عراق: ہلاکتیں 100 ہو گئیں، وزیراعظم کا مظاہرین سے مذاکرات کرنیکا اعلان

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، چار روز کے دوران مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد100 ہو گئی ہے جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تو سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان اور مظاہرین سڑکوں پر آ گئے، اس دوران سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جو بعد میں مظاہرے پر تشدد شکل اختیار کر گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد میں 18 افراد سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں، مظاہروں کا سلسلہ ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکا ہے۔ مظاہرین کرپشن کے انسداد اور نوکریوں کی فراہمی کے مطالبے کر رہے ہیں۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت ہے، خوراک کی کمیابی اور بیروزگاری سے عوام کو فاقوں کا سامنا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اگر معیار زندگی کو بہتر بنانے کے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مظاہرین پھر سے سڑکوں پر لوٹ آئیں گے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم سنائپرز نے بغداد میں چار لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے، ہلاک ہونے والوں میں سے دو کا تعلق پولیس سے ہے۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے لگایا گیا کرفیو میں نرمی کی گئی ہے، انتظامیہ نے صبح کے اوقات کے دوران کرفیو اُٹھا لیا ہے۔ عراقی وزیراعظم عبد المہدی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات سنے جا سکتے ہیں ہماری شرط یہ ہے کہ حالات کو کنٹرول سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ اُدھر عراق میں حالات خراب ہونے کے بعد دو ممالک نے اپنے شہریوں کو ملک کو فوری طور پر چھوڑنے کا کہا ہے۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناء کویت نے بھی اپنے شہریوں کو عراق میں بلا کسی وجہ سے رکنے سے روکا ہے اور کہا ہے کہ عراق کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔