• پاکستان کا سیمی فائنل کی جانب سفر جاری، نیوزی لینڈ کو پچھاڑ دیا

    ورلڈ کپ کے 33 ویں میچ میں شاہینوں نے میگا ایونٹ کے دوران ورلڈکپ کی ناقابل شکست کیویز ٹیم کو پچھاڑ دیا۔ گرین شرٹس کا سیمی فائنل کی جانب سفر جاری ہے۔ شاہین آفریدی کی تباہ کن باؤلنگ نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کی کمر توڑی جس کے بعد حریف ٹیم صرف 237 تک محدود رہی۔ فاسٹ باؤلر نے تین شکار کیے۔ جیمی نیشام نے 97 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ پاکستان نے ہدف آخری اوور میں حاصل کر لیا۔ رنز مشین بابر اعظم اس مرتبہ بھی سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ان کے کیریئر کی 10 ویں تھری فیگر اننگز تھی۔ حارث سہیل نے ایونٹ کے دوران مسلسل دوسری نصف سنچری بنائی۔ آٹھ باؤلرز لگانے کے باوجود نیوزی لینڈ کی ٹیم 4 وکٹیں لے سکی۔ بابر اعظم مرد میدان قرار پائے۔ ہدف کے تعاقب میں گرین شرٹس کی طرف سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور امام الحق نے کیا۔ دونوں نے چند بہترین شارٹس کھیلے تاہم تیسرے اوور کی آخری گیند پر اوپنر فخر زمان 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔ بولٹ نے وکٹ حاصل کی۔ دوسرا نقصان امام الحق کی شکل میں اٹھانا پڑا۔ لیفٹ ہینڈ بیٹسمین فرگوسن کے باؤنسر سے بچنے کی کوشش میں گپٹل کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے 19 سکور کی باری کھیلی۔ محمد حفیظ 32 رنز بنا کر حریف کپتان ولیمسن کی گیند پر فرگوسن کو کیچ دے بیٹھے۔ حفیظ اور بابر اعظم نے 66 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔ بابرنے 124 گیندوں پر اپنی 10 ویں سنچری بنائی۔ بابر اعظم اور حارث سہیل نے اس دوران جاندار بیٹنگ کرتے ہوئے گراؤنڈز کے چاروں اطراف شارٹس کھیلے اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔ دونوں کھلاڑیوں نے 126 رنز کی شراکت داری بنائی۔ لیفٹ ہینڈ بیٹسمین 68 رنز بنا کر گپٹل کے ہاتھوں رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کی ایونٹ کے دوران مسلسل دوسری نصف سنچری تھی اس باری میں 5 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ بابر اعظم نے 101 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ پاکستان نے 238 رنز کا ہدف آخری اوور میں مکمل کر لیا، ولیمسن، لوکی فرگوسن اور ٹرینٹ بولٹ ایک ایک وکٹ حاصل کر سکے۔ میچ جیتنے کے بعد گراؤنڈز میں پاکستانی شائقین کے چہرے کھل اُٹھے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے، اس دوران متعدد شائقین نے پاکستان کی جانب سے سنچری اننگز کھیلنے والے بابر اعظم کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور ان پاکستانی شائقین کی خوشی دیدنی تھی۔ کراؤڈز نے میچ کے دوران ٹیم کا خوب حوصلہ بڑھایا۔

  • ڈالر ملکی تاریخ کی بلندترین سطح 161 روپے تک پہنچ گیا

    کراچی: انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 161 روپے تک پہنچ گئی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ڈالر کی قیمت 157 روپے 20 پیسے سے بڑھ کر 161 روپے 30 پیسے تک پہنچ گئی۔ بتایا گیا کہ دن کے آغاز پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کے باعث اس کی قدر میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب کرنسی ڈیلرز نے ڈالر کی قدر میں اچانک اضافے پر بتایا کہ طلب میں غیرمعمولی اضافے کے باعث ڈالر کی قیمت بڑی اور توقع ہے کہ کاروباری مصروفیات کے اختتام تک ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوجائے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں بھی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 157 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ کرنسی ڈیلرز نے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ مالی سال کے اختتام کو قرار دے دیا تھا۔ ان کے مطابق مالی سال کے اختتام کی تاریخ 30 جون قریب پہنچ رہی اور ساتھ ہی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا تمام منافع ملک سے باہر بھیج رہی ہیں۔ خیال رہے کہ عید الفطر کی چھٹیوں سے قبل بھی انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر 75 پیسے مہنگا ہو کر 148.90 روپے کا ہوگیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسے مہنگا ہوکر 148.80 روپے کا ہوگیا تھا۔ کرنسی ڈیلرز نے امید ظاہر کی تھی کہ عید کی تعطیلات کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی طلب کم ہوگی اور وہ کمرشل امپورٹرز جو قیمت میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں وہ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے جس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب کم ہوجائے گی اور اس کے اثرات اس کی قیمت پر بھی پڑیں گے۔

  • حکومت نے گھریلو صارفین کیلئے گیس مہنگی کردی

    اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق گھریلو صارفین کیلئے گیس 190 فیصد تک مہنگی ہوگی اور دیگرتمام کیٹیگریز کیلئے گیس کی قیمتوں میں 31 فیصد سےزیادہ اضافے کی منظوری بھی دیدی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل تھا، قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو 500 ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگا اور حکومت دسمبر میں گیس کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

  • آمدن اور زائد اثاثوں کی مالیت کا تعین کرنا نیب کی ذمہ داری ہے: چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آمدن اور زائد اثاثوں کی مالیت کا تعین کرنا نیب کی ذمہ داری ہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق ڈی جی آئی بی امتیاز، عدنان خواجہ، نسرین امتیاز کی آمدن اور زائد اثاثوں کے کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے سابق ڈی جی آئی بی امتیاز، عدنان خواجہ، نسرین امتیاز کی آمدن اور زائد اثاثوں میں بریت کے خلاف نیب کی اپیل خارج کردی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آمدن اور زائد اثاثوں کی مالیت کا تعین کرنا نیب کی ذمہ داری ہے لیکن نیب نے مقدمے میں آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین نہیں کیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بے نامی دار ثابت کرنے سے پہلے آمدن سے زائد اثاثے ثابت کرنا بنیاد ہے اور جب پہلی بنیاد نہ ہو تو بے نامی ہونا جرم نہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر یہ جائیدادیں غیرقانونی ذرائع آمدن سے بنائی ہیں تو استغاثہ ثابت کرے کیوں کہ عدالت کو تو ریکارڈ کو ہی دیکھنا ہوتا ہے۔

  • اے پی سی کاٹھ کی ہنڈیا ہے، بیچ چوراہے پھوٹے گی: فردوس عاشق اعوان

    فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، اپوزیشن کو اپوزیشن سے خطرہ ہے، اے پی سی کاٹھ کی ہنڈیا ہے، بیچ چوراہے پھوٹے گی۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا مولانا کے منصوبے کا نتیجہ وہی نکلے گا جو ان کے الیکشن ایڈونچر کا نکلا تھا، اے پی سی کی ناکامی کے بعد مولانا 4 سال کیلئے خود کو دین کیلئے وقف کر دیں، اے پی سی کی شاہکار فلم اسکرین پر آنے سے پہلے ہی اتر گئی۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا مفادات کی قیدی قیادت ہر بار مولانا کو بلا کر ان کی کرسی کھینچ لیتی ہے، مولانا صاحب سے دلی ہمدردی ہے، اپوزیشن کے ناتواں کندھے مولانا کی سیاسی محرومی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔

  • وزیراعظم سے اختر مینگل کی سربراہی میں بی این پی کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم عمران خان سے اختر مینگل کی سربراہی میں بی این پی کے وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں حکومتی معاہدے پر بات چیت ہوئی۔ جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ اختر مینگل اور ان کے وفد کو مطمئن کر لیا گیا ہے، لاپتہ افراد کے معاملے میں بہت جلد پیشرفت ہوگی، بلوچستان کا وفاقی ملازمتوں میں کوٹہ 6 فیصد کرنے پر بھی اتفاق ہوگیا، آئندہ اتحادیوں میں دوری نہ ہو اس کیلیے بھی طریقہ کار بنا لیا، 10 ارب کا ترقیاتی بجٹ ملنا بی این پی کا حق ہے۔ ادھر بی این پی مینگل نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔ اختر مینگل نے مولانا فضل الرحمان کے نام تحریری پیغام دیا۔ انہوں نے خط مولانا اسعد محمود کے حوالے کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی میں ہماری سفارشات کا جائزہ لیا جائے، اپوزیشن ہمارے مطالبات پر غور کرے۔