Post With Image

خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں ،غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے ،چیف جسٹس


چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ جس دن نااہلی کا فیصلہ آیا اس دن عدالت کے باہر بے چاری خواتین کو شیلٹر بنا کر عدلیہ مردہ بارد کے نعرے لگوائے گئے، اگر ان میں غیرت ہوتی اور مرد کے بچے ہوتے تو خود سامنے آتے۔ میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس حکومت پر سخت برہم نظر آئے ۔ اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا ’ میں کسی شیر کو نہیں جانتا‘چیف جسٹس نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ اصل شیر ہیں۔ نااہلی کیس پر فیصلے کے بعد عدالت کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، بے چاری خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں ، اگر غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے ، مرد کے بچے بنیں اور خود سامنے آئیں ۔اپنی نیتیں صآف رکھیں۔ اس موقع پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا بات زبان سے بڑھ گئی ہے،میڈیا کی آزادی عدلیہ کی آزادی سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگااتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں ہے۔ دوسری جانب خبر کے مطابق آلودہ پانی کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ وہ جنوری کے پہلے ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کریں اور عدالت کو بتائیں اور یقین دہانی کرائیں کہ کب تک صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 6 دسمبر کو وزیر اعلیٰ سندھ کو کہا تھا کہ وہ عدالت کو اس بات سے آگاہ کریں کہ حکومت صوبے میں پینے کے پانی، بلدیاتی انتظام، صنعتوں اور ہسپتال کے فضلے سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے۔بینچ نے حکم دیا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ پینے کے پانی کی فراہمی اور سیوریج نظام کے اخراج کو مناسب تیار سیوریج سسٹم میں تب ہی ڈالا جاسکتا ہے جب وزیر اعلیٰ سندھ منظم طریقے سے حتمی تاریخوں میں ان مسائل کو حل کریں۔عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ سے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ ضلعی سطح کے حوالے سے رپورٹ دیں گے جس میں دریائے سندھ، اس کے کینال اور دیگر ذرائع میں گرنے والے فضلے سے پانی کو صاف کرنے کے کام کی حتمی تاریخ بتائی جائے گی۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا