پی ٹی آئی کا احتجاج 9 مئی سے کم نہیں تھا، شرجیل میمن

کراچی: سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج 9 مئی سے کم نہیں تھا، اہم مواقع پر ایسی کالز کرنا اچھی روایت نہیں ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو تین روز سے جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، بیلاروس کے صدر وفد کے ساتھ پاکستان آئے، چین سے بھی وفد آیا، پی ٹی آئی اہم مواقع پر ملک کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اس افسوسناک اقدام نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، اہم اوقات میں ایسی کالز کرنا اچھی روایت نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے احتجاج کی قیادت کی، صوبہ خیبرپختونخوا کی پوری مشینری استعمال کی گئی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب پولیس کو یرغمال بنایا گیا، تشدد کیا گیا، رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو شہید کیا گیا، وفاقی حکومت نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا، وزیر داخلہ کہتے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ انہیں لاشیں ملیں، وفاقی حکومت، وزیر داخلہ کافی متحرک نظر آئے، وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں کی خواہش پوری نہ کی۔شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کہتے تھے کہ میری بیوی غیر سیاسی ہے، پی ٹی آئی کی بیوی بہت سیاسی نکلی، وہ پی ٹی آئی کے بانی سے دو ہاتھ آگے ہیں، بشریٰ بی بی کارکنوں کے جذبات کو بھڑکا رہی تھیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ جب پولیس نے کارروائی شروع کی تو سب سے پہلے علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی فرار ہوئے، ان کے اپنے بچے ملک سے باہر پرامن زندگی گزار رہے ہیں، ان کی کال 9 مئی سے کم نہیں تھی، یہ سب کی آنکھیں کھلنے کے لیے کافی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا کردار انتہائی منفی رہا ہے، ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا، لوگ چہروں پر ماسک پہن کر آرہے ہیں، ان کے مظاہرین کے ہاتھوں میں آنسو گیس کے شیل ہیں، کس ملک میں پولیس، فورسز ہیں۔ اور رینجرز پر حملہ کیا؟ یہ کیسا احتجاج سرکاری املاک کو آگ لگا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ریاست کو یرغمال بنا لیں، ہم بھی عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں، آپ بھی عدالتوں کا سامنا کریں اور ریلیف حاصل کریں، یہ ممکن نہیں کہ آپ ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کریں، اب کہاں؟ کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھاگ گئے؟