سی پیک :خدشات وتوقعات


قارئین کو بلوچستان میں رکو ڈک ذخائر تو اچھی طرح یاد ہوں گے۔ جنہیں پیپلزپارٹی دور میں اونے پونے بیرونی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دے کر کرپشن کھائی گئی اور ہم جیسے پاکستانی جنہیں کہا گیا تھا کہ 300ارب ڈالر کے ان ذخائر سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ لیکن کیا ہوا؟ کرپشن کی نذر ہونے والے اس منصوبے سے دودھ کی نہریں نکالنے کی اب کوئی باتیں نہیں کرتا۔ پھر عوام کو سی پیک کے بخار میں مبتلا کر کے خوشی کے شادیانے بجائے گئے اور اس دوران ملک کا قرضہ 60ارب ڈالر سے 110ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یعنی کُل 46ارب ڈالر کے پراجیکٹ کے بدلے ہمارے حکمرانوں نے 50ارب ڈالر کے نئے قرضے چڑھا لیے۔ اور پاکستانی حکمرانوں کے پانامہ کارناموں، غیرسنجیدہ رویوں اور کرپشن کی وجہ سے چین نے بھارت، ایران اور دیگر ملکوں سے راہیں ہموار کرنا شروع کردی ہیں ۔جبکہ چین اپنی مرضی کی شرائط پر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔لہٰذاموجودہ حکمران اپنی کرپشن کی خاطر اس منصوبے پر بھی اپنی حکومت کے آخری دنوں میں ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں اس لیے چیف جسٹس کو بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر معاملات کے لیے اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جو پندرہ روزہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے۔ 
اور ویسے بھی یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے لیے ضروری ہے بلکہ اس پر آج سے نہیں کئی دہائیوں سے کام جاری ہے۔ سی پیک منصوبے کا آغاز تاریخی عتبار سے 1958ء میں تیار کیا گیا تھا جب دونوں دوست ملکوں کے قائدین نے قدیم شاہراہ ریشم کو بحال کرتے ہوئے درۂ خنجراب کے راستے چین اور پاکستان کے درمیان سڑک اور ریل کے مواصلاتی رابطے استوار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گلگت اور سنکیانگ کے درمیان سڑک کی تعمیرکے منصونے کا ابتدائی نقشہ تیار کیا تھا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے تین دہائیوں بعد قراقرم ہائی وے وجود میں آئی جو سی پیک منصوبے کے تحت اب چار رویہ موٹر وے میں تبدیل ہونے جا رہی ہے۔سی پیک منصوبے کو موجودہ چینی قیادت نے گزشتہ دہائی کے شروع میں دوبارہ زندہ کیا تھا ۔مگر پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہونے سمیت امریکی ناراضگی کے اندیشے کی بنا پر اس منصوبے کو التواء میں ڈال دیا گیا۔ ا ب موجودہ حکومت نے2015ء میں باقاعدہ معاہدوں کے ساتھ اس پر عمل درآمد کرنے کا آغاز تو کر دیا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو خدشات سامنے آرہے ہیں اُن سے منہ بھی نہیں موڑا جا سکتا۔ 
اس حوالے سے خدشات کی بات کرنے سے پہلے عرض کرتا چلوں کہ جس طرح پاکستان کے لیے اُس کی معدنیات، اُس کی لیبر فورس، سیاحت یا رہی سہی ٹیکسٹائل انڈسٹری ضروری ہے اسی طرح پاکستان کااہم ترین ممالک کے وسط میں ہونا بھی پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ خوش قسمتی اس لیے جنوبی ایشیا ، مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ایک ایسا مقام پر موجود ہونا بھی ترقی کا باعث ہے جہاں سے تمام ایشیائی ممالک کا ملاپ ہو سکے اور اگر ملک صحیح ترقی کرنا چاہتا ہے تو تمام ممالک کو اپنی چیزیں بیچے جس سے کثیر زرمبادلہ اور آمدنی اکٹھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وطن عزیز توانائی کے وسائل کی کمی کا شکار ملکوں اورانکی کی فراوانی کے حامل ملکوں کوملانے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ دنیا کو آج توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔پاکستان کے شمال ، مغرب اور جنوب میں وسط ایشیائی ریاستیں،ایران اور افغانستان کے علاوہ توانائی کے وسائل سے مالامال خلیجی ممالک موجود ہیں جبکہ مشرق میں بھارت اور شمال میں چین توانائی کے وسائل کی کمی سے دو چارہیں۔یوں پاکستان دنیا کے اس حصے میں توانائی کی راہداری کے سنگم پر واقع ہے اور اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ سی پیک کو منصوبوں کی تیز تر تکمیل اور طویل مدتی تکمیل پر مبنی تقسیم کی بنا پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور اس منصوبے کا پہلا حصہ 2020ء میں اور دوسرا 2030ء میں پایہء تکمیل کو پہنچے گا۔ جس کی ابتدائی لاگت 46ارب ڈالر رکھی گئی تھی، جو اب بڑھ کر 62ارب ڈالر ہو چکی ہے۔
پہلا خدشہ یہ ہے کہ اس منصوبے سے پیسے زیادہ کون کمائے گا؟ کتنے گنا زیادہ کمائے گا؟ اور پاکستان کو کیا ملے گا؟ حالانکہ اس منصوبے کی ضرورت پاکستان سے زیادہ چین کو ہے کیوں کہ چین کی قریب ترین بندرگاہ اسکے جنوبی صوبے سنکیانگ سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ گو ادر اڑھائی ہزارکلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اب ایک مال بردار بڑے ٹرالر کی فی کس بچت 2ہزار کلومیٹر کا مطلب ہے کہ ایک ٹرالر کے پیچھے 2لاکھ روپے کی چین کو بچت ہوگی۔ اب اگر روزانہ 7ہزار سے8ہزار ٹرالر مال لے کر جائیں یا آئیں تو چین کو یومیہ بچت ڈیڑھ ارب روپے متوقع ہے جو ایک سال میں لگ بھگ 500ارب روپے یعنی 6ارب ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ 
دوسرا خدشہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کی اکانومی کو بھی سالانہ 6ارب ڈالر فائدہ حاصل ہوگا ؟ اگر ایسا ہے تو کیاپاکستان چند سالوں میں بیرونی قرضے آسانی سے اُتار سکے گا؟ نہیں معذرت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہونے والا، کیوں کہ دستیاب دستاویزات کے مطالعہ سے یہ بات علم میں آئی ہے کہ جس طرح لاہور اسلام آباد موٹروے پر ورلڈ بینک، ایشین بینک اور دوسرے چھوٹے موٹے انویسٹرز کو ساتھ ملا کر پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا اور پاکستان کو موٹروے ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا محض پانچ سات فیصد ملتا ہے، اسی طرح سی پیک کے ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ چینی بینکوں کو چلا جائے گا۔ کیوں کہ ایگزم بنک آف چائینہ، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بنک آف چائینہ اور چائینہ ڈویلپمنٹ بنک اس پراجیکٹ کے براہ راست انوسٹرز ہیں۔ حکومت کی جانب سے اگر پوچھا جائے کہ یہ بنک کتنے مارک اپ پر قرضہ فراہم کر رہے ہیں اور کن شرائط پر کر رہے ہیں اس حوالے سے کسی کو کچھ علم نہیں، یا کوئی کچھ بتانا نہیں چاہتا اس سے بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے ہم نے چین کو پاکستان کا ایک حصہ بیچ دیا ہو اور اب تمام ذمہ داری چینی عہدیداران پر ہی عائد ہو۔ کیوں کہ اس منصوبے میں سب سے بڑا خدشہ تو یہ ہے کہ کسی قسم کے کاغذات پبلک نہیں کیے گئے؟ جو اکا دکا منظر عام پر آتے ہیں، اُن پر ’’مٹی ‘‘ ڈال دی جاتی ہے کہ یہ اصل ڈاکیومنٹس نہیں ہیں۔ 
تیسرا خدشہ یہ بھی ہے کہ چین اپنے اس منصوبے کو افریقی و وسطی ایشائی ممالک سے ہوتا ہوا روس تک لے جانا چاہتا ہے۔ یعنی چین اس پورے منصوبے پر 9سو ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنا چاہتا ہے۔جو چین کو مختلف ممالک سے زمینی راستوں کے ذریعے ملائے ۔ اس انفراسٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم اوراٹلی کے شہر ونیس تک لے جانا مقصود ہے۔ ان منصوبوں کے لئے ایک مخصوص سڑک کے بجائے اس بیلٹ یا کوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ پھیلایا جائے گا۔ یوں چین، منگولیا اور روس، وسطی چین اور مغربی ایشیا، انڈو چا ئنا کا علاقہ، چائنا، پاکستان اور بنگلہ دیش، چائنا، انڈیا اور میانمار کو آپس میں ملانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اگر پاکستان کو اس روٹ کی آمدنی کا 8سے 10فیصد ملنا ہے تو سری لنکا ، میانمار، انڈیا جیسے دوسرے ممالک کو یہ تناسب 40فیصد تک دیا جارہا ہے۔ اور پھر یہ بات کہ اس منصوبے میں ہمارے کرپٹ حکمرانوں کو ذاتی فائدے پہنچا کر پراجیکٹ مارک اپ کم کروایا گیا اس حوالے سے کہیں سے کوئی تردید بھی نہیں آرہی۔ یہ ڈیل کس نے کی؟ کن بنیادوں پر کی، کوئی ذمہ داری نہیں لے گا بقول شاعر 

ہر اک آہٹ تری آمد کا دھوکہ 
کبھی تو لاج رکھ لے اس خطا کی 

 

اب چوتھے خدشے کی سن لیں کہ اس پورے منصوبے میں چینی مفادات غالب آرہے ہیں جس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا، حکومت اپنے ہزار مسائل میں اُلجھی نظر آرہی ہے وہ کیسے اس منصوبے پر چیک اینڈ بیلنس قائم رکھ سکے گی۔ اب گزشتہ دنوں اسی منصوبے کے ایک حصے پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی غنڈہ گردی جسے پوری دنیا نے دیکھا، جنہوں نے پولیس کی مارکٹائی کی، اور پاکستانی پرچم کا خیال بھی نہ رکھا گیا۔اور پولیس وین پر چڑھ دوڑے۔ بات سوشل میڈیا پر آئی ، چینی وزارت خارجہ نے ذمہ داران کو ملک بد رکردیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے معاملہ رفعہ دفعہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں علم ہوا کہ اسی سائیٹ پر کام کرنے والی کمپنی کے طے شدہ لیبر فارمولے سے ہٹ کر ملازمتوں کے زیادہ مواقع چینیوں کو دیے گئے تھے۔ 
پھر ایک اور خدشہ یہ ہے کہ سی پیک کے تحت پندرہ سالوں میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی چینی کمپنیوں کو لیز پر دی جائے گی جہاں بیجوں کی اقسام سے لے کر زرعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے منصوبے تشکیل دیئے جائیں گے۔پشاور تا کراچی مانیٹرنگ اور نگرانی کا مکمل نظام قائم کیا جائے گا ،سڑکوں اور اہم بازاروں میں 24 گھنٹے ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہوگی جس کا ریکارڈ چینی کمپنیوں کے پاس ہوگا، قومی فائبرآپٹک کا ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جائے گا جو نہ صرف ملک کے انٹرنیٹ ٹریفک بلکہ براڈکاسٹ ٹیلی ویژن کی مقامی علاقوں میں ڈسٹری بیوشن یقینی بنائے گا، یہ ٹیلی ویژن چینی کلچر سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے چینی میڈیا سے بھی تعاون کرے گا۔ یہ سب خدشات میرے نہیں مجموعی طور پر اس قوم کے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سے خدشات ہیں جنہیں جگہ کی کمی کی وجہ سے تحریر نہیں کیا جا سکتا لیکن بات صرف اتنی سی ہے کہ قوم کو اگر اعتماد میں لے کر ملکی مفاد کے لیے کام کیے جائیں تو ہم سب کا اسی میں بھلا ہوگا۔لیکن اس کی اُمید کم ہی دکھائی دیتی ہے۔اس لیے چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ ملکی مفاد کی خاطر اس عظیم منصوبے کو سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جائے۔