طفلِ جدید


شاید ےہی قدرت ہے۔کتنا خیال ہے ہمارا اس وقت کو اس قدت کو کہ یہ ہمیں زندہ بھی رکھنا چاہتے ہیں اور مرنے کے فوری اور آسان مواقع بھی مہیا کرتے ہیں۔اس قدر خوبصورت اموات دیکھنے میں آتی ہیں کہ بندہ خود مرنے کی آرزو کرتا پھرتا ہے۔اور شاید یہی اس کا طریقہ کار بھی ہے جو واقعات حادثات ہم پہلے پہل فلموں ڈراموں میں دیکھا کرتے تھے اور دیکھ دیکھ کر ہم ان کے عادی ہو چکے تھے اور جن واقعات کے رونماہونے سے ذہن پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو تب جا کر وہ ہی واقعات فلموں سے نکل کر حقیقت کا روپ دھارتے نظر آتے ہیں جو لوگ ان تمام خرافات سے بھری فلموں سے واقف نہیں وہ لوگ یقینا ان واقعات کے بعد پناہ مانگتے ہوں گے مگر وہ لوگ جن کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کی کسی حادثہ سے رونما لوگوں کی چیخ و پکار کی پرواہ کیے بغیر اپنے موبائل فون پہ اس تمام دلخراش منظر کی منظر کشی کرتے رہتے ہیں ان کے نزدیک یہ حادثہ اوروں کو سنانے کے لیے ایک چٹ پٹی اور گرما گرم خبر کے علاوہ کچھ نہیں۔بچوں کے خواہش بچوں کی آرزو ہر اس مرد اور عورت کو ہوتی ہے جو پہلے کبھی خود بچہ ہوا کرتا تھا تو ظاہر ہے یہ خواہش ہر مردوزن میں یکساں موجود ہوتی ہے مگر بچے پیدا کر لینا تو کوئی گھمبیر کام نہیں ہاں مگر ان کو ایک مہذب انسان کی صف میں لا کھڑا کرنے میں کافی دقت اور نگہداشت درکار ہوتی ہے جو کہ آج کل کے ماں باپ اس قسم کا خطرہ کم ہی مول لیا کرتے ہیں اب اس چیزمیں کا وجوہات پیش کروں یا ان پر کس قدر تنقید کروں کیوںکہ میں بھی تو اس ماحول کا حصہ ہوں اسی میں جی رہا ہوں اسی میں پل رہاہوں۔کسی نے بھاگتی ہوئی تڑپتی ہوئی اور سسکتی ہوئی زندگی کی رو رو کر بھیک مانگتی ہوئی آگ دیکھی ہے ممکن ہے آپ میں سے کئی نے دیکھی ہو مگر میں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے مجھے اب نیند نہیں آتی خواب میں بھی آگ دکھائی پڑتی ہے لیکن جانتا ہوں یہ بس کچھ دن ہو گا پھر وہ ہی سب کچھ نارمل ہو جائے گا پھر وہ ہی زندگی ہو گی وہی خوشیاں اور وہی ہماری حماقتیں ہوں گی۔ایک جوان ہوتی بچی ہے ابھی جبکہ اسکے ماں باپ اس کے جہیز کی فکر میں تھے اور چپکے چپکے کسی نوجوان بلکہ کسی خوبصورت نوجوان کی تاک میں تھے کہ اچانک اس کی شادی سے بہت پہلے کا دن اس لڑکی نے خود کو آگ لگا لی۔آگ لگا لی اور حواس قائم نا رکھتے ہوئے باہر گلی میں نکل آئی بھاگتی رہی چیختی رہی مگر کب تک۔کب تک وہ چیختی کب تک وہ روتی کب تک وہ بھاگتی مگر یہی تو قدرت ہے یہی تو فنا ہے ہر ایک نے تڑپنا ہے ہر کسی نے رونا ہے ہر کسی نے چیخنا ہے ہر کسی نے کوشش کرنی ہے ایک آخری کوشش یہی تو اصول ہے یہی تو حقیقت ہے مگر اس طرح سے ہی کیوں ؟سننے میں آیا ہے کہ اس کاماں سے جھگڑا ہوا تھا اب آپ لوگ ہی بتاﺅ کوئی ماں سے لڑائی پر خود کو آگ لگا لیتا ہے؟اصل میں ہم لوگ بڑی بے بسی کے ساتھ اس بدلتے معاشرے میں جی رہے ہیںہمیں چاہیئے کہ بس کسی جنگل کی طرف نکل جائیں اور پھر واپسی کا سوچیں بھی ناوہاں موت بھی آئے تو سکون سے حاصل ہو خاموشی میں ہو اپنے جسم کی اپنی روح کی تذلیل نہ ہوکسی سے اپنی لڑائی نہ ہوہمارے جسم سے بازو علیحدہ نہ ہوں ٹانگیں کہیں لا پتہ نا ہو جائیں۔گردن کہیں فٹ بال کی طرح ٹھوکریں نا کھاتی پھر ے بس سکون سے اک ہی جگہ خاموشی میں آناََ فاناََ والا معاملہ نا ہو کوئی لوگوں کی بے رحم بے حس نگاہیں نا ہوںکوئی موبائلوں کی روشنیاں اور کیمرے میرے تڑپنے کے منظر کو فلماتے نہ ہوں۔کوئی ایمبولینس کی چیختی چلاتی ہوئی آواز نہ ہوکوئی اسپتال کی مخصوص گھٹن زدہ بدبو نہ ہوکوئی اپنوں کی آہ و بقا نہ ہو گرمی کی شدت سے تپتی ہوئی گرم سخت سڑک نہ ہو کوئی خون میں لتھڑا ہوا میرا جسم آلودہ نہ ہو میرے جسم میں گھسنے والی اذیت ناک سرنجیں نہ ہوں نالیاں نہ ہوں۔نہ ہی میرے جسم کی بے حرمتی ہو کہ چیڑپھاڑ کر بھوسا بھر دیا جائے ایک خوبصورت سی موت ہو کسی ندی کے ساتھ گھنے درخت کی چھاو¾ں کے نیچے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں خوب پیٹ بھر کر پانی پی کر خاموش سی فضاﺅں میں موت آئے کہ میری ہڈیاں پھر ایک ہی جگہ سے اٹھائی جائیں ۔بہر حال سوچ رہا ہوں شاید کر بھی لوں کیوں کہ اب بس یہی کرنے والا رہ گیا ہے ۔باقی جناب یہ ہے کہ تھوڑی سی ہدایت مانگ لو۔مانگنی کیا ہے لے لو بس گڑگڑا کر رو کر اور التجاکر کے اب مسئلہ تو یہ بھی ہے نا کہ ہمیں رونا بھی نہیں آتا ہمارا معیار بندگی تو دیکھو کہ ہم موسیقی کی تھرکتی دھنوں پر تو رو پڑتے ہیں مگر دعاو¾ں میں نہیںسجدوں میں نہیں۔ہزاروں راستے تلاش لو ہزاروں بہانے جواز لو ہزاروں وجوہات پیش کر لو مگر حقیقت نہیں بدلنے والی نجات کا واحد راستہ ایک ہی ہے میں یہ کوئی آپ کو نئی بات نہیں بتا رہا ہوں ہزاروںسالوں سے ہر کوئی یہی باتیں بتا رہا ہے لاکھوں نبی آئے صحابہ کرام آئے اولیا کرام اس کے علاوہ تمام عالم دین سب نے یہی کہا ہے اور حقیقت اس کے علاوہ ہے بھی نہیں۔باقی بات ہو رہی تھی بچی کی تو بس آج کل ایسا ہی ہے نا کسی میں برداشت ہے اور نا کسی میں صبر اس کءعلاوہ شکر بھی کوئی نہیں کرتا ہے حالانکہ یہ ایک نعمت ہے شکر کی توفیق بھی اللہ کسی کسی کو دیتا ہے ۔بچوں کی تربیت پر تھوڑا زور دیجیئے خدارا جو بھی سنے جو پڑھے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔بس یہ ہے کہ خود میں برداشت پیدا کیجیئے اور بچوں کو ان کی طبیعت کے مطابق چلائیں ضد مت کریں ان کے ساتھ آپ ہی ان کے وارث ہیں آپ نے ہی ان کو سنبھالنا ہے آپ سے ہی ان کے متعلق پوچھ ہونی ہے برائے مہربانی کم از کم اس معا ملے پر غور کیجیئے آئیندہ کے سیاست دان مادر وطن کے رکھوالے دین کے رہنما آپ والدین کی ہی آغوش سے بن کر نکلیں گے مگر یہ سب آپ کی کوشش کے بغیر ممکن نہیں آپ کا بہت شکریہ۔