Post With Image

نبی پاک ﷺ نے سونے سے پہلے بستر جھاڑنے کی تلقین کیوں کی ؟مغربی سائنسدانوں کی ایسی تحقیق سامنے آ گئے کہ جان کر آپ حیران رہ جائیں


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق رہنمائی موجود ہے اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے آج سے 14 سو سال قبل جو سنت اختیار کی تھی اور ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھاآج سائنس بھی ان احکامات کو

 

درست تسلیم کر رہی ہے۔ پیارے نبی ﷺ نے جہاں سونے سے قبل باوضو ہونے کا حکم دیا تو وہیں نماز سے قبل دانتوں کو صاف کرنے کا حکم بھی موجود ہے اور سائنس کہتی ہے کہایسا کرنے سے انسان دانتوں کی بیماریوں کیساتھ ساتھ دل اور معدے کی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم کا مقصدکا مقصد بستر پر کیڑے مکوڑوں یا کسی اور نقصان دہ چیز سے صاف کرنا ہے لیکن سائنسی تحقیق میں ایسا ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے کہ کس طرح نبیﷺ کریم نے 14 سو سال پہلے ہی اپنی امت کو بچاﺅ کی تدابیر بتا دیں۔ سائنس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیل بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کے سبب نظر نہیں آتے۔ اگر بستر کو بغیر جھاڑے

 

اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تو یہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اور سائنس نے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلوں کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے سوتے ہوئے دائیں کروٹ پر لیٹنے کا حکم بھی دیا ہے اور اس ضمن میں سائنس کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے دل پر دباﺅ بہت کم ہوتا ہے جس کے باعث دل صحیح بہتر طریقے سے کام کرتا ہےاور سونے کے دوران بھی پورے جسم کو خون کی سپلائی بہترین انداز میں ہوتی ہے جبکہ دل کے دورے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دائیں کروٹ پر سونے سے معدہ بھی اوپر کی جانب ہوتا ہے اور اسے رات میں کھائی جانے والی غذا کو ہضم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ رات سونے کے دوران معدے میں موجود غذا اچھی طرح ہضم ہوتی ہے جس کے باعث انسان بیدار ہونے پر خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہے اور تیزابیت بھی نہیں ہوتی۔