وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ عوام ہر وقت دھرنے میں رہیں، دھرنا تحریک انصاف کے بانی کی کال پر دیا گیا تھا اور ان کی کال پر واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں، جب ہمارے لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان سے زبردستی کی جاتی ہے۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی کی کال آنے تک یہ دھرنا جاری رہے گا، ہماری جماعت پر زبردستی کی گئی، ہم پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا لیڈر جیل میں ہے، ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا، ہمارا دھرنا جاری ہے اور یہ دھرنا تحریک انصاف کے بانی کی کال تک جاری رہے گا، ہم پرامن جماعت ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملک میں آئین کی بالادستی کی بات کی ہے، ہماری جماعت پر ڈھائی سال سے ظلم ہوا، ہمارے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن ہم نے پرامن طریقے سے اپنے حقوق کی بات کی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم جب بھی اجتماعات کی بات کرتے ہیں اجازت نہیں دی جاتی، عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا، ہم نے اسلام آباد مارچ کے لیے پرامن احتجاج کی کال دی تھی، پی ٹی آئی کے بانی نے ہمیں ڈی چوک جانے کی اجازت دی، میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ دھرنا جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران ہمارے بہت سے لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، ہم پرامن تھے، ہم پر تشدد اور گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ اگر ہم پر تشدد نہ کیا جاتا تو ہمارے لوگ پہلے سے جواب نہ دیتے۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے خلاف 9 مئی کے مقدمات درج ہوئے، مجھے کوئی ویڈیو دکھائیں میں کہاں ہوں، جس ملک میں وزیر اعلیٰ کو انصاف نہ مل سکے وہاں عام پاکستانیوں کا کیا حال ہے؟










