کیا اب کی بار بھی ۔۔۔۔۔۔۔دھاندلی


ہر بار کی طرح اس بار بھی الیکشن پر الزامات کی برمار ، فرق صرف اتنا ہے، کہ 2008 میں ن لیگ نے الیکشن کو غیر شفاف قرار دیاتھا، 2013 میں پاکستان تحریک انصاف نے ،اوراب کی بار پھر سے مسلم لیگ ن کے سربراہ جناب شہباز شریف اور ترجمان ن لیگ مریم اور نگزیب نے الیکشن کے عمل کے غیر شفاف اور جانب دار قرار دیتے ہوئے دھاندلی کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی(PPP )اکثریت میں تھی 2013 میں ن لیگ(PML N )اور اب 2018 میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) اکثریت میں
ہے ، اور مخالفوں کی جیت کس کو اچھی لگتی ہے جناب؟مجھے مختلف پارٹیوں کے اس رویے سے گلی میں کرکٹ کھیلتے بچے یاد آگئے ۔ جو کہ اپنے کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر ایمپائر سے یہ ہی امید کرتے ہیں کہ ایمپائیر اس کو ہر گز آؤٹ قرار نہ دے اور پھر اگر ایمپائر حق پر انگلی کھڑی کر دے تو ایمپائر کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی ، اور پھر گلی کی نکر پر ایک گھر کی چوکھت پر بیٹھے اُس " بابے رحمتیّ " کے پاس جاتے ہیں جو کہ اپنی چار پائی پر بیٹھے یہ سارا کھیل دیکھ رہا ہوں اور اگر وہ بھی منصفنہ فیصلہ کر دے اور آؤٹ کو آؤٹ قرار دیں تو پھر " بابے رحمتّے"غیر منصفنہ اور بد دیانت ہونے کا طعنہ سننا پڑتا ہے ۔اور پھر اگر دوسری ٹیم کا کوئی کھلاڑی کسی میچ میں آؤٹ ہو جائے تو اس ہی طرح کا رویہ دوسری ٹیم کی جانب سے ہوتا ہے ۔ اور پھر سے "ایمپائیر " اور "بابے رحمتیّ" کو لعن تان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔صاحب ! سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر" ایمپائیر" اور " بابے رحمتیّ" کے حکم ہی سے سارے میچوں کا فیصلہ آتا ہے تو پھر ہر میچ میں ایک ہی ٹیم کیوں نہیں جیت سکتی؟ ہر بار نئی ٹیم ہی کیوں فاتح قرار پائی جاتی ہے ؟ ہر بار " ایمپائیر" اور " بابے
رحمتیّ" کو اپنے مفادات بدلنے کی کیا ضرورت ہے ؟قصہ مختصر یہ کہ ، نہ تو ایمپائیر کسی سے ملا ہوا ہے اور نہ ہی " بابارحمتا"بد دیانت ہے ۔ بس ہمارے ملک کی مختلف پارٹیوں کے سربراہ ہی ضدی بچے ہیں ۔ جو کہ اپنی جیت کو تو بہت کشدہ پیشانی سے تسلیم کرتے ہیں مگر اپنی ہار پر دھاندلی ، اور بددیانتی جیسے الزامات دھر دیتے ہیں ۔تو صاحب !میری ان سبراہان سے اپیل ہے کہ خدا کے واسطے اب کی بار ضدی بچوں کی طرح آپ بھی گلی کی نکر دھرنہ دینے کے بارے میں مت سوچیں بلکہ ایک اچھے لیڈر کی طرح اپنی ہار کو خوش دلی سے مان لیجئے اور ایک اچھے حکمران کی طرح اس ملک کے بارے میں بھی سوچئے ۔ خدا اس ملک کا حامی و ناصر ہے ۔