ریاست پاکستان کے ستون


کہا جاتا ہے کہ ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں یعنی کہ عدلیہ, مقننہ اور انتظامیہ۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ریاست کی تعمیر و ترقی میں ان چاروں ستونوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور ان سب کا ایک دوسرے پر اعتماد نہایت ضروری ہے۔ریاست پاکستان میں یہ چاروں ستون ظاہری طور پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں مگر ان چاروں ستونوں کو اپنی جگہ پہ برقرار رکھنے کے لئے ایک ستون اور بھی ہے جو کہ نظروں سے پوشیدہ ہے۔ شاید اسی لئے اسے خلائی مخلوق کا نام دیا گیا ہے۔اس ستون کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ چاہے تو ان چاروں کو ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس کر سکتا ہے اور جب چاہے جتنا چاہے ان سب کو جھکا سکتا ہے۔ مختصراً کہا جائے تو کہ سکتے ہیں کہ اس ' طاقتور ستون ' نے ریاست کے ستونوں کو گھر کی باندی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ریاست پاکستان میں جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے 'طاقتور ستون ' کی رضامندی ضروری ہے۔ جمہوریت کیسے چلنی ہے کس نے چلانی ہے اور کب تک چلنی ہے یہ سب فیصلے 'طاقتور ستون ' ہی کرتا ہے۔ طاقتور ستون حقیقی
جمہوریت کی بجائے ' ہائبرڈ ڈیموکریسی ' چاہتا ہے۔ Robert Kaplan کے بقول ' ہائبرڈ ڈیموکریسی ' ایسا گورننگ سسٹم ہے جس میں بظاہر الیکشن تو ہوں مگر عوام کو اس بات سے بے خبر رکھا جائے کہ اصل طاقت کا سر چشمہ کون ہے اور اس مقصد کے لئے لوگوں کے سول رائٹس کو مخدوش کیا جاتا ہے۔'طاقتور ستون ' کے کام کرنے کا طریقہ بڑا دلچسپ اور منفرد ہے۔ وہ ریاست کے دو ستونوں کو آپس میں لڑا دیتا ہے اور جس کو چاہے شکست اور جس کو چاہے کامیاب کرا دیتا ہے۔ طاقتور ستون 'کینگرو کورٹس' اور 'وسیع تر قومی مفاد' جیسی اصلاحات سے کام چلاتا ہے۔ کینگرو کورٹس کی بنیاد نظریہِ ضرورت سے ڈالی گئی جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس منیر نے فیصلہ دیا کہ گورنر جنرل جب اور جس کے اشارے پر چاہے اسمبلی توڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مولوی مشتاق نے بغیر کسی دباؤ کے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی۔ پھر باری آئی چیف جسٹس ارشاد حسن خان جنہوں نے جنرل مشرف کو بن مانگے ہی اجازت دے دی کہ وہ تین برس تک آئین میں جو چاہیں تبدیلی کر لیں۔ کینگرو کورٹس کے انصاف کی تازہ ترین مثال نواز شریف صاحب ہیں۔ اس سب میں بظاہر تو ریاست کا ایک ستون عدلیہ ہی کام کر رہا ہے مگر اس سب کے پیچھے طاقتور ستون موجود ہے۔میڈیا کی آزادی کو جمہوریت کی اساس سمجھا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے 'طاقتور ستون ' اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ کون سا چینل چلنا ہے اور کون سا بند کرنا, کون سی خبر چلنی ہے کس کی خبر چلنی ہے اور کیسے چلنی ہے یہ سب طاقتور ستون کی مرضی سے ہی ممکن ہے۔ اس کیساتھ ساتھ کس اخبار کی ترسیل روکنی اور کس صحافی کو اغوا کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانا یہ سب طاقتور ستون کے ہی کارنامے ہیں۔مقننہ یعنی پارلیمنٹ کی طاقتور ستون کے سامنے نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ ہی حیثیت۔ جب چاہا پارلیمنٹ پہ لعنت بجھوا دی جب چاہا پارلیمنٹ پہ حملہ کروا دیا اور جب چاہا پارلیمنٹ کی دیواروں پہ گندی شلواریں لٹکوا دیں۔وسیع تر قومی مفاد اور طاقتور ستون کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں نہ تو طاقتور ستون کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا جا سکتا اور نہ ہی کوئی سوال کیا جا سکتا ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں نہ تو
طاقتور ستون سے اس کی کاد گردگی کے بارے سوال کیا جا سکتا اور نہ ہی میڈیا پہ ڈسکس کیا جا سکتا۔ وسیع تر قومی مفاد میں ہی محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا تھا اور وسیع تر قومی مفاد میں ہی جنرل مشرف کو ملک سے بھگایا گیا۔ وسیع تر قومی مفاد میں ہی سیاستدانوں کو غدار اور کافر قرار دیا جاتا ہے اور انتہاپسند جماعتوں میں ہزار ہزار روپے بانٹے جاتے ہیں۔ وسیع تر قومی مفاد میں ہی مزہبی و سیاسی دھرنے کروائے جاتے ہیں آور جمہور ت کو گالیاں دلوائی جاتی ہیں۔ریاستِ پاکستان میں چونکہ طاقتور ستونوں نظروں سے اوجھل ہے اس لئے اس کا کوئی خاص نام نہ ہے۔ ماضی میں اسے حساس ادارے کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں طاقتور ستون کو مزید کئی ناموں سے جانا جاتا ہے جن میں خلائی مخلوق, محکمہ زراعت, بوٹ اور سازشی قابل ذکر ہیں۔میرے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ طاقتور ستون میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب یہ طاقتور ستون جس نے ریاست کے باقی ستونوں کو مفلوج کیا ہوا ہے جلد ہی زمین بوس ہو جائے گا۔ یہ بات تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے کہ طاقتور ستون زمین بوس ہوگا یا مزید طاقتور۔دل نا امید نہیں ناکام ہی تو ہے ۔لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔