!ملکی حالات: عوام جائیں تو کدھر جائیں


ملکی حالات کروٹ کروٹ بدل رہے ہیں، چیزیں اپنی رفتار سے آگے کو جارہی ہیں۔ موجودہ حکومت ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں لیکن مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی، پھر تاحیات نااہلی، پھر وزیرخارجہ خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی، پھر ن لیگ کے بیشتراراکین اسمبلی کا دوسری جماعتوں میں جانا، پھر جنوبی پنجاب محاذ کا شروع ہونا، پھر چوہدری نثار جیسے سینئررہنماؤں کا پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کرنا اور اب وزیرخارجہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہونا (جس کی جتنی بھی مذت کی جائے وہ کم ہے) یہ سب کچھ ایک طرف مگر سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ حکمران جماعت جس نے اربوں ڈالر قرض کو کھربوں ڈالر میں بدل دیا، جس نے پانچ سال عوا کے بارے میں سوچا نہیں، جس نے اس قوم کی تعلیم وتربیت، صحت اور رہن سہن پر توجہ نہ دی اور جس نے کرپشن میں سابقہ سب حکومتوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے، وہ بے دریغ اداروں سے ٹکرا رہی ہے اور شور مچا رہے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ جبکہ عوام سڑکوں پر ہے کہ ووٹ کو چھوڑو ’’ووٹر‘‘ کو عزت دو۔
اب جبکہ الیکشن کا سیزن شروع ہوچکا ہے، ہر جماعت، ہرکارکن، ہررہنما، ہراینکر، ہرصحافی، الغرض ہر میڈیا ہاؤس مکمل تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے لیکن اگر کوئی کنفیوز نظر آرہا ہے تو وہ عوام ہیں، پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں یہاں کے باسی 1954ء سے لے کر آج تک 13واں الیکشن دیکھنے کی تیاری کررہے ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی کنفیوز دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس بار کنفیوژن کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ جب سب کچھ ’’فکس‘‘ ہے تو کون سا ووٹ، کیساووٹ، کیسی ووٹ کی عزت اور کہاں کی عزت؟ اور ویسے بھی پاکستان میں کل ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز میں سے 3.5کروڑ یعنی 42فیصد ووٹر ووٹ کاسٹ کرتا ہے، اس میں سے بھی 30، 40فیصد ووٹ جعلی ڈالے جاتے ہیں اور ان میں سے بھی ہزاروں ووٹ ایسے ووٹ ہیں جو پچھلے الیکشن کی طرح سڑکوں اور کچہرہ کونڈیوں میں پڑے ملتے ہیں۔ کہیں پر تو ووٹ کو اتنی عزت ملتی ہے کہ ایک وقت میں ایک کے بجائے سینکڑوں ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ ووٹ کی عزت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک حلقہ کے ووٹ اعزازی طور پر دوسرے حلقے میں منتقل کر دیے جاتے ہیں اور ووٹر اپنا ووٹ تلاش کرنے میں اتنا ہی ناکام ہوتا ہے، جتنا شریف خاندان اپنے اثاثوں کی منی ٹریل دینے میں ہوا ہے!
افسوس یہاں سب کچھ فکس ہوتا ہے، کوئی امریکہ وسعودی عرب سے ’’منظوری‘‘ لینے کی باتیں کررہا ہوتا ہے تو کسی کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے اس بار جیت اسی کی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آپ خود دیکھ لیں عمران خان کے بقول 2013ء کا الیکشن فکس تھا اور یہی بات پہلے زرداری اور پیرپگاڑا بھی کہہ چکے ہیں، چوہدری شجاعت حسین کے بقول 2008ء کا الیکشن فکس تھا اور امریکہ بینظیر بھٹو کو وزیراعظم دیکھنا چاہتا تھا، ایک سینئرترین صحافی کے بقول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا بھی فکس اور پری پلانڈ تھا۔ اس سے پہلے والے الیکشنز کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ سب فکس تھے تو ایسے میں پھر وہی بات کہ کیسا ووٹ کیسی عزت!
پھر قارئین کو یاد ہو گا کہ ہم بچپن میں نفل پڑھ پڑھ کر تھک جاتے تھے کہ پاکستان کی ٹیم میچ جیت جائے، اب تھوڑا شعور آیا تو پتہ چلا ہے کہ میچ تو فکس ہوا کرتے تھے۔ پھر افغان جہاد میں ہم نے روس کو بددعائیں دیں، مجاہدین کو فنڈ بھی دیئے، پتہ چلا وہ بھی سب کچھ فکس تھا، پیپلزپارٹی کے لیے جیالوں نے ماریں کھائیں، کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں، پھانسیاں لگیں پتہ چلا کہ یہ لوگ حکومت کے ساتھ ملی بھگت کرتے رہے اور جیالے بے خبر ماریں کھاتے رہے۔ اب سنا ہے کہ فیض آباد دھرنا بھی فکس تھا جہاں لوگ مرے، گرفتار ہوئے اور وطن عزیز کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اب سنا ہے کہ پشتون محاذ فکس ہو گیا ہے، اس کے لیے بھی لوگ لڑیں گے، مریں گے، جیلیں کاٹیں گے، بعد میں پتہ چلے گا کہ وہ بھی فکس تھا۔۔۔
حیرت یہ ہے کہ جب میچ فکس، جنگیں فکس، الیکشن فکس، دھرنے فکس، سیاسی جماعتوں کی ڈیلیں فکس اور اب آنے والے الیکشن کے فکس ہونے کی خبریں آرہی ہیں تو ایسے میں کیا عوام کی کنفیوژن میں اضافہ نہیں ہورہا؟ عوام جائیں تو کدھر جائیں؟ اور لوگ ووٹ ڈالنے کیوں نکلیں؟ پچھلے الیکشن میں ہمارا حقیقی ٹرن آؤٹ 40فیصد رہا جبکہ عالمی دُنیا میں ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے 53فیصد دکھایا گیا جب کہ یہی تناسب مغربی دُنیا میں 70فیصد سے زیادہ ہوتا ہے۔ آج عوام الیکشن سسٹم پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وہ پریشان ہیں اور دھنگ رہ جاتے ہیں کہ ہمارا رہنما جیل میں جاتا ہے تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جیل کے اندر رہ کر ہی اس کی 9شوگرملیں بھی بن گئی ہیں۔ ہمارا سیاستدان جلاوطن ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی دُکانداری مزید چمک اُٹھی ہے اور وہ پاکستان کا امیرترین شخص بن چکا ہے۔
عوام پریشان ہیں کہ ان جاہل حکمرانوں کو شرم نہیں آرہی کہ عوام بھوک سے مررہے ہیں اور یہ اپنے خاص چہیتے کو سفیر واشنگٹن لگانا چاہتے تھے اور حکم بھی صادر فرما دیا، یہ تو بھلا ہوا اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہ حکم جاری ہوا کہ موصوف فی الحال یہیں رُکیں۔ جیبیں ٹٹولو تو ہرلیڈر کی جیب میں کسی غیرملک کا اقامہ پڑا ہے۔ یہ نون لیگی قیادت کا اعلیٰ اعزاز ہے کہ پاکستان پر حکمرانی کررہے ہیں اور ورک پرمٹ کسی اور ملک کے بغل میں دبائے ہوئے ہیں۔

 

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

 

ایسا تماشا یورپ کے کسی ملک میں لگے، وہاں کوئی وزیر یا مشیر امارات کا سعودیہ کا ورک پرمٹ رکھے تو نہ صرف اُس کی سیاسی موت واقع ہو جائے بلکہ جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ شرم تو دُور کی بات ہے دندناتے پھر رہے ہیں کہ ’’ہمارا قصور کیا ہے‘‘ اور ’’ہمیں کیوں نکالا‘‘۔ اب ہمیں ’’کیوں نکالا والے‘‘ جب کہتے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ تو یقین کریں ہنسی آتی ہے کہ یہ لوگ ’’ووٹر‘‘ کو چھوڑ کر ’’ووٹ‘‘ کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ بے چارہ ’’ووٹر‘‘ سیوریج کے پانی میں سے گزر کر جب اپنے گھر پہنچتا ہے تو بجلی نہیں ہوتی، گرمی اور اندھیرے سے گھبرا کر تازہ ہوا کے لیے باہر نکلتا ہے تو آلودگی اسے گھیرے میں لے لیتی ہے۔ بیمار پڑتا ہے تو ایسے ہسپتال پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنا بیڈدو اور مریضوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ ادھر ووٹ کی عزت کا نعرہ لگانے والے کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے اور لاکھوں کے کپڑے اور زیورات پہنتے ہیں۔ ان کی چھینک کا علاج بھی ملک سے باہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کبھی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا عذاب نہیں سہا۔ ان کے بچے گیس نہ ہونے کی وجہ سے کبھی بغیر ناشتے کے سکول نہیں گئے بلکہ انہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ کتنی ہی ووٹروں کو دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، اسی لیے تو وہ ایک قیمہ والے نان یا ایک پلیٹ بریانی کے بدلے اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں یا الیکشن کے قریب ایک گلی پکی ہو جانے سے خوش ہو جاتے ہیں، چاہے منتخب ہونے کے بعد ان کے نمائندے باقی پورے پانچ سال شکل بھی نہ دکھائیں۔
بہرکیف! خدارا اپنے ووٹ کی اتنی کم قیمت نہ لگائیں۔ اس مرتبہ وقتی فائدہ کے بجائے دائمی اور اجتماعی فائدہ کے لیے ووٹ دیجئے اور اگر اب کوئی نعرہ لگاتا ہے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ تو عوام کا نعرہ ہونا چاہیے ’’پانی دو، بجلی دو، تعلیم دو، روزگار دو، صحت دو، پارکس دو، لائبریری دو، صفائی دو، آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دو، امن دو، ووٹر کو عزت دو‘‘ جبکہ ان حکمرانوں کے نزدیک یہی نعرے مختلف اشکال میں یکسر بدل چکے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو، ووٹر کو ذلت دو، ووٹر سے سب کچھ چھین لو، ووٹر کو جہالت دو، ووٹر کو فریب دو‘‘۔ حد تو یہ ہے کہ عوام یہ بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، راقم اکثردوست احباب سے کہتا ہے کہ پاکستان کے حالات جس طرح خراب کردیئے گئے ہیں انہیں کوئی معجزہ ہی ٹھیک کرسکتا ہے اور یہ معجزہ انقلاب کی صورت میں ہی آسکتا ہے اور انقلاب بھی اسی صورت آیا کرتے ہیں جب حکمران جماعتیں سسٹم کو بچانے کے بجائے شخصیات کو بچانے کی جنگیں لڑرہی ہوتی ہیں، فرانس کا انقلاب بھی اسی طرح کا انقلاب تھا جس میں غریب آدمی نے محلوں سے نکال نکال کر سرمایہ داروں کے گلے کاٹ دیئے تھے۔ تبھی فرانس ’’فرانس‘‘ بن گیا اور وہ دن دُور نہیں جب پاکستان بھی ’’پاکستان‘‘ بن جائے گا۔