Post With Image

اب آپ مجھے پھانسی بھی دے دیں تو میں سمجھوں گا انصاف ہو گیا ۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو نے دوران قید یہ جملے کب اور کن حالات میں ادا کیے ؟


 جج نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ جہاں سیاستدان ”ملوث‘‘ ہوں وہاں تو معاملہ اور بھی نازک اور حساس ہو جاتا ہے۔ بھٹو صاحب کیخلاف نواب محمد احمد خاں قتل کیس خود ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران درج ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں‘ ہائی کورٹ میں چلا،

نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ اوپن کورٹ تھی جس کا ایک ایک لفظ رپورٹ ہو رہا تھا۔ ”ملزم‘‘ نے اپنی پسند کے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔ ہائیکورٹ سے سزائے موت کو اس نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور عدالت کی تاریخ کا غالباً پہلا اور آخری موقع تھا جب خود اپیل کنندہ کو عدالت کے روبرو اپنی صفائی اور بے گناہی پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ کے سامنے بھٹو صاحب گھنٹوں دلائل دیتے رہے اور ان الفاظ کے ساتھ اپنی معروضات ختم کیں کہ اب آپ پھانسی بھی دے دیں تو میں سمجھوں گا کہ انصاف کیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ چار/ تین سے ”اختلافی‘‘ تھا۔ چیف جسٹس سمیت چار ججوں نے اپیل مسترد جبکہ تین نے اسے قبول کر لیا تھا۔ (نظرثانی کی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ متفقہ تھا) دلچسپ بات یہ کہ سزائے موت کے حق میں فیصلہ دینے والے چیف جسٹس انوارالحق نے جنرل ضیاء الحق کے پی سی او (1981) کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور گھر کی راہ لی جبکہ سزائے موت سے اختلاف کرنے والے جسٹس حلیم، پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر چیف جسٹس بن گئے اور

بینظیر صاحبہ کی پہلی وزارت عظمیٰ تک اس منصب پر فائز رہے۔ اختلافی فیصلے والے جسٹس دراب پٹیل بھی اپنے منصب پر موجود رہے۔ کوئی پونے دو سال بعد پی سی او آیا تو چیف جسٹس کی طرح وہ بھی اس کے تحت حلف سے انکار کرکے گھر چلے گئے۔ جسٹس مولوی مشتاق حسین کا معاملہ دلچسپ رہا۔ بھٹو صاحب کیخلاف مقدمۂ قتل میں انہی کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے فل بنچ نے سزائے موت کا متفقہ فیصلہ دیا تھا بعد میں ایئر مارشل اصغر خاں کی ایک پٹیشن آئی تو اس بنچ کی سربراہی بھی وہ خود کر رہے تھے۔ حکومت کو اطلاع ہو گئی کہ فیصلہ اس کے خلاف آ رہا ہے جس سے مارشل لاء کی بنیادیں ہل جائیں گی؛ چنانچہ چیف صاحب کو ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ ٹرانسفر کر دیا گیا۔ پی سی او کے تحت حلف کیلئے انہیں بلایا ہی نہ گیا کہ حکومت کو ایک اور سُبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کی سزائے موت کو جوڈیشل مرڈر قرار دیتی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس انوارالحق سے استفسار کیا جاتا تو ان کا جواب ہوتا‘ ہم نے فیصلے میں سب کچھ لکھ دیا‘ اسے پڑھ لیں۔ وہی بات کہ جج نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں۔