Post With Image

الیکشن میں کامیابی پر خارجہ پالیسی امن و استحکام پر مبنی ہو گی: شہباز شریف


وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ‏ہماری خارجہ پالیسی امن و استحکام پر مبنی ہو گی، پاکستان نے بھارت کے جواب میں اپنے دفاع کے لئے ایٹم بم بنایا۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کروانے پر توجہ دے۔ دو ایٹمی پڑوسی ممالک کا امن سے رہنا مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے. وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اسلام آباد میں غیرملکی سفارت کاروں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ سفارت کاروں سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق جموں وکشمیر کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے بارے میں پاکستان میں مکمل اتفاق اور یکسوئی پائی جاتی ہے. شہباز شریف نے کہا پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دہشتگردی کےخلاف جنگ میں کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد و اتفاق کے باعث ممکن ہوئی۔ پاک فوج کے 2009 میں سوات آپریشن، 2014 کے ضرب عضب اور موجودہ ردالفساد آپریشن تک پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے.شہبازشریف نے کہا سی پیک خطے میں باہمی معاشی تعاون کی بہترین مثال ہے۔ ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کرنے پر چین کے شکرگزار ہیں۔ چینی صدر شی شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کے تحت دونوں ممالک اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں. روسی سفیر کے سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتخاب میں کامیابی کے بعد ‏ہماری خارجہ پالیسی امن و استحکام پر مبنی ہو گی،‏ سیکیورٹی کے بجائے اب اقتصادی ویژن کو لے کر آگے چلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے، پاکستان میں امن کا قیام افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا