آزاد کشمیر : جس سے معاہدہ ، اُس پر پابندی !

آزاد کشمیر کے حالات بارے ایک رپورٹ دیکھ رہا تھا جس میں آئی جی آزاد کشمیر پولیس لیاقت علی ملک اپنے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ، کشمیر میں گزشتہ روز شہید ہونے والے 6اہلکاروں کے بارے میں وہ جذباتی گفتگو کر رہے تھے اور فورسز کا خون گرما رہے تھے،،، وہ تقریر میں اُن عناصر سے بدلا لینے کی باتیں کر رہے تھے جن کے ہاتھوں یہ اہلکار شہید ہوئے،،، یقینا یہ اُن کی ڈیوٹی ہے، اپنے جوانوں کا مورال ڈاﺅن ہونے سے بچانے کے لیے اگر آپ یا میں بھی اُن کی جگہ ہوتے تو یہی تقریر کرتے جو موصوف فرما رہے تھے،،، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حالات اس نہج پر پہنچتے ہی کیوں ہیں؟کسی ایک صوبے میں امن و امان ہے تو بتا دیں،،، جہاں کوئی حقوق کی بات کرتا ہے، خواہ وہ سیاسی شخصیت ہو، مذہبی شخصیت ہو یا عام آدمی ،،، اُسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ بلکہ حکومت جن کیساتھ مذاکرات کرتی ہے اور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دے دیتی ہے۔ اُن پر پابندی لگا دیتی ہے۔ جیسے آزاد جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا معاملہ دراصل خود حکومت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔کیوں کہ چند ماہ پہلے ہی 4اکتوبر 2025ءکو حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا، جس پر موجودہ وفاقی حکومت کے پانچ وزراءسمیت آزادکشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھوراور ایکشن کمیٹی کے تین رہنماﺅں راجہ امجد ، شوکت نواز میر اور انجم زمان اعوان کے دستخط موجود ہیں۔ جن وزراءنے اس معاہدے پردستخط کئے وہ اب ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں۔ جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے،،، اور سب سے زیادہ شور برطانیہ میں ہے جہاں مقیم کشمیریوں کی کمیونٹی اس لیے بھی متحرک ہے کہ جب منگلا ڈیم کا پراجیکٹ بنایا گیا تھا تو پورے میر پور کو ہی برطانوی نیشنلٹی دے دی گئی تھی،، اس لیے وہاں پر کشمیریوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے،،، اور یہ ایک متحد کمیونٹی کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے آئے ہیں،،، حالانکہ وہاں پر پنجابیوں اور سندھیوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے،،، مگر وہ اتنے متحد نہیں ہیں، جتنے وہاں پر کشمیری متحد ہیں۔ اور ان کے متحد ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ہی اُنہیں بھارت کے خلاف متحد کیا تھا، اور اب وہ بھی آہستہ آہستہ متنفر ہو رہے ہیں۔۔۔ بلکہ یہ معاملہ تو اب برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گیاہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر گروپ کے سربراہ عمران حسین نے 30 دیگر ارکان کے دستخطوں سے حکومت پاکستان کو مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں آزادکشمیر میں پیدا ہونیوالی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عمران حسین اور ان کے کشمیر گروپ سے بھارت ہمیشہ نالاں رہا ہے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں پر بھارت کے ظلم وستم کیخلاف ہمیشہ بھرپورآواز اٹھائی ہے۔آج وہی عمران حسین آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ بقول شخصے کیا اب عمران حسین کو بھی بھارتی ایجنٹ قرار دیا جائیگا؟ پچھلے ایک سال میں پاکستان نے بھارت کو فوجی اور سفارتی میدان میں پسپا ہونے پر مجبور کیا لیکن اب ایسے غلط سیاسی فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کرئیگا۔ آزادجموں وکشمیرمیں موجود حالیہ بے چینی کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس خطے میں جب بھی کوئی اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو وہ غیر ملکی ایجنٹ قرار پاتا ہے۔ تحریک آزادی کے ہر اہم موڑ پر کشمیری قیادت آپس میں لڑنے لگتی ہے اور انکی جدوجہد پر منفی اثر پڑتا ہے۔ مت بھولیے کہ پاکستان 14 اگست 1947ءکو قائم ہوا اور کشمیریوں کی موجودہ تحریک آزادی 13 جولائی 1931ءکو شروع ہوئی۔ 13 جولائی آج بھی یوم شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کشمیریوں کی مزاحمت قیام پاکستان سے قبل شروع ہو چکی تھی۔ بہرحال وہاں پر مقامی جماعتوں کو اہمیت دی جائے اُن کے لیڈران کو تحفظ دیا جائے، سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں،،، غلط الزامات نہ لگائیں،،، کیوں کہ ابھی تک انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں کے گھروں میں چھاپے مارے ہیں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُن کے گھروں سے غیر ملکی کرنسی جس میں بھارتی روپیہ بھی شامل ہے، ریکور کیا ہے،،، مطلب! وہی پرانی کارروائیاں،،، اگر کوئی بھارتی ایجنٹ ہوگا بھی تو وہ اپنے گھر بھارتی کرنسی ہی کیوں رکھے گا؟ کیا اگر اُسے بھارت کی طرف سے ادائیگی ہو رہی ہے تو وہ اُسے بھارتی روپوں میں ادائیگی کریں گے؟ لہٰذاان کی اس قسم کی حرکتیں پھر ساری چیزوں کو مشکوکت بنا دیتے ہیں۔ اور یہی سے عوام میں آپ کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے،،، اور پھر تبھی آپ کے ہاتھ سے بنائی ہوئی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں آپ کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں،،، یعنی آپ تحریک انصاف ہی کو دیکھ لیں، کھربوں روپے لگاکر تحریک انصاف کی مہم چلائی، جب انہوں نے سوشل میڈیا مکمل طور پر سنبھال لیا اور نوجوانوں کو شعور آگیا تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا،،، اب آپ انہی نوجوانوں کے خلاف ہیں،،، اور اگر کوئی بولتا ہے تو پھر اُسے غدار قرار دے دیتے ہیں،،، پھر یہی نہیں آپ نے تحریک لبیک کو تیار کیا، پھر اُسے استعمال کیا، پھر جب اُس کے ساتھ کئی مواقعوں پر معاہدے بھی کیے، اور پھر اچانک سب ختم کردیا اور اُس جماعت پر ہی پابندی لگا دی۔ پھر آپ خود دیکھیں کہ بلوچستان میں جس جس نے بھی حقوق مانگے وہ غدار کہلایا،،، پھر وہاں پر کئی تنظیموں کے ساتھ تو معاہدے بھی کیے گئے،،، مگر سب بیکار ، بعد میں اُنہی جماعتوں پر پابندی لگا دی اور اُن کے قائدین کو غدار قرار دے دیا گیا۔ الغرض کوئی منصفانہ الیکشن مانگے تو وہ غدار قرار دیا جاتا ہے، کوئی بروقت انصاف مانگے تو وہ بھی غدار قرار ، کوئی لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو وہ غدار، کوئی مہنگائی کے خلاف بات کرے تو وہ غدار، کوئی واپڈا کے بے لگام بلوں کے خلاف بات کرے تو وہ غدار ،،، کوئی یہ پوچھ لے کہ آپ پوری دنیا میں سب سے مہنگا پٹرول کیوں فروخت کر رہے ہیں تو اُس پر غداری کا مقدمہ۔ آخر آپ حکومت اور فیصلہ کرنے والے چاہتے کیا ہیں؟ یقین مانیں مجھے تو ڈر ہے کہ ہم جو کشمیر کے ساتھ کرنے جا رہے ہیں، اگر آج وہاں پر رائے شمار ہو جائے تو آپ اپنی ایمانداری سے بتائیں کہ کتنے فیصد کشمیری پاکستان کا ساتھ دیں گے؟ لہٰذاسوچنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت ہم کہاں سٹینڈ کر رہے ہیں؟ اور پھر میں اکثر سوچتا ہوں کہ جتنا ”سرکار “نے عوام کو اپنے خلاف کر لیا ہے، اگر حالات یہی رہے یا اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہوئے تو خدانخواستہ یہ بیرونی قوتوں کے سہارے پر آجائیں گے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم قصے کہانیوں یا تاریخ کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے کہ جب دشمن کی فوج نے ملک میں قدم رکھا تو عوام نے اُن کا استقبال کیا،،، ویسے میں نے اس حوالے سے کبھی یقین نہیں کیا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے،، لیکن معذرت کے ساتھ اب یقین ہو رہا ہے کہ ہاں! ایسا بھی ہوتا ہوگا۔ اس لیے میرے خیال میں سرکار عوام کو خود سے متنفر نہ کرے، بیٹھ کر بات کرے کیوں کہ بات کرنے سے بڑی بڑی جنگیں ختم ہو سکتی ہیں تو یہ سب مسائل حل کیوں نہیں حل ہو سکتے؟ بہرکیف حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عام انتخابات سے قبل آزاد کشمیر کے معاملات میں سازگار حالات پیدا کیے جائیں تاکہ سب جماعتیں آزادانہ بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ اگر حالات سازگار نہیں رہتے تو آزادانہ انتخابات یا پ±رامن انتخابات ممکن نہیں ہو سکیں گے۔کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے اور صوبائی خود مختاری پر زور دے رہی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جبکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا فیصلہ منتخب اسمبلی کرے گی۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی جو کہ بغیر اسمبلی کے ممکن نہیں۔حکومت نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی بلا وجہ معاملات میں خرابیاں پیدا کر رہی ہیں اور انتشار کو ہوا دینا اس کے ایجنڈے کا حصہ بن گیا ہے اس لیے اس تنظیم پر پابندی لگانا یا اسے کالعدم قرار دینا حکومت کی مجبوری بن گئی تھی۔لیکن کسی بھی تنظیم پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتابلکہ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے معاملات اور بگڑ جاتے ہیں۔اس لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اس بات پر راضی کرنا ہوگا کہ وہ بھی اپنے رویے میں سختی کو کم کرے اور مفاہمت کی طرف آگے بڑھے۔آزاد کشمیر حساس علاقہ ہے اور بھارت کی یہاں کے معاملات پر نظر رہی ہے۔اس لیے حکومت کو آزاد کشمیر کے معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ حکومت طاقت کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ آزاد کشمیر میں حالات خراب ہوتے ہیں تو بھارت اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔پہلے ہی بھارت اور افغانستان کے تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں حالات کی خرابی کے باعث دہشت گردی کے مزیدواقعات سامنے آسکتے ہیں۔البتہ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ گلگت بلتستان ہو یہ آزاد کشمیر کے معاملات ‘ وفاقی حکومت کو وہاں صوبائی خود مختاری اور بہت سے ترقیاتی امور پر زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ لوگ بہت زیادہ شدت کے ساتھ اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ان کی اسلام آباد سے ناراضی کی وجہ بھی بنیادی حقوق کی عدم فراہمی ہے۔اس لیے حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ وہاں لوگوں میں ناراضی کیوں ہے اور کیوں ایکشن کمیٹی جیسی تنظیمیں اپنی اہمیت کو بڑھا رہی ہیں!