Post With Image

وہ بادشاہ جس کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اللہ سے ایک خاص دعا کرکے اپنی عمر میں پندرہ سال کا اضافہ کرالیا،جب حضرت عمرؓ کو نیزہ لگا تو انہیں بھی یہ دعا پڑھنے کو کہا گیا تو آپؓ نے بھی اللہ سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ ۔۔۔


زندگی اور موت کا وقت معین ہے تاہم اللہ جسے چاہے اسکو دعا کی توفیق بخش کر اسکی عمر میں اضافہ بھی کردیتا ہے اور یہ مشیت اللہ کی حکمت پر مبنی ہے کہ دراصل اس انسان کی عمر اور قسمت میں کیا تھا ۔لیکن اللہ کے بندے عمروں کے حریص نہیں ہوتے بلکہ اللہ سے ملاقات کے متمنی ہوتے اور اسکی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔وہ دعا کرتے بھی ہیں مگر ان کی ادا بدل جاتی ہے۔

تاریخ خلفاء میں شداد بن اوسؓ کعبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ گزرا ہے جس کے خصائل حضرت عمرؓ سے بہت ملتے جلتے ہیں ۔ جب کبھی ہم اس کا ذکر کرتے تھے تو حضرت عمرؓ ضرور یاد آجاتے تھے۔

اس بادشاہ کے زمانہ بادشاہت میں ایک نبی علیہ السلام تھے ۔ ان کو ایک مرتبہ وحی ہوئی ۔ ’’تم اس بادشاہ سے کہہ دو کہ اس بادشاہ کی عمر کے تین دن باقی ہیں۔ اگر کچھ وصیت کرنا ہو تو کردے۔ ‘‘ جس وقت اس بادشاہ نے یہ سُنا تو سجدہ میں گر کر نہایت عاجزی سے دُعا کی۔

’’اے اللہ مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میرا لڑکا جوان ہو جائے ‘ تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تیرے حکم کی کہاں تک تعمیل کی ہے اور اپنی رعایا سے کتنا عدل کیا ہے۔ ‘‘

نبی علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر وحی آئی کہ ’’اس نے ایسی دُعا کی ہے اور دُعا میں جو کچھ واسط دے کر کہا ہے سچ کہا ہے ۔ ہم اس کی عمر میں پندرہ برس کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ اس کا بیٹا جوان ہو جائے اور پرورش پائے۔‘‘

جب حضرت عمرؓ کے نیزہ لگا اور آپ زخمی ہوگئے تو حضرت کعبؓ احبار نے یہ قصہ بیان کیا اور کہا۔

’’اگر حضرت عمرؓ بھی اللہ تعالیٰ سے یہی سوال کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں ابھی اور باقی رکھیں‘‘ جب حضرت عمرؓ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؓ نے دُعا کی ۔

’’اے اللہ مجھے بغیر عاجز کیے اور بغیر رنج دیے اُٹھالے ۔‘‘