Post With Image

نقیب اللہ قتل کیس ، راﺅانوار جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی ملزم قرار


نقیب اللہ محسود قتل کیس میں پولیس نے راﺅانوار کو جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی ملزم قرار دے دیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم راﺅانوار جائے وقعہ پر موجود تھے، تمام کارروائی اور پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت کے روبرو پیش کیے گئے پولیس چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نقیب اللہ، صابر ،اسحاق اورنظرجان کو ایک کمرے میں بند کرکے مارا گیا۔ پھر بعد میں چاروں کی لاشیں الگ الگ کمروں میں ڈال دی گئیں۔ پولیس کی پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کی ڈی این اے رپورٹ موصول ہوگئی ہیں۔ جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق ملزم راﺅانوار جائے وقعہ پر موجود تھے، تمام کارروائی اور پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزمان کو ایک سے 5 فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں۔ واقعے کہ وقت تمام ملزمان ایک دوسرے سے رابطے میں تھے، دوران تفتیش ملزم راﺅانوار اپنے ملوث نہ ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، ملزم راﺅانوار مسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتارہا۔رپورٹ کے مطابق راﺅانوار جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی کردار قرار ہے، جب کہ اے ایس آئی گدا حسین، سب انسپکٹر شعیب عرف شوٹر سمیت 10 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ عدالت نے چالان منظور کرتے ہوئے مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کو منتقل کردیا۔ راﺅانوار اور قمر احمد کو 14 مئی کو اے ٹی سی میں پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راﺅانوار کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعدمیں سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا