لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خواتین کو بدنام کرنے کے لیے ڈیپ فیک ویڈیوز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان میں ڈیپ فیک ویڈیوز کے بارے میں آگاہی کم ہے، مجھے ہر پیشی پر لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ میری ویڈیو ڈیپ فیک ہے، ایسی صورتحال میں عدالتی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم یونٹ کی استعداد کار میں اضافہ بھی موجودہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پنجاب حکومت نے ہتک عزت کا قانون لایا تو کچھ لوگوں نے اس پر تنقید کی، کچھ لوگوں نے کہا کہ پنجاب حکومت قانون سازی کے ذریعے اختلاف رائے کو دبا رہی ہے، لیکن اب لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہتک عزت کا قانون درست ہے۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جعلی ویڈیوز کے معاملے میں میرے پورے خاندان نے میرا ساتھ دیا۔ ڈیپ فیک ویڈیوز ایک تاریک پہلو ہیں جو خاص طور پر خواتین کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔










