!ذیشان بٹ : سوال پوچھنے پر موت


جس معاشرے میں سوال پوچھنے پر موت ملے، آئینہ دکھانے پر بچے قتل کرد یے جائیں، رنگے ہاتھوں پکڑنے والے کو اُس کے گھر میں گھس کا مار دیا جائے، صاحب کا ’’حکم‘‘ نہ ماننے پر نوکری سے نکال دیا جائے، میرٹ کو روند کر اپنے جرائم پیشہ پالتوؤں کو مختلف فورسز میں بھرتی کیا جائے، اداروں کی تباہی، میرٹ کی موت، اندھی اقربا پروری بلکہ سفلہ و چمچہ پروری، کرپشن کی افقی و عمومی پروموشن، رولز کو ریلیکس اورگندہ کرنے کے کلچر کی آبیاری ہو، سرکاری ملازموں کو ذاتی مالشیے بنالیا جائے وہاں ’’گڈگورننس‘‘ کے نام پر کیسے کیسے گل کھلائے جاتے ہیں اس پر تو ایک پوری کتاب لکھ دینی چاہیے ۔ 
گزشتہ ہفتے ہمارا ہی قبیلے (صحافت) کا ایک ادنیٰ سے صحافی ذیشان بٹ کو قتل کر دیا گیا، جسے میں جانتا تک نہیں نہ اس کے حسب و نسب کو جانتا ہوں اور نہ ہی ان کے مکتب و مسلک سے واقف ہوں۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ ان پر ظلم ہوا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر باضمیر انسان کے ضمیر کی آواز ہے۔ حضرت علیؓ کے فرمان کے مطابق حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے جبکہ ظلم کے ساتھ نہیں۔اسی طرح حضرت امام حسینؓ کے فرمان کے مطابق ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھوگے اتنی ہی زیادہ قربانی دینی پڑے گی۔ذیشان کے کیس کے سامنے آنے اور خصوصاََ اس کی آڈیو کال ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد دل رنجیدہ ہوگیا، ذیشان بٹ کو 27 مارچ کی دوپہر کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ دکانداروں پر عائد کیے جانے والے ٹیکس کے حوالے سے معلومات لینے یونین کونسل بیگ والا کے دفتر پہنچا، وہاں چیئرمین یونین کونسل اور مبینہ ملزم عمران چیمہ سے اس کی تلخ کلامی ہوگئی اور اس نے صحافی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔صحافی ذیشان بٹ نے ان دھمکیوں کے حوالے سے 15 پر فون کرکے پولیس کو آگاہ کیا۔اس کے بعد ذیشان بٹ نے چیئرپرسن ضلع کونسل حنا ارشد کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ یوسی چیئرمین نے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں، ابھی وہ فون پر بات کر ہی رہا تھا کہ اس پر فائرنگ کردی گئی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔صحافی کی کال ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تو میڈیا میں کیس کو ’’پر ‘‘لگ گئے، پھر سپریم کورٹ حرکت میں آئی، از خود نوٹس لیا گیااور گرفتاری ہوئی یاشاید نہیں ہوئی(واللہ علم) ،مقدمہ ذیشان کے اہل خانہ کی مدعیت میں درج ہوا ، کون کون چشم دید گواہ ہے،کون کون اپنی زبان سے پھر جائے گا، اس کیس کا مستقبل کیا ہے؟ کچھ علم نہیں،ایک نااُمیدی نے ذہن کو مردہ کر رکھا ہے کیوں کہ جس معاشرے میں سرعام رشوت لینے والے کی ویڈیو منظر عام پر آئے اور اسے پنجاب کا ایجوکیشن منسٹر لگا دیا جائے۔ اورجو شخص ماڈل ٹاؤن میں 14لوگوں کو سرعام گولیاں مار کر شہید کر دے اور اسے وزیر قانون لگا دیا جائے۔ اور جو شخص گجرات میں درجنوں لوگوں کا قاتل ہو اس کے ہاتھوں سے ہمارے حکمران سونے کے تاج پہنیں تو عقل و شعور کا مارا جانا فطری عمل ہے۔ 
اور ویسے بھی عالمی سطح پر ہماری صحافتی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ خاصہ بد ترین ہے۔ پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق آزادی صحافت میں 180 ممالک کے مابین پاکستان کا درجہ 139 ہے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں 117 صحافیوں کی خونریزی کی گئی جس میں سے محض 3 کیسز کی عدالت میں سماعت ہو سکی۔اور سماعتیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ ملزم اپنے اثر ورسوخ کے ذریعے تمام گواہوں کو ٹھکانے لگا دیتے ہیں، تفتیشی افسروں کو دھمکاتے یا انہیں رشوت کے ذریعے ’’گرا‘‘ لیتے ہیں۔ اس واقعہ کو دیکھ کر پاکستان کے 28 سالہ رپورٹر ولی خان بابر یاد آ گئے، لیاقت آباد کراچی میں دو قاتلوں نے چار گولیاں سر جبکہ ایک گردن میں اتار کے قتل کر دیا تھا۔ ولی خان بابر کو بے باکی سے ریاست کی خانہ جنگی، ٹارگٹ کلنگ، قبضہ مافیا اور بجلی چوری پر آواز اٹھانے پر مار دیا گیا۔ ان کے کیس کی تفتیش کرنے والے بیشتر افسران کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں پولیس کا مخبر، دو پولیس کانسٹیبل اور تفتیشی افسر کا ایک بھائی تھا۔جبکہ اس مقدمے میں شامل 6مزیدگواہوں کو بھی قتل کر دیا گیا ، قتل ہونے والے ایک کانسٹیبل آصف رفیق جائے وقوع پر موجود تھا جس نے قاتلوں کی گاڑی پہچان لی تھی۔
اس کے علاوہ اغوا ہونے والے صحافی رزاق گْل کی لاش جنوبی بلوچستان سے ملی جن پر 15 گولیوں کے زخم اور تشدد کے واضح نشانات تھے۔ اس طرح کے اور واقعات بھی ہیں، جن میں اورنگزیب تونیو، ان کے بھائی رستم تونیو اور ایک دوست دیدار کے ساتھ 20 گولیوں سے مار دیا۔ تینوں آدمی اورنگزیب کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اورنگزیب مقامی براڈ کاسٹر میں بیورو کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ سندھ کے ایک گاؤں لالو رنوک میں 535 میل کے فاصلے میں یہ واقعہ رونما ہوا۔ حملہ آوروں نے ناکام شادی پر ایک خبر پر طیش میں آ کر اورنگزیب کو قتل کیا۔
یہ پاکستان ہی کی بات نہیں بلکہ پاکستان جیسے کرپشن سے لتھڑے ہوئے ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے ابھی چند ماہ قبل مالٹا میں کرپشن کو بے نقاب کرنے اور وزیر اعظم کی آف شور کمپنیوں کے کیسز پر تحقیقات کرنے والی صحافی کاروانا کو بھی قتل کردیا گیا۔وہ بینکوں میں آن لائن گیمز کے ذریعے مالٹا میں منی لانڈرنگ ہونے والا پیسہ بے نقاب کر رہی تھی۔ وہ بھی سرکار کے نوکروں کا پردہ چاک کرنے کا جرم کر بیٹھی تھی۔مگر ان ممالک کے برعکس برطانیہ، امریکا ور اس یورپی ممالک میں صحافت کا عبادت سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال اوسطاََ 1000ٹاپ سٹوریز کے ذریعے مختلف سکینڈلز کو بے نقاب کیا جاتا ہے۔ امریکا میں یہی تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ چند سال قبل پاکستان کرکٹ ٹیم پر لگنے والے سپاٹ فکسنگ کے الزامات بھی برطانوی اخبارات کے صحافیوں نے بے نقاب کیے تھے۔ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پوری دنیا میں ہلچل پیدا کرنے والے سکینڈل بھی صحافیوں نے ہی منظر عام پر لانے کے لیے کام کیا۔ 
حقیقت میں یہاں ایسا کلچر نہیں ہے، یہاں کسی سے سوال پوچھنا جرم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ جب حکمران کرپٹ ہوں تو اس کے نیچے کام کرنے والا عملہ بھی کرپٹ ہوتا ہے۔ موجودہ حکمران دولت کی وحشیانہ دوڑ کے موجد ہیں ، ہیروئن فروشی سے کہیں زیادہ منافع بخش اس کاروبار سیاست میں ان سے پہلے کتنے ’’پراپرٹی ڈیلرز‘‘ عوامی نمائندے بنتے تھے اور آج کتنے اس گنگا میں اشنان فرما رہے ہیں؟ کوئی سنجیدگی سے سروے کرے تو یہ روح فرسا انکشاف قومی طبیعت صاف کردے گا کہ پاکستانی عملاً بالواسطہ یا بلاواسطہ پراپرٹی ڈیلروں کے پاس گروی پڑے ہیں اور اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ یہ لوگ اس ملک کو دلدلوں سے نکالیں گے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس ذہنیت کے نزدیک پاکستان بھی پارک لین کے ایک اپارٹمنٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ بیرون ملک پراپرٹی خریدنے کی جو وبا پاکستان میں پھیلی، ہندوستان کی سیاست میں کیوں نہیں پھیلی حالانکہ چوری چکاری میں وہ بھی کم نہیں لیکن ’’گھر‘‘ کو لوٹ کر مال مسروقہ گھر میں ہی رکھتے ہیں۔ ٹیکس چوری کا شک پڑ جائے تو بڑے سے بڑے پھنے خان کے بیڈز سے لیکر واٹر ٹینکس تک ادھیڑ دیئے جاتے ہیں۔ نریندر مودی ولن ہے، وزارت اعلیٰ سے وزارت عظمیٰ تک پہنچا ہے لیکن بیرون ملک تو کیا، اندرون ملک بھی شاید ہی اس کی کوئی جائیداد ہو۔ مودی کا’’چائے خانہ‘‘ تو سیون سٹار ہوٹلوں کی چین میں تبدیل نہ ہوسکا تو یہ منتر انہیں کہاں سے ملا کہ خود تو کل وقتی ’’کاروبار سیاست‘‘ میں مصروف رہے لیکن ’’کاروبار‘‘ پھیلتے پھیلتے پاناما تک پہنچ گیا۔
یہ انہی کا کمال ہے کہ مجھ جیسے یہ لکھنے کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارا مسئلہ تباہ حال اقتصادیات نہیں، زوال زدہ اخلاقیات ہے۔ انہوں نے معاشیات میں نقب لگائی ہوتی تو شاید ہم جیسوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی لیکن انہوں نے تو ہوس زر میں دانستہ یا نادانستہ اجتماعی اخلاقیات کا ہی جنازہ یوں نکالا کہ معاشرہ میں ’’رول ماڈلز‘‘ ہی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔ یہ انہی کی بدولت ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ موجود ایک چھوٹا سا ’’چیئرمین‘‘ غنڈہ بن گیا ہے، جو عوام کو غلام بنانا چاہتا ہے، اور سوال پوچھنے پر موت کی سزا وہ خود سنا دیتا ہے!اے کاش یہ معاشرہ یہ قوم اور اس کے باسی جاگ جائیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ورنہ کیا صحافی، کیا پولیس، کیابیوروکریٹ ، کیا منشی، کیا استاد سب ہی ان کے ہتھے چڑھتے رہیں گے اور غلامانہ زندگی ان کا مقدر ٹھہرے گی!