا پڑے گا جو سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد جنوبی پنجاب میں صحت و دیگر اور سہولیات کے حوالے سے باہر نکلے تھے تب خطے کی محرومیوں کا اعتراف حکمراں جماعت نے بھی خود کیا تھا کہ اس خطے کے لیے ہم کچھ نہیں کر سکے! جب یہ تمام سٹیک ہولڈرز ساتھ ملیں گے تو نیا صوبہ بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا! اللہ تعالیٰ اس ملک کا حامی و ناصر ہو(آمین)