چوہدری شجاعت حسین کی آپ بیتی’’سچ تو یہ ہے‘‘


ہماری سیاست کی بھولی بھالی شخصیت چوہدری شجاعت حسین جنہوں نے آخر کار اپنی بیتی ’’سچ تو یہ ہے‘‘ لکھ ہی دی، جسے اگر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا صحیح جواب کہیں تو غلط نہ ہوگا، چوہدری شجاعت حسین کو ذاتی طور پر میں جتنا جانتا ہوں یا ان سے ملاقاتوں میں بات چیت کے دوران میں نے جو محسوس کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں نواز شریف کے حوالے سے ’’غصہ‘‘ یہ ہے کہ ان کے خاندان کی وساطت سے سیاست میں آنے والا شریف خاندان کس قدر کرپشن کرتا رہا ہے اور پھر سینہ زوری یہ کہ جب ان سے کوئی یہ پوچھتا ہے کہ ہاں بتاؤ کہاں سے پیسہ آیا تو پھر یہ لوگ اس سے ذاتی دشمنیاں نکال لیتے ہیں۔۔۔ ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کے مطالعے کے دوران یہ محسوس ہوا کہ جیسا مصنف ویسی تصنیف عجیب بھولی بھالی سیدھی سادی، رواں دواں، برجستہ اور کرماں والی آپ بیتی ہے۔ چودھری صاحب پیشہ ور لکھاری نہیں اور یہی سادگی و پرکاری اس کا حسن ہے۔
اس کتاب میں چوہدری شجاعت حسین نے گزشتہ 3دہائیوں سے زائد عرصے سے سیاست میں سرگرم رہنے کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے کاروبار مختلف تجارتی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ان کے والد نے بطور پولیس کانسٹیبل اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔چوہدری شجاعت حسین پہلی بار 1981ء میں اپنے والد کے قتل کے بعد سیاست میں داخل ہوئے۔ وہ جنرل ضیاالحق کی مجلسِ شوریٰ میں شامل ہوئے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں بطور وفاقی وزیر شامل ہوئے۔اس کے بعد 4دفعہ قومی اسمبلی کے رکن رہے۔اور جہاں تک میں انہیں جانتا ہوں انہوں نے اس کتاب میں ایک ایک لفظ سچ لکھا ہے، اس کتاب میں انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کو کھول کر رکھ دیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت میں پیش آنے والے بڑے واقعات کی منظرکشی کی ہے۔
گزشتہ روزمذکورہ کتاب کی تقریب رونمائی لاہور میں ہوئی تو وہ دن یاد آگئے جب راقم انہیں مشورہ دیا کرتا تھا کہ چوہدری صاحب آپ کے سینے میں جو راز دفن ہیں انہیں عوام کے سامنے لے آئیں تاکہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ شریف خاندان اس ملک کے ساتھ کیا کیا کرتا رہا۔ لیکن چوہدری صاحب ’’مٹی پاؤ‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا رہے اور اُن کی شخصیت میں نفیس پن آڑے آتارہا۔ لیکن بادی النظر میں جو انکشافات انہوں نے آج کیے وہ انہیں بہت پہلے کر دینے چاہیے تھے۔ خیر دیر آئید درست آئید کے مصداق اس کتاب میں انہوں اپنے والد چودھری ظہور الٰہی کے حوالے سے بہت سی باتیں اور یاداشتیں تحریر کی ہیں۔ اپنی اور پرویزالٰہی کی پہلی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے جذباتی سی تحریر بھی لکھی ہے، کہ انہیں کس طرح سیاسی قیدی بنا کر جیل میں رکھا گیا اور بدبو دار کمرے میں بدبو دار کھانا اور کمبل دیے جاتے رہے۔ 
نواز شریف سے پہلی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے لکھا کہ میاں نواز شریف سے ہماری پہلی ملاقات 1977ء میں اس وقت ہوئی جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹنے کے فوراً بعد نوے روز میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔ میرے والد لاہور میں بھٹو کے مقابلہ میں الیکشن لڑرہے تھے، ایک روز ہم انتخابی مہم کی تیاری کے سلسلہ میں اپنے گھر کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک ملازم نے آکر بتایا کہ باہر کوئی ’’نوجوان‘‘(نواز شریف) آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس نے چودھری ظہورالٰہی صاحب سے ملنا ہے۔ والد صاحب چونکہ میٹنگ میں مصروف تھے، انہوں نے پرویزالٰہی سے کہا کہ وہ اس نوجوان سے جا کر مل لیں۔پرویزالٰہی باہر آئے تو ایک گوراچٹا کشمیری نوجوان برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس نے پرویزالٰہی کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کے والد میاں محمد شریف نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ وہ چودھری ظہورالٰہی کی الیکشن مہم میں فنڈز دینا چاہتے ہیں۔ پرویزالٰہی نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ الیکشن مہم کے لیے ہم کسی سے فنڈ نہیں لیتے اور یوں یہ سرسری سی ملاقات ختم ہو گئی۔انتخابی میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد میرے والد نے پوچھا کہ باہر کون تھا، تو پرویزالٰہی نے بتایا کہ اس طرح میاں محمد شریف صاحب کا بیٹا آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ان کے والد الیکشن کے لیے فنڈز دینا چاہتے ہیں۔ والد صاحب نے کہا، تم نے اس کو بتایا نہیں کہ ہم الیکشن کے لیے فنڈز نہیں لیتے۔ پرویزالٰہی نے کہا، میں نے تو اس کو یہ بات بتا دی تھی لیکن آپ بھی بتا دیں، یہ کہہ کر اس نوجوان کا وزیٹنگ کارڈ میرے والد کو دے دیا۔ یہ نوجوان میاں نواز شریف تھے۔ 1977ء میں اس ملاقات سے پہلے ہم کبھی ان سے ملے، نہ ان کے بارے میں سُنا تھا۔
اس کے بعد کے حالات کا بھی چوہدری شجاعت نے ذکر کیا ہے کہ وہ کس طرح 1985ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے منصب پر پہنچے اور اس کے بعد جنرل ضیاء نے کس طرح نواز شریف کو جھاڑ پلائی جس سے ان کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔ چوہدری شجاعت نے انکشاف کیا کہ نواز شریف کے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے سے پہلے اسلام آباد ہوٹل میں نواز شریف نے ایک پارٹی میٹنگ بلائی۔ وہاں بہت سے مقررین نے تقریریں کیں۔ میرا تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مجھے مجبوراً تقریر کرنی پڑی۔چوہدری شجاعت نے کہا کہ یہ دیکھ کر کہ ارکان قومی اسمبلی کس طرح نواز شریف کی چاپلوسیاں کررہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں، نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میاں صاحب میں صرف تین باتیں کہنا چاہوں گا، جب آپ وزیراعظم بن جائیں تو ان تین باتوں کا بہت خیال رکھیں۔
.1چاپلوسوں کی باتوں میں نہ آئیں۔.2منافقوں سے دور رہیں۔.3آپ میں ’’میں‘‘ نہیں آنی چاہیے
یہ تین باتیں کرنے کے بعد میں اسٹیج سے نیچے اترا تو تمام ہال تالیوں سے گونج اُٹھا، بعد ازاں جب ہم گاڑی میں بیٹھ کر واپس گھر آرہے تھے تو اسمبلی کے آگے سے گزرتے ہوئے میاں صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ جو تین باتیں بتارہے تھے، وہ دوبارہ بیان کریں، میں نے دوبارہ انہیں وہ باتیں سنائیں۔ لیکن افسوس سے کہنا چاہوں گا کہ میاں صاحب نے میری تینوں باتوں پر اُلٹ ہی عمل کیا۔
اس کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے جو حقیقت میں شریف خاندان کے حوالے سے بہت سے انکشافات ہیں کہ یہ خاندان پاکستان کی سیاست میں کس طرح ’’ان‘‘ ہوا اور کیا کیا کرتا رہا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ عصر حاضر میں اس کتاب کے حوالے سے جتنی تعریف کی جائے کم ہے، اور میرا یہ دعویٰ ہے کہ جس نے بھی چوہدری شجاعت حسین کی اس کاوش کو پڑھا وہ ضرور ان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا۔ انہوں نے 300سے زائد صفحات میں بہت سے موضوعات کو چھیڑا ہے۔ انہوں نے کتاب میں انکشاف کیا کہ پرویز مشرف سے افتخار چوہدری کی شکایت شوکت عزیز نے کی اور افتخارچوہدری کی بحالی پر پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ انہیں ’’جپھا‘‘ ڈال لیں لیکن دونوں کے ارد گرد موجود لوگوں نے صلح کا موقع گنوایا۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے حوالے سے لکھا کے جنرل مشرف کے کہنے پر ڈاکٹر صاحب نے اعتراف کیا کہ انہوں ایٹمی راز افشاں کرنے کے پیسے لیے۔ چوہدری شجاعت نے لکھا کہ نواز شریف، آصف زرداری کے خلاف منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ بنوانا چاہتے تھے تاہم جھوٹا مقدمہ بنانے سے انکار کر دیا تھا جب کہ آصف زرداری نے 2011 میں کہا کہ آپ کی وجہ سے آج صدر پاکستان ہوں۔اپنی کتاب میں چوہدری شجاعت حسین نے مزید لکھا کہ لال مسجد واقعے کے بارے میں سوچ کر آج بھی پریشان ہوجاتا ہوں۔چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا کہ 2008 کا الیکشن فکس تھا اور امریکا بینظیر بھٹو کو وزیراعظم دیکھنا چاہتا تھا۔میرے والد ظہور الٰہی نے رحمان ملک کو نوکری دی لیکن رحمن ملک نے ڈائریکٹر ایف آئی اے بنتے ہی سب سے پہلے مجھے اور چوہدری پرویز الٰہی کو جیل میں ڈالا۔
بہرکیف اس کتاب سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کبھی ہمارے سیاستدان استاد دامن اور حبیب جالب جیسے مجذوبوں کو بھی محبوب اور محترم رکھتے تھے۔ یہ انہی کی تربیت تھی کہ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نوجوانی میں استاد دامن کے حجرے ٹکسالی گیٹ میں حاضری دیا کرتے اور ان کے بزرگ حبیب جالب جیسوں کے نخرے اٹھایا ا ور اس پر فخر کیا کرتے۔ آج اگر ویسے سیاستدان نہیں رہے تو استاد دامن اور جالب کی جگہ پر بھی تو دکانداروں کے سوا کچھ نہیں۔ دونوں انتہاؤں پر قحط الرجال انتہا پر ہے تو وہ مصرعہ ہانٹ کیوں نہ کرے

’’زوال آئے تو پورے کمال میں آئے‘‘

مختصراً یہ کہ ایوب خان کے دور سے گزر کر 1970کے انتخابی معرکے، بھٹودور، 77کی پی این اے تحریک، جنرل ضیا کے عہد اور بینظیر ، نواز زمانوں سے ہوتے ہوئے پرویز مشرف کے عہد سے’’فکس‘‘ ہوچکے الیکشن 2008تک یہ کتاب انتہائی اہم اور قیمتی دستاویز ہے، خصوصاً سیاست کے طالبعلموں کے لئے جنہیں چودھری شجاعت کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔نواز شریف کو بھی چاہئے، ’’فارغ ہو کر کچھ لکھیں، اگر لکھنا آتا ہو، بصورت دیگر کسی منشی کو ڈکٹیٹ کرادیں۔ حالات سازگار ہیں کیونکہ جیل تصنیف و تالیف کے لئے خاصی ریلیف فراہم کرتی ہے۔