!!!’’ہارس ٹریڈنگ ‘‘اور جنرل الیکشن


چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان آج کل 24گھنٹے کی ’’مشاورت‘‘ چل رہی ہے ۔ زرداری صاحب محض 20سینیٹرز رکھنے کے باوجود اپنا چیئرمین لانے کے لیے اس قدر بے تاب ہیں کہ ایک عرصے بعد ان کے چہرے پر اس قدر مسکراہٹ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے خزانے کی کنجی اُن کے ہاتھ لگ گئی ہو۔ بلاول بھی اس قدر خوش و خرم نظر آرہے ہیں جیسے مستقبل کی قانون سازی وہ اپنی مرضی کے مطابق کروائیں گے اور پھر اس ملک سے سونے کی کانیں دریافت ہو جائیں گی، دودھ کی نہریں بہہ نکلیں گے اور کہیں نہ کہیں سے تیل کے کنویں بھی برآمد کر لیے جائیں گے۔ اس تمام عمل میں سب کے ’’دوست‘‘ مولانا فضل الرحمن 4سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ’’مشاورت ‘‘ کرنے میں پورا پورا دن خرچ کر رہے ہیں۔ سینیٹ کے ان 52افراد کے انتخاب سے لے کر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب تک کم و بیش 25 سے 30ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس دوران تمام جماعتیں ایک دوسرے پر’’ہارس ٹریڈنگ ‘‘کا الزام لگا رہی ہیں مگر مجال ہے کوئی اس حوالے سے سنجیدہ ہو کہ واقعتا اس ملک سے ’’دھاندلی‘‘ جیسے عمل کو نکال باہر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے سابق نااہل وزیر اعظم کا نیا’’ بیانیہ‘‘آ چکا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کیخلاف کمیشن بنایا جائے ، مسلم لیگ ن ہارس ٹریڈنگ کے سخت خلاف ہے ، ہماری پارٹی کبھی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہیں ہوئی، ہم سمجھتے ہیں اس حوالے سے کارروائی ہونی چاہیے۔۔۔ حالانکہ مسلم لیگ ن نے ہی 1985ء سے ’’ہارس ٹریڈنگ ‘‘ کی بنیا درکھی تھی ، جب ہار جانے والے سیاستدانوں کو سینیٹ میں کھپایا جانے لگا تھااور یہ عمل دخل 1993ء میں عروج پر ہوگیا جب صنعتکاروں کو بھی سینیٹ میں بھیجنے کی روایت اسی جماعت کی طرف سے قائم کی گئی، جو ایوان بالا میں جا کر کچھ نہیں کرتے ، اور اس طرح بھانت بھانت کے لوگ اس ایوان کا حصہ بننے لگے۔ ورنہ بقول شاعر 

ہم کسی بھی دور میں ، غرقِ جنوں ایسے نہ تھے
دشمنوں میں جنگ میں بھی بے سکوں ایسے نہ تھے

 

آگے چلنے سے پہلے ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی اصطلاح پر نظر ڈالتے ہیں یہ ایک ایسی علامت ہے جسے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہونے والی بد دیانتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مگر اس کا عمومی استعمال پارلیمنٹ میں وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے لیے محدود کر دیا گیا ہے۔ بد دیانتی کے لیے اس اصطلاح کا استعمال امریکا میں اس وقت شروع ہوا جب وہاں انیسویں صدی میں گھوڑوں کی تجارت اپنے عروج پر تھی۔ اس وقت وہاں گھوڑوں کی تجارت میں جھوٹ کا استعمال اس قدر تھا کہ کسی کا جھوٹ بولے بغیر گھوڑے بیچنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں 1895ء کے دوران جب امریکی پارلیمنٹ میں اخباروں کے اپنے سرکولیشن کے متعلق جھوٹے دعووں کے خلاف قانون زیر بحث آیا تو اس مجوزہ قانون پر ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے ادارتی صفحہ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں عجیب و غریب تنقید کی گئی۔ مذکورہ مضمون میں اس موقف کے تحت تنقید کی گئی کہ اگر پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے جھوٹ پر پابندی عائد کر دی تو امریکا میں گھوڑوں کی تجارت ممکن نہیں رہے گی اور اگر گھوڑوں کی تجارت ختم ہوئی تو ان کے ذریعے کی جانے والی ضروریات زندگی کی تجارت بھی ختم ہو جائیگی جس کے بعد ملک شدید قسم کی مالی مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ گو کہ جھوٹ کو قابل جواز قرار دینے کی کوشش کرنے والے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مذکورہ مضمون کا بہت مذاق اڑایا گیا مگر اس تحریر کا عمومی اثر یہ ہوا کہ وہاں ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کا استعمال جھوٹ اور بد اعتمادی کے متبادل کے طور پر ہونا شروع ہو گیا۔
سینیٹ کے حالیہ انتخاب کے بعد پیپلز پارٹی اور اس کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سب سے زیادہ ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کے الزامات کی زد میں ہیں۔ آصف علی زرداری پر ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ جیسے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی آصف علی زرداری ہیں جن کے 2008ء تا 2013ء دور حکومت میں سینیٹ کے دو انتخابات ہوئے تھے اور انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے یہ کوشش کی تھی کہ جوڑ توڑ اور ہارس ٹریڈنگ کے بجائے ہر جماعت کو سینیٹ میں نمائندگی کا اتنا حق ملنا چاہیے جتنے اس کے ممبران اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ آصف زرداری بڑی حد تک اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آصف زرداری نے فاٹا سے منتخب اپنے ایم این اے اخونزادہ چٹان کو مارچ 2012ء کے سینیٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے سے اس لیے منع کر دیا تھا کیونکہ اس وقت الزام لگ رہا تھا کہ فاٹا کے 12 ممبران قومی اسمبلی 4 سینیٹرز کو منتخب کرنے کے لیے کروڑوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ جب آصف علی زرداری ہارس ٹریڈنگ اور انتخابات میں پیسے کے لین دین سے ووٹوں کی خریدو فروخت کے خلاف کوششیں کر رہے تھے، تو وہ اس وقت بھی سب سے زیادہ الزامات کی زد میں تھے اور آج بھی انہیں ہی تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ نہ تو آصف علی زرداری کے دور حکومت میں ان کی کوششوں کے باوجود سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خرید و فروخت رک سکی تھی اور نہ ہی حالیہ سینیٹ الیکشن کو اس علت سے پاک قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
افسوس کی حد تو یہ ہے کہ 2013ء کے الیکشن کے بعد نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو دھاندلی کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے لیے عمران خان میدان عمل میں تھے، کافی شور مچا کچھ لوگ اس عمل کے خلاف کھڑے ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس پر تنقید کی ۔ لیکن جمہوری ملکوں میں الیکشن میں دھاندلی اسی طرح شجر ممنوع ہے جس طرح تمام مذاہب میں جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا، قتل کرنا اور اپنے عمل سے انسانیت کو نقصان پہنچانا گناہ ہے۔ دھاندلی کے خلاف تحریک دھرنوں میں تبدیل ہوئی، چار حلقے کھولنے کے لیے پورے ملک کو بند کرنا پڑا، سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی، ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا، پوری دنیا میں سب کو علم ہوگیا کہ یہاں دھاندلی کے خلاف شور مچا ہوا ہے۔ عمران خان کو مخالفین کی طرف سے خاصی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔۔۔ لیکن ان سب چیزوں کے بعد ہمارے پارلیمنٹرین نے کچھ کیا؟ نہیں کچھ نہیں کیا گیا، ہاں اگر کچھ ہوا تو یہ ہوا کہ انتخابی اصلاحات بل پاس ہوا جس میں سب کا اس بات پر فوکس رہا کہ کس طرح ایک نااہل شخص کو پارٹی کا صدر بنایا جائے اور اس کے لیے کیسے راستے ہموار کیے جائیں۔ 
ہم نے 23کروڑ عوام کے لیے جنرل الیکشن کروانے کی تیاری کیا کرنی ہے ہم تو سینیٹ انتخابات میں اس قدر اُلجھ گئے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر بھی شک ہونے لگا ہے کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہوگی۔ اور ویسے بھی الا ماشاء اللہ پاکستان کا نام دنیا کے ان 10بدترین جمہوری ملکوں میں ہونے لگا ہے جہاں دھاندلی زدہ الیکشن کروا کر مرضی کی حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ خیر سینیٹ کا حالیہ الیکشن ہوا جس میں 52اُمیدواروں کا انتخاب ہونا تھااور 1000کے قریب منتخب رکن قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنا ووٹ استعمال کرنا تھا اُس میں اس قدر شدید دھاندلی اور ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی خبریں سامنے آئیں کہ عوام شرمندہ ہوئے اور اس قدر ہوئے کہ ماضی کی تمام ہارس ٹریڈنگ، ڈونکی ٹریڈنگ ، مانکی ٹریڈنگ اور نہ جانے کون کون سی ٹریڈنگ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 
ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب ہم ان 52اراکین کے انتخاب میں اس قدر دھاندلی اور روپے پیسے کا استعمال دیکھ اور سن رہے ہیں تو عام جنرل الیکشن کا کیا حال ہوگا۔خیر سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد عوام یہ اخذ کر رہے ہیں کہ سیاستدانوں نے دھاندلی پر قابو پانے کے لیے، ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے، ملک کے اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے، ملک میں منصفانہ طرز زندگی کے لیے کوئی کام نہیں کیا اور اگر کچھ نہیں کیا تو ہم پھر یہ کیوں نہ کہیں کہ یہ اسمبلیاں عوام کے لیے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لیے بنائی جاتی ہیں جہاں اپنے اپنے حقوق کی جنگ لڑتے یہ پارلیمنٹیرین اپنا مفاد سمیٹ کر واپس چلے جاتے ہیں، اگر ہم حق سچ پر ہوتے تو جیسے 2013ء میں یہ الزام لگا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہم اسے ثابت کرتے کہ دھاندلی نہیں ہوئی اوراگر ہوئی بھی ہے تو آئندہ نہیں ہونے دیں گے۔ پھر ہم نے ثابت کیا کہ ہم اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ہم پانچ سال پہلے جن غلطیوں کی نشاندہی کر رہے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ اسی لیے ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ ہم کتنے نالائق لوگ ہیں جو اپنی غلطیاں جانتے ہوئے بھی اسے دور کرنا تو درکنار اس بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔لہٰذاہمیں حالیہ آنکھوں دیکھی ہارس ٹریڈنگ پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے بجائے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگلا جنرل الیکشن سر پر آچکا ہے، نئی حلقہ بندیاں بھی تنازعات کا شکار ہیں، ہمیں ان تمام مسائل کو حل کرکے الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے اقدام کرنے ہیں ورنہ 2018ء کے الیکشن میں دھاندلی ہوگی جس کی آواز 2023ء تک سنائی دے گی اور ہم تب بھی کچھ نہیں کر سکیں گے!!!