انمول یا بے مول


۵۲ جولائی کے انتخابات کیلئے سارے گھوڑے سر پٹ دوڑائے جا رہے ہیں اور طے کر لیا گیا ہے کہ کہ ایک خاص جماعت کو دیوار کے ساتھ لگا نا ہے۔ نیب اور عدالتی محاذ سے ایک معتوب جماعت کو ہر ممکن طریقے سے دبایا جا رہا ہے جس کی تازہ مثال حنیف عباسی کوعمر قید کی سزا ہے۔الیکشن سے صرف دو دن قبل یہ فیصلہ قانون و انصاف کے ہر طالب علم کے لئے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔کونسی قیامت ٹوٹنے والی تھی جس سے بچنے کے لئے کہ رات کے گیارہ بجے ۷ سات سال پرانے مقدمہ کا فیصلہ سنانا ناگزیر تھا۔عسکریت پسندوں کا بڑا مہرہ شیخ رشید احمد جو کہ شکست سے ہمکنار ہونے والا تھااسے بچانے کے لئے حنیف عباسی کو منظرسے ہٹانا ضر وری تھا تاکہ اس کی فتح کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔وہ لوگ جن کی ساری عمر سیاست کے پیخ و خم دیکھتے ہوئے گزر گئی ہے انھیں بخوبی علم ہے کہ فیصلہ اسی مانڈ سیٹ کا تسلسل ہے جس میں مخالفین کو ہر ممکن طریقے سے شکست سے دوچار یا جاتا ہے۔ پہلے چوہدری نثار کے مدِ مقابل قمرالسلام کو صاف پانی سکینڈل میں حوالہِ زندان کیا گیا تا کہ چوہدری نثار بآسانی جیت جائیں اور اب اسی شہر سے حنیف عباسی کو قربانی کا بکرا بنا یا گیا ہے۔ان سارے مقدمات ،گرفتاریوں اور سزاؤں کا محور میاں محمد نواز شریف کی ذات ہے جس نے ۰۷ سالہ عسکری مداخلت کو روکنے کا عزم کر رکھا ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ سزاؤں اور گرفتاریوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) جھکنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اس خاموش جنگ کا دائرہ کار دن بدن پھیلتا جا رہاہے جس سے اسٹیبلشمنٹ کا چلمن کے پیچھے چھپے رہنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ان کے حالیہ اقدامات نے انھیں بالکل ایک فریق بنا دیا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی کی گرفتاری کے بعد ایک غیر محسوس انداز میں سیاسی بساط پلٹا کھا چکی ہے جس کی واضح مثال عمران خان کے جلسوں میں عوام کی عدمِ دلچسپی ہے۔جمہوریت نواز حلقوں کی خواہش ہے کہ انتخابات میں ساری جماعتوں کو برابری کا ماحول دستیاب ہو اور پھر عوامی ووٹ جیت یا ہار کا فیصلہ کرے لیکن لیکن جیسے ہی عوام نے محسوس کیا کہ ایک مخصوص جماعت کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے تو انھوں نے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔عوام کے بدلے ہو ئے تیور انتخابات کی قسمت کا فیصلہ پہلے ہی سنا چکے ہیں جسے میڈیا اور عدلیہ کی سنسنی خیز ی مزید واضح کر رہی ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ن کے رفقائے کار کرپٹ ہیں کہ نہیں ؟بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ۵۲ جولائی کے انتخابات میں معتوب جماعت کو آزادانہ حصہ لینے کی اجازت ہے یا کہ نہیں؟ کیا ۵۲ جولائی کے انتخابات ایک خاص جماعت کو سبق سکھانے کیلئے منعقد ہو رہے ہیں یا عوام کو اس بات کا مکمل اختیار ہو گا کہ وہ اپنی آزادانہ رائے سے اپنے نمائندے منتخب کر لیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک تندو تیزطوفان، جکڑ اور آندھی میں مخصوص جماعت کو ہروانے کی سر توڑ کو شش ہو رہی ہے۔کبھی جیپ بر آمد ہو جاتی ہے اور کبھی مخالفین کو کرپشن الزامات پر جیل کی دیوراوں کے پیچھے پھینک دیا جا تا ہے اور ،کبھی انتخابی نشان واپس کروائے جاتے ہیں۔ کیا ایسا کبھی ہوا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں امیدواروں کو گرفتار کر کے زندانوں کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جائے؟ ایک مخصوص جماعت پر توہینِ عدالت کی تلوار لٹکا دی جائے۔ بد انتظامی تو پاکستان کے سارے صوبوں میں ہے،رشوت کا بازار سارے ملک میں گرم ہے۔قومی خزانے کو لوٹنے میں ساری جماعتیں پیش پیش ہیں لیکن کسی سے کوئی سوال نہیں پوچھا جارہا اور نہ ہی کسی کے خلاف نیب حرکت میں آرہا ہے۔ بلوچستان ،کے پی کے اور سندھ میں کیا فرشتوں کی حکومتیں تھیں؟ کیا وہاں پر کرپشن نہیں تھی ؟کیا وہاں پر ٹھیکے میرٹ پر دئے جاتے تھے؟ کیا وہاں پر اقربا پروری نہیں تھی؟ کیا وہاں پر قومی دولت کو گھر کی لونڈی نہیں سمجھا جاتا تھا؟ کیا وہاں پر دوستوں اور رشتے داروں کو نہیں نوازا جاتا تھا ؟ کیا وہاں پر ریاستی قوت سے ذاتی فوائد حاصل نہیں کئے جاتے تھے؟ کیا وہاں پر ملکی دولت پر ہاتھ صاف نہیں کئے جاتے تھے؟کیا وہاں پر دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں؟ کیا وہاں پر صحت،اور تعلیم کے معاملات مثالی تھیچ ؟ کیا وہاں پر انتظامیہ دیانت دار اور فرض شناس تھی؟ کیا وہاں پر عام آدمی کی آواز سنی جاتی تھی؟ کیا وہاں پر کمزور اور طاقتور کو ایک نظر سے دیکھا جاتا تھا؟کیا وہاں پر پروٹو کول کی لعنت نہیں تھی ؟ کیا وہاں پر دولت کے کرو فر سے تفاخر کی بو نہیں آتی تھی؟کیا وہاں پر خاک نشینوں کو برابر کا شہری سمجھا جا تا تھا؟ کیا وہاں پر محروم طبقات کو سماجی انصاف سے حصہ ملتا تھا؟ کیا وہاں پر اشرافیہ کے طبقہ میں غرباء کا کہیں گزر ہوتا تھا؟ کیا وہاں پر قومی دولت کا منہ ان لوگوں کیلئے کھولا جاتا تھا جھنیں حرفِ عام میں غریب غرباء کہہ کر پکارا جاتا ہے؟ کیا وہاں کو ئی ایسا نظام تھا جہاں محروموں کی آواز کو بھی اہم جانا جاتا ہو؟ کیا وہاں پر سب کیلئے ترقی کے دروازے کھلے ہوئے تھے؟ کیا وہا ں پر عوام سفارشی کلچر اور اس کے تباہ کن اثرات سے محفوظ تھے؟ کیا وہاں پر اقتدار کے ایوانوں میں عام آدمی کا گزر ممکن تھا؟ کیا وہاں پر سرکاری ملازمیں کا رہن سہن ان کے ذرائع آمدنی سے کوئی مماثلت رکھتاتھا؟ کیا وہاں پر حکمران اشرافیہ کے اثاثے حکومت میں شامل ہونے سے قبل اور حکومت سے رخصت ہوتے وقت ان کے اثاثوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا؟اگر ایسا ہے تو پھر ان کی طرف سے چشم پوشی کیوں کی جا رہی ہے ؟ایک جماعت کے خلاف شکنجہ کیوں کسا جا رہا ہے ؟قانون سب کیلئے ایک جیسا ہو نا چائیے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ صرف ایک خا ندان اور جماعت ہی نشانہ پر ہے۔جب ذاتی نا کی خاطر قانون کا اطلاق کیا جائے تو اسی کو جانبداری کہا جاتا ہے جس کا مظاہرہ ہر کوئی دیکھ رہا ہے اور اس سے اظہارِ بیزاری کر رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کی وجہ سے کچھ لوگ اچھل ا چھل کرایک مخصوص جماعت پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں کیونکہ ان کا کام طاقت کے حقیقی مراکز کی کاسہ لیسی ہوتی ہے۔اور وہ اس فن میں بڑے طاق ہوتے ہیں۔ یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور ہر وقت کسی نئے گاڈ فادر کی تلاش میں رہتے ہیں۔یہ جمہوریت 
کش لوگ ہوتے ہیں لیکن خود کو بڑے جمہوریت پسند ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ دوسروں کی مقبولیت کے کندھوں پر سوار ہو کر ایوانِ اقتدار میں پہنچتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد اپنے ہی محسن کو ڈس لیتے ہیں کیونکہ انھیں جو حکم کسی مخصوص مرکزسے ملتا ہے اس کی پیروی ان کیلئے لازمی ہوتی ہے۔میاں محمد نواز شریف کی نظرِِ کرم کے منتظر کئی لوگ کسی غیبی اشارے پر میاں محمد نوازشریف کو تنِ تنہا چھوڑ کر نئی منزلوں کے راہی بن گئے ہیں۔جس وقت میاں محمد نواز شریف کو ان کی ضرورت تھی وہ دامن چھڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن اصول پسندی کا راگ پھر بھی اونچے سروں میں گا رہے ہیں۔ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ان کے کئی دیرینہ ساتھی ا نھیں چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل گئے تھے کیونکہ انھیں ذولفقار علی بھٹو کا نعرہِ مستانہ ناگورا گزرتا تھا۔بڑے بڑے نام تھے لیکن ذولفقار علی بھٹو سے بے وفائی او ردوری نے انھیں بے نام و نشان بنا دیا۔ وفاداری انسان کا سب سے حسین فعل ہے ایک ایسا فعل جو اسے انسانوں میں انتہائی بلند مقام عطا کرتا ہے لیکن وہ جو بے وفائی کا پیکر بنتا ہے تاریخ میں نشانِ عبرت بن جاتا ہے۔وقت کو گزر جانا ہوتا ہے،آزمائش کی گھڑیاں بڑی مختصر ہو تی ہیں لیکن یہی گھڑیاں کسی انسان کی حقیقی پہچان بنتی ہیں۔جو ڈٹ جاتا ہے جیت جاتا ہے اور جس کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں وقت کی دھول میں گم ہو جاتا ہے۔موت تو اٹل ہے جس سے کسی کو کوئی فرارر نہیں تو پھر کیوں نہ جی داروں کی طرح موت کا سامنا کیا جائے،بہادروں کی طرح اس کا استقبال کیا جائے۔ ذولفقار علی بھٹو کی طرح اسے سینے سے لگا یا جائے۔جو مشکلات کا سامنا نہیں کر سکتا وہ تاریخ میں امر نہیں ہو سکتا۔؟انسان جی داروں کی طرح میدان میں نکلے تو فاتح اور انمول لیکن کسی ڈر اور خوف سے مصلحت پسندی کی راہ اپنائے تو پھر شکست خوردہ اور بے مول پیکرِ گل۔سوال ہار یا جیت کا نہیں ہوتا بلکہ اصول کی عظمت کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہوتا ہے جو کہ انتہائی مشکل ہوتا ہے۔بقولِ اقبال۔( ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ۔،۔ پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے )۔،۔