ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے عوام کو کیا ملے گا؟


دو سال قبل ہمارے چند حکومتی عہدیداران آئی ایم ایف سے قرض لینے کی غرض سے دبئی میں موجود تھے۔ کامیاب مذاکرات کی شنید سنا کر جب ہمارے لوگ باہر نکلے تو ’’وکٹری‘‘ کا نشان بنایا۔ کسی نے ان اصحاب سے پوچھا کہ ’’سر‘‘ آپ بھیک کا ہاتھ پھیلائے، ساری دنیا میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ ٹیکس وصولی کے نظام کو موثر اور موزوں بنانے کا ارادہ کیوں نہیں کرتے ؟ کیا یہ اس لئے ہے کہ فیصلہ کرنے والے خود بھی ٹیکس چور ہیں؟ ان اصحاب نے مذکورہ سوالات سے ایسے منہ موڑا جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ ’’خوشی‘‘ کے اس موقع پر منحوس مارے نے مزہ کر کرہ کر دیا ہے۔ کیوں کہ پاکستان اگر اپنے ٹیکس سسٹم کو ہی بہتر بنالے تو اسے قرض لینے کی نوبت ہی نہ آئے، یہاں 95فیصد شرفاء ٹیکس دینے کو تیار نہیں، 65فیصد غیر دستاویزی یا بلیک کمپنیاں چلا رہے ہیں جن کا سرکاری کاغذات میں اس کا اندراج ہی نہیں۔یہاں 30لاکھ ایسے افراد موجود ہیں، جنہیں ٹیکس ادا کرنا چاہئے مگر نہیں کرتے۔ جب ملک کے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی دولت کا بڑا حصہ بیرون ملک پڑا ہو۔ جب اپنے طرز عمل سے یہ پیغام وہ دیتے ہوں کہ ملک میں کسی کی دولت محفوظ نہیں تو دوسروں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔
اب جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کسی سے مشورہ کیے بغیر ہی ٹیکس ایمنسٹی سکیم پیش کر دی ،یہ خود تاجر ہیں۔ خود ہی ایڈوائزری کمیٹی بنائی۔ اس کمیٹی نے بھی سکیم سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔اس سکیم کے تحت قومی شناختی کارڈ نمبر ہی انکم ٹیکس نمبر ہو گا، 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہر انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد، 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہو گا، بیرون ملک سے رقوم کو قانونی طریقے سے لانے پر صرف 2 فیصد جرمانہ ہوگا، صوبائی سطح کے ٹیکس کو بھی ایک فیصد کی شرح پر لائیں گے، کم مالیت والی جائیداد 100 فیصد منافع پر حکومت خریدنے کی حقدار ہو گی، ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیا جائے گا جو بعد میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا، ایمنسٹی سکیم 30 جون 2018ء تک جاری رہے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے جتنی بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں لانچ کی گئیں عوام کو رتی برابر بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ملک مزید معاشی مسائل میں دھنستا چلا گیا۔ 
ماضی میں پہلی بار1958ء میں جنرل ایوب خان، 1969 میں پھر جنرل یحیٰ خان ،ذوالفقارعلی بھٹو(1976)،جنرل ضیاء الحق (1979)،میاں محمد نواز شریف (1997)،پرویز مشرف (1999)،یوسف رضا گیلانی (2008)اور میاں محمد نواز شریف (2016)میں بھی اس سے ملتی جلتی سکیمیں لائی گئیں مگر فائدہ کچھ نہ ہوا، بلکہ یہ اعداد وشمار ہی منظر عام پر لانے کی زحمت نہ کی گئی کہ پاکستان کو کتنا فائدہ ہوا اور سیاست دانوں نے کتنا کالا دھن سفید کیا۔ بادی النظر میں اگر فائدہ ہوا ہوتا تو آج کیا پاکستان کی معاشی حالت یہ نہ ہوتی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تیسری مرتبہ ایمنسٹی سکیم لانے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سو کمپنیاں ایسی ہیں جو500ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں جبکہ ہزاروں کمپنیوں میں سے صرف10ہزار ٹیکس ادا کرتی ہیں،عجب بات تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکس چوروں کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جاتی ہے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے یہاں اگر کبھی کوئی سکیم لائی گئی تو اس نے صرف امراء اور سیاستدانوں کے مفادات کو ہی تحفظ دیا اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ کم از کم 6کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ غربت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔
جبکہ ٹیکس وصول کرنے والا محکمہ یعنی ایف بی آر، ملک کے سب سے زیادہ بدعنوان محکموں میں سے ایک ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں مگر اصلاح کے لئے، کبھی کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ کبھی کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایک سابق وزیر خزانہ نے کہا تھا: کم از کم پانچ سو ارب روپے ایف بی آر کے افسر لوٹ کھاتے ہیں۔ٹیکس لائر ٹیکس سے بچنے کے طریقے بتاتے ہیں، ایف بی آر کے ملازمین کی وجہ سے محکمہ ٹیکس کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایف بی آر کے ملازمین سے جب سیاستدان، بڑے صنعتکار جن کا گورنمنٹ کے اندر اثرو رسوخ ہے، وہ رعایت حاصل کرتے ہیں۔ تو پھر وہ رعایت نیچے چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرض کریں کہ اگر میں اپنے اکاؤنٹنٹ سے کہوں کہ فلاں کاروبار میں سے مجھے دو لاکھ ماہانہ ملنا چاہیے اور جب وہ میرے لیے دو لاکھ نکالے گا تو کیا وہ اپنے لیے 50ہزار روپے نہیں نکالے گا؟پھر اُس اکاؤنٹنٹ کا اسسٹنٹ بھی پیسے نکال لے گا، پھر اُس کا آفس بوائے بھی یہی کام کرے گا۔ اور اسی طرح ہی کرپشن اوپر سے نیچے تک کا سفر کرتی ہے۔ کہتے ہیں ناں کہ اگر بادشاہ ایک حرام کا انڈہ کھاتا ہے، تو اُس کی فوج کو اس قدر چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ سارے مرغ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ سول ادارے ، افسر شاہی ، ایف بی آر ، عدلیہ اور پولیس ، تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سول ادارے جب تک مضبوط نہ ہوں ملک مضبوط نہ ہو گا۔ سیاسی پارٹیوں کا عزم یہ ہے کہ ایسا کبھی ہونے نہ دیا جائے۔ ملک کو نعروں میں الجھائے رکھا جائے گااور عوام کو کچھ نہیں ملے گا بقول شاعر ۔

خواب سے محکوم گر بیدار ہوتا ہے کبھی
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

 

بھارت نے 2016 میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا لیکن سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والوں سے 45 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح صرف 2فیصد رکھی گئی ہے۔ اس سے بھارتی حکومت کو 294 ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں۔جبکہ ہماری وصولیوں کی تاریخ ہی مبہم دکھائی دیتی ہے۔ اور تو اور دوسرے ملکوں میں ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں جیل یا سزا سے بچنے کے لیے نکالی جاتی ہیں مگر یہاں کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے اس طرح کی فراڈ بازی کی جاتی ہے۔ 
ہمارے ہاں افسوس تو یہ ہے کہ جب ہر بڑا سیاستدان و صنعتکار ٹیکس نہیں دے گا تو چھوٹے سرمایہ دار ٹیکس کیوں دیں گے؟ٹیکس ایمنسٹیاں دینے والوں کو تو یہ تک کی خبر نہیں ہے کہ آخر معاشی طور پر ہم کھڑے کہاں ہیں سوائے حکومت کے کسی کو کچھ پتا نہیں ہماری قومی معاشی پالیسی اور خزانے کا ذمہ دار ہے کون؟دنیا بھر میں معاشی پالیسی کو10سال کے لئے بنائی جاتی ہے اور یہاں تجربات کی ہنڈیاں ہر وقت چولہے پر رہتی ہے،حکومت کے آخری چند ماہ ہیں مگر عوام کی حالت کیسے اور کب سدھرے گی یہ روٹی کھاتے ہیں نعرے نہیں،علاج کے بیرون ملک جانے والے نیب زدہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں نے بیڑہ غرق کر دیا مگر وہ بیمار شخص ٹی وی پر آکر اپنی ہی حکومت پر چڑھ دوڑتا ہے معیشت کو ٹھیک کر کے تو دکھاؤ ؟ عجب بات ہے،وہ یہ بھول گئے ہیں کہ انہی کی پالیسی کے تحت لئے گئے قرضوں پر اربوں ڈالر تو سود کی مد میں قومی خزانے سے چھلانگ لگا جائیں گے،ملکی وسائل کا استعمال تک نہیں کیا گیا فلاحی و ترقیاتی کام کہاں سے ہوں گے حکومت اس کام کے لئے رکھے فنڈز کا بھی اجراء نہیں کر پائی ،1001ارب روپے میں سے 400ارب روپے جو مختلف منصوبوں کے لئے مختص تھے وہ حکومتی اخراجات کی نذر ہو گئے،کیا شاندار معاشی پالیسیاں ہیں کبھی ہم موٹروے ،کبھی ائیر پورٹ،کبھی پورٹ گروی رکھتے ہیں اس کے باوجود عوام کے مفاد سے منسلک کوئی پالیسی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی،برآمدات ختم ہو چکی ہیں درآمدات آسمان کو چھو رہی ہیں،قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔
اب پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر نے غریب آدمی کی کمر سرے سے ہی توڑ دیا ہے،سیمنٹ،سریا سمیت دیگر تمام تعمیراتی سامان کی قیمتوں ہوش ربا اضافے سے عام آدمی تو اپنے لئے چھت بھی نہیں بنا سکتا،ماضی میں کالا دھن سفید کرنے والی اسکیموں سے ہمیشہ اشرافیہ کو ہی فائدہ پہنچا ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے آخری دو ماہ میں جاری کی جانے والی اس سکیم سے بھی وہ لوگ زیادہ فائدہ اٹھائیں گے جنہوں نے پاکستانی مہنگے ترین یورو بانڈز خریدے تھے جن کا مجموعی تعلق بر سر اقتدار پارٹی سے ہے،عمران خان نے اس سکیم کے خلاد عدالے جانے کا اعلان کر دیا ہے،بلاول بھٹو نے اس ایمنسٹی سکیم کو پانامہ ایمنسٹی سکیم قرار دیا،سینیٹر رضا ربانی نے اس سکیم سے محنت کش طبقے کو مزید نقصان ہو گا۔ اگر سب اس بات پر متحد ہیں تو پھر ایسی سکیموں کو ختم کیوں نہیں کروایا جا سکتا ، جس کا براہ راست عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اپوزیشن میں اتنی ہمت نہیں تو ہم یہی سمجھیں گے کہ یہ سب چور چکے ملے ہوئے ہیں!!!