Post With Image

جمعۃالمبارک اسپیشل: رسول کریمؐ سے محبت کے تقاضے کیا ہیں؟


 محبت کے تقاضوں میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ انسان محبت کا اظہار کرے، اﷲ اور رسولؐ کی محبت تو مومن کے لیے معراج ہے، لیکن انسان تو دنیا میں بھی جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے اظہارِِ محبت کے بغیر چین نہیں ملتا، اس لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے


محبت کا فطری تقاضا آپؐ سے محبت کا اظہار بھی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اظہارِِ محبت کا درست طریقہ کیا ہو؟ اظہارِِ محبت میں دو باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا جاتا ہے، محبوب کا مقام و مرتبہ اور محبوب کی پسند۔ مقام و مرتبے کا لحاظ بے حد ضروری ہے۔ آپؐ نے کسی بھی انسان کو تکلیف پہنچانے سے منع فرمایا۔ آپؐ نے درخت کو کاٹنے سے منع فرمایا، کیوں کہ اس کی وجہ سے انسان سائے سے محروم ہوتا ہے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہوتا ہے۔ آپؐ نے گھر کی نالی راستے پر نکالنے سے روکا، تاکہ تعفن پیدا نہ ہو۔ آپؐ نے راستے میں کچرا اور تکلیف دہ چیزیں ڈالنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ ارشاد ہوا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی ایمان میں داخل ہے۔(بہ حوالہ: صحیح مسلم، باب شعب الایمان) حضرت مقدادؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رات کے وقت کسی جگہ جاتے تو ایسی آواز میں سلام فرماتے کہ جو لوگ بیدار ہو ں وہ سُن لیں اور جو لوگ سوئے ہوئے ہوں، ان کی نیند میں خلل واقع نہ ہو۔ (مسلم)یہاں تک کہ آپؐ نے قرآن مجید بھی بہت اونچی آواز میں پڑھنے کو پسند نہیں فرمایا۔

 

حضرت ابوسعید خدریؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے، آپؐ نے صحابہؓ کو زور زور سے قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا، مفہوم: ’’ تم سب اپنے پروردگار سے سرگوشی کر رہے ہو، لہٰذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ اور قرآن پڑھنے میں ایک دوسرے سے آواز بلند نہ کرو۔‘‘ (ابو داؤد)۔آپؐ نے تکبیر کہنے میں بھی بہت بلند آواز کو پسند نہیں فرمایا، حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم بلندی پر چڑھتے تھے تو تکبیر کہتے۔ آپؐ نے فرمایا، مفہوم : ’’ تم لوگ اپنے آپ پر نرمی سے کام لو، تم کسی ایسی ذات کو نہیں بلا رہے ہو، جو سنتا نہ ہو یا موجود نہ ہو، بل کہ اس خدا کو پکار رہے ہو، جو خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا اور تم سے قریب ہے۔‘‘ (بخاری مسلم)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے ریکارڈ بجانا کہ جس کی آواز لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو اور جلسوں کے اسپیکر اتنی دور دور تک پھیلا دینا کہ لوگوں کی نیند میں خلل ہوجائے، یہ ایسے طریقے ہیں جو ہمارے نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم کو پسند نہیں تھے۔

 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فضول خرچی نہایت ناپسند تھی۔ قرآن مجید میں تقریباً بیس آیتوں میں فضول خرچی کو منع کیا گیا ہے، یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھانے اور کپڑے ہی میں نہیں، بل کہ صدقہ کرنے میں بھی اسراف نہیں ہونا چاہیے ( نسائی عن عبداﷲ بن عمروؓ) صدقے میں اسراف کا مطلب یہ ہے کہ کسی خیر کے کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کردیا جائے، یا اتنا خرچ کردیا جائے کہ خود دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے حالات پیدا ہوجائیں۔ ایک بات جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بہت ہی ناپسند تھی، وہ ہے غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنا، یوں تو آپؐ لباس و پوشاک اور تہذیب و تمدن میں بھی غیرمسلموں کی مماثلت کو ناپسند فرماتے تھے، لیکن خاص کر دینی امور میں تو آپؐ کو یہ بات حد درجے ناپسند تھی۔ چناں چہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص کسی اور قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ ان ہی میں شامل ہے۔‘‘( ابوداؤد)۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات چُھپی ہوئی نہیں ہیں، بل کہ وہ روشن آفتاب کی طرح ہم سب کے سامنے ہیں، ہم ان کو پڑھ

 

کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پسند و ناپسند کو جان سکتے ہیں، اور اس کے ترازو میں اظہارِ محبت کے ان طریقوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں، جن کو آج ہم نے اختیار کررکھا ہے۔ہم ضرور اپنی خوشی کا اظہار کریں، لیکن طریقہ ایسا ہو کہ وہ شریعت کی میزان میں بھی درست ہو اور اس سے دینی نفع بھی ہو۔ اظہارِِ محبت کا دوسرا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم غیر مسلموں تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی انسانیت نواز تعلیمات کو پہنچائیں۔ غیر مسلموں تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پہنچائی جائے، خاص کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بلند اخلاقی کے واقعات اور انسانیت نواز تعلیمات کو عام کیا جائے یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کا حقیقی اظہار ہوگا، اس طرح غلط فہمی کے بادل چھٹیں گے، لوگ آپؐ کی ہستی کو پہچانیں گے اور آپؐ کی محبت و عظمت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگی۔ اگر ہم سیرت کا پیغام مسلمانوں تک پہنچا کر، غیر مسلموں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات سے واقف کراکر اور درود شریف کی کثرت کے ذریعے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت و تعلق کا اظہار کریں تو یہ اظہارِِ محبت کی کتنی بہتر، مفید اور ثمر آور صورت ہوگی، کاش! ہم ٹھنڈے دل سے اور دینی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اس مسئلے پر غور کریں۔