’’پنجاب میں چوہدری سرور کی سیاسی بصیرت‘‘


چوہدری سرور کا پنجاب کی سیاست میں انتہائی اہم اور خفیہ کردار جس وقت تمام تحریک انصاف کے لوگ ٹکٹوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے تھے اسی دوران چوہدری سرور خفیہ طور عمران خان کے کہنے پر تحریک انصاف کیلئے مضبوط امیدواروں کا جوڑ توڑ کرنے میں مصروف تھے. چوہدری سرور کے سینیٹربننے کے بعد اکثر تحریک انصاف کے سینئر سیاستدان یہ تصور کر رہے تھے کے ہم نے چوہدری سرور کو پنجاب کی سیاست سے باہر کردیا ہے یا پھر ایسا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں. لیکن الیکشن کے دوران یہ سب خواہشات دہری کی دہری رہ گئی ہیں جب چوہدری سرور نے پنجاب کیلئے تحریک انصاف کو بہت مضبوط امیدوار لاکر دئیے. اور اپنے قدم تحریک انصاف میں اورمضبوط کرلئے. پنجاب اور خاص طور پر لاہور کی سیٹس کو لے کر سینئر قیادت میں انتہائی سردجنگ بھی دیکھنے کو آئی ہے جب علیم خان نے اپنے ہی چاہنے والوں کے ساتھ ہاتھ کرنا شروع کردیا 
جب پرانے تحریک انصاف کے دوستوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر کردیاگیا. اور ٹکٹ نہ دینے کی وجہ چوہدری سرور کو بنایا گیا اور اس وجہ سے چوہدری سرور کو انتہائی تنقید بھی برداشت کرنا پڑی لیکن چوہدری سرور عمران خان کے ساتھ کیا وعدہ نبھاتے رہے. زندگی کا ایک عرصہ چوہدری سرور نے ملک سے باہر گزارا اور پھر پاکستان کی سیاست میں مضبوط ستون بھی ثابت ہوئے سیاسی بصیرت اور تجربے کی بات کی جائے تو اس ٹائم پنجاب میں سیاسی طور پر تحریک انصاف میں چوہدری سرور کے مقابلے پر کوئی نہیں لیکن پیسے کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کی بڑی تعداد تحریک انصاف میں موجود ہے جن میں اہم نام علیم خان اور جہانگیرترین ہیں. جنہوں نے من پسند لوگوں کو ٹکٹ دلوائیں اور اختیارات بھی دئیے خاص طور پر ریزرو ٹکٹوں کیلئے. اس وقت اگر تحریک انصاف پنجاب میں الیکشن جیتنے کے قابل نظر آتی ہے تو اس کی وجہ چوہدری سرور کی سیاسی بصیرت ہے. ورنہ مہر واجد کی3 کروڑ کی ڈیمانڈ جو تحریک انصاف کے پرانے کارکن سے کی گئی وہ تو سب کے سامنے ہے اور ایسے کئی پرانے لوگ جو عمران خان کے شروع کے وقت میں ساتھ ساتھ شامل تھے ان لوگوں کو پیسے کی بنیاد پر ایک کونے میں لگایا گیا. اور عمران خان کی جانب سے کچھ لوگوں کو یہ امید دی گئی 
ہے کہ ایک بار حکومت بن جانے دو سب کو کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کرلوں گا. جبکہ فواد چوہدری کو عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کے ہارنے کی صورت میں پارٹی عہدہ واپس لے لیا جائے گا. جس کے بعد فوادچوہدری خاصے پریشان بھی نظر آئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کے تحریک انصاف کا کون کونسا امیدوار سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے. یاد رہے کے 2013 میں جن لوگوں نے علیم خان کو آگے نہیں آنے دیا آج وہ تمام لوگ علیم خان کے بدلے کا نشانہ بنے ہیں. جنہوں نے عمران خان کے آگے بھرپور احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بقول علیم خان کے تحریک انصاف اور عمران خان کو اب یقین آیا ہے کہ میں الیکشن کتنے بہترین طریقے سے لڑسکتا ہوں. جس طرح لوگوں نے تحریک انصاف کی ٹکٹ کیلئے کروڑوں روپیہ بھی دیا ہے اور ٹکٹ بھی حاصل کی اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کے ان کو جیتنے کی گارنٹی بھی دی گئی ہے۔