’’وزیر اعظم عمران خان کی سادگی مہم ‘‘


وزیر اعظم عمران خا ن 71سالوں میں پاکستانی قوم کو پہلا حکمران نصیب ہواجس نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ وزیر اعظم بننے کے بعداپنے پہلے خطاب میں سادگی اپنانے پر زور دیا وزیر ا عظم ہاؤس میں رہنے کو ترجیح دینے کے بجائے ملٹری سیکرٹری کی رہائش کو اپنا مسکن بنایا۔گورنر ہاوء سسز کو عوامی ملکیت قرار دیتے ہوئے انہیں کھول دیا گیا۔وگرنہ اب تک بنیادی سہولتوں سے محروم مفلس عوام کے حکمران اشرافیہ ان عالیشان محلوں میں بیٹھ کر ان کی غربت کا مذاق اڑاتے رہے ہیں ۔ایک ترقی پذیر ملک کے وزیر اعظم نے صیح معنوں میں خود قومی لیڈر ثابت کیا۔ و فاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک کے گزشتہ حکمرانوں کی عیاش طرز زندگی کی وجہ سے لوگ ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی سادگی مہم کے ذریعے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لائے گی اور حکمرانوں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرے گی۔کفایت شعاری اور سادگی مہم ملک بھر میں پھیلائیں گے،حکمرانوں کو عوام کے لئے مثالی ہونا چاہئے،پیسہ قوم پر خرچ کرنا ہوگا شاہانہ اخراجات کی روایات ختم کی جائیں، وزراء میرٹ اور گڈ گورننس کو یقینی بنائیں،ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم ہاؤس واشنگٹن ہاؤس کی نسبت زیادہ آرام دہ اور عیش و عشرت والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اس وزیراعظم ہاؤس کو ایک اعلیٰ معیار کی پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی میں تبدیل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے پیچھے اضافی تعمیر کا ایک منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت نے چین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک سے مدد کی پیشکش کی ہے جبکہ چین نے اسے اعلیٰ معیار کا موسمیاتی تبدیلی کا مرکز بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس 11سو کنال پر مشتمل ہے جس کی تعمیرو مرمت پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی ورثے کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عام انتخابات سے قبل قوم سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کرے گی۔ تاہم دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔نواز شریف حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی تھیں جو سب کی سب عام اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی عوام کا خون نچوڑنے کے لئے رکھی گئی تھیں۔ اس کے بدلے میں ستمبر 2013 میں حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر کا بیل �آوٹ حاصل کیا تھا۔یعنی عوام کو سبسڈی سے محروم تو کیا گیا لیکن اپنی عیاشیوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ معاشی بحران میں یونان کے وزیراعظم کو سائیکل چلاتے بھی دیکھا گیا۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بدترین معاشی بحران میں وہ اپنے عوام سے الگ کوئی مخلوق نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو عوام کے لئے مثالی ہونا چاہئے عوام کو حکومت سے بہت سی توقعات ہیں تبدیلی لا کر دکھائیں گے شاہانہ اخراجات کی روایات ختم کی جائیں اور سابق حکمرانوں کی شاہانہ اخراجات کی روایت ختم کی جائیں حکمرانوں کو عوام کے لئے مثالی ہونا چاہئے عوام نے حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں عوام کو ہم سے تبدیلی کی امید ہے ہم تبدیلی لا کر دکھائیں گے ۔ سادگی مہم ملک بھر میں پھیلائیں گے، پیسہ عیاشیوں پر نہیں بلکہ قوم پر خرچ کرنا ہے۔ وزیر اعظم قول کے پکے ہیں، انہوں نے جو کہا ، وہ کردکھایا۔ عوام کو اپنے وزیر اعظم پر پورا بھروسا ہے، سوائے ’سٹیٹس کو ‘کی بحالی کے لیے آخری زور لگاتی اور دم توڑتی اپوزیشن کے۔ عام آدمی کو یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پانچ سالہ آئینی دورانیے میں بے روز گاروں کو ایک کروڑ نوکریاں اور بے گھر لوگوں کو 50لاکھ گھر دینے میں کامیاب رہیں گے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدر مملکت، وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے صوابدیدی فنڈز کے بارے میں کہا سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 21 ارب روپے، صدر مملکت نے آٹھ سے نو کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈز استعمال کیے جبکہ 30 ارب روپے اراکین قومی اسمبلی نے استعمال کیے۔وزیراعظم عمران خان کی سادگی مہم یقیناً قابل تعریف اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد حد سے بڑھے ہوئے سرکاری اخراجات کو کم کرنا اور وسائل کا بے جا استعمال روکنا ہے۔ مثال کے طور پر 2012ء میں آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یورو زون میں کفایت شعاری مہم کی وجہ سے اقتصادی ترقی سست ہو ئی اور قرضو ں کا بحران مزید بڑھ گیا لیکن یورپین یونین کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس کے برعکس کہا کہ کفایت شعاری کی وجہ سے بجٹ خسارے پر قابو میں مدد ملی۔تحقیق کے مطابق کفایت شعاری کی وجہ سے بہت سے ممالک قرضوں کے بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان بھی بلاشبہ ایسا کر سکتا ہے۔ کفایت شعاری کی مہم اس وقت شروع کی جاتی ہے جب قرض اور جی ڈی پی کی شرح خوفناک حد کو چھو رہی ہو۔ عمران خان کو اس حوالے سے بہتر تجویز دی گئی ہے کیونکہ قرضوں کی شرح اس حد تک پہنچ چکی ہے جتنا ملکی پیداوار گزشتہ سال میں ہوئی۔ کفایت شعاری سے بجٹ مینجمنٹ کیلئے کسی بھی مقروض ملک کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ 1096 ایکٹر پر محیط وزیراعظم ہاؤس کو تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا جائیگا‘ جس کی صرف دیکھ بھال پر سالانہ 47کروڑ روپے قومی خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں‘ وزیراعظم ہاؤس کو تدریسی ادارے میں ڈھالنے کا فیصلہ عمران خان کے اس وڑن اور بصیرت کا عکاس ہے‘ جو انہوں نے پاکستان کیلئے سوچ رکھا ہے ۔ وفاقی حکومت نے لاہور کے چنبہ ہاؤس کی تاریخی عمارت کو گورنر آفس میں تبدیل کرنے اور مال روڈ پر قائم ساڑھے سولہ ایکٹر اراضی پر مشتمل سٹیٹ گیسٹ ہاؤس جسکی دیکھ بھال پر سالانہ پچاس لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں‘ کو فائیو سٹار ہوٹل بنانے سے قومی خزانے کابوجھ کم اور نئے مالی وسائل کے امکانات پیدا ہوں گے‘کراچی میں سندھ گورنر ہاؤس کی اپنی تاریخی اہمیت ہے‘ جسے مدنظر رکھتے ہوئے اسے مستقبل قریب میں عجائب گھر بنانے کی کوششوں میں سندھ حکومت فی الوقت حائل ہے‘ جو نہیں چاہتی اس سادگی و کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بنے جسکا سارا کریڈٹ تحریک انصاف کی قیادت کو مل رہا ہے‘یوں سیاسی مخالفت برائے مخالفت ایک ایسی رکاوٹ بنی کھڑی ہے‘ جس کا حل تحریک انصاف کے فیصلہ ساز باوجود کوشش بھی نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ایسے ہی ایک فیصلہ ساز سے ہوئی ملاقات میں معلوم ہوا کہ صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ افسرشاہی کی ایک تعداد بھی وی وی آئی پی کلچر کو جاری و ساری رکھنا چاہتی ہے تاہم تحریک انصاف گورنر ہاؤس بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کے اپنے اعلانات پر قائم ہے اور سمجھتی ہے کہ ایسی تمام رہائشگاہوں اور سہولیات کا بوجھ قومی خزانے سے ہٹایا جائے‘جو صرف اور صرف حکمرانوں کی آسائش و آرام کیلئے بنائے گئے ہیں وفاقی حکومت نے نتھیا گلی ریسٹ ہاؤس کو معیاری درجے کا تفریحی مقام بنانے کی منظوری دینے کے لئے تجاویز طلب کی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں پرمشتمل گلیات کی سیاحتی کشش میں اضافہ ہوگا‘سوال اپنی جگہ غور طلب ہے کہ گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا کے دروازے عوام کیلئے کب کھلیں گے؟ اِس کے کسی ایک حصے کو بھی عوام کے لئے مختص کیا جا سکتا ہے‘ اسی طرح وزیراعلیٰ ہاؤس کے دفاتر اور رہائشگاہوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے‘مختصر کابینہ کیساتھ اضافی دفاتر اور عملے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی‘ اگرچہ پاکستان کے ہر ضلع میں کمشنر‘ ڈپٹی کمشنرز‘ اسسٹنٹ کمشنرز اور ماتحت عملے کی رہائشگاہیں واگزار کروانے کے لئے خاطرخواہ پیشرفت نہیں ہو رہی لیکن ایسا بھی نہیں کہ تحریک انصاف اپنے اعلان کردہ ایجنڈے سے پیچھے ہٹ گئی ہو۔ وزیراعظم ہاؤس میں موجود آٹھ عدد بھینسوں بھی فروخت کر دی گئی۔

یہ بھینسیں گزشتہ وزیراعظم نواز شریف صاحب کی خوراک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے سرکاری خرچ پر خریدا گیا تھا۔ ان بھینسوں کے ساتھ ساتھ چار اضافی ہیلی کاپٹر بھی فروخت کئے گئے ۔ یہ تمام اقدامات عمران خان کی سادگی مہم کے سلسلے میں کیے جا رہے ہیں تاکہ غریب عوام کے پیسوں پر حکمران عیاشی بند کریں جس کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس اور دیگر غیر ضروری سہولیات اور پروٹوکول لینے سے انکار کیا ہے۔