غیر اخلاقی زبان بیاں


گندگی ، غلاظت اور کچرا ہمیشہ استعمال شدہ چیزوں کے ناکارہ ہونے سے وجود میں آتا ہے ، قدرت کا ایک نظام ہے جب کوئی جاندار خوراک کھاتا ہے تو اس خوراک میں سے جو چیز اس جاندار کی صحت کے لیے بہتر اور مفید ہوتی ہے وہ اس کے جسم میں توانائی دینے کے لیے موجود رہتی ہے جب کہ باقی فالتو مادے نظام آخراج میں جا کر جسم سے خراج ہوجاتے ہیں ‘ایسے ہی دودھ دینے والے جاندار کھاتے تو گھاس ہیں لیکن وہ فائدے مند سفید رنگ کے محلول کی شکل میں دودھ دیتے ہیں جو خود اس جاندار کی نسل کے ساتھ حلال جاندار کا دودھ انسانی جسم کو توانا ئی دینے کے لیے بھی مفید ثابت ہو تا ہے‘یہ قدرت کا نظام ہے منہ سے خوراک کھانے بعدپیٹ میں جاکر اچھی فائدے مند چیز الگ اور گندی بے فائد چیز الگ ہوجاتی ہے ‘ ہم جب گھر میں سودا سلف سبزی فروٹ لے آتے ہیں تو اس کے چھلکے اتار کر پھنک دیتے ہیں کہ وہ بے فائدہ چیز ہے گند اور کچرا ہے، اسی طر ح ہم وہ کچرا گھرسے دور گندگی والی جگہ پر ڈال کر آتے ہیں کبھی اسے دروازے کے سامنے نہیں رکھتے کہ اس سے گھر کی خوبصورتی خراب نہ ، گھر کے اندر داخل ہونے کا راستہ بد نما نہ لگے اور یہ کوئی نہ سمجھے گھر کے دروازے کا یہ حال ہے تواندر سے گھر کتنا گندا ہو گا ۔ ایسے ہی انسان کا جسم تو خوراک کے معاملے میں دیگر جانداروں کی طرح اچھائی برائی کو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انسان جو کچھ دنیا میں دیکھتا ہے سنتا ہے اچھا یا برا ، اسے الگ کرنے کا اختیار خود انسان کے پاس ہوتا ہے ، انسان معاشرے میں مختلف لوگوں کی باتیں سنتا ہے تو ان باتوں میں اچھی باتیں اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے اور بری باتوں کو ذہن سے نکال دیتا ہے، اگر اس کے دہن میں اچھائی محفوظ ہوگی تو یقیناً اس کے منہ سے بھی اچھائی کے الفاظ ادا ہوں گے اوریقیناًاس کے عمل بھی اچھے ہوں گے۔ جب کسی ایک انسان کو دوسرے انسان اپنا لیڈر تصور کر لیتے ہیں تو اس کی اچھائی کے پہلو کو سب سے پہلے دیکھتے ہیں ، لیڈر میں ہمت ، ایمانداری ،سچائی کے ساتھ اس کی شائستہ زبان بھی اہمیت رکھتی ہے ، لیڈر جب بولتا ہے تو اس کی ایک ایک بات کو عوام اس کے فرمان کے طور پر قبول کرتی ہے‘ ہمارے ملک کے سیاسی نظام میں سیاست دان آداب گفتگو سے کوسوں دور رہے چلے گئے ہیں ‘ سیاست دان اسمبلی میں ہو ںیا جلسیمیں مخاطب ہو ں تو الفاظ کے چناؤ کا استعمال بہت غلط کرتے ہیں ،جذبات اور غصے میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ پوری جماعت کے ساتھ ورکروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس سے خود ان کی شخصیت کے بارے منفی تاثرعوام میں جاتا ہے ۔الیکشن کے آیام میں تو سیاسی شور غل بس اڈے کے جیسا منظرنامہ پیش کررہا ہے جہاں بس اڈے کے ہاکر ایک ایک مسافر کو حاصل کرنے پر سخت جملوں کے علاوہ آپس میں ہاتھا پائی پر اترے ہوتے ہیں ، اسمبلی کے اندر گزشتہ حکومت میں خواتین پر گندے جملے کسے گئے انہیں ٹریکٹر ٹرالی کے جیسے الفاظ سے پکارا گیا،اسمبلی میں غیر اخلاقی زبان قومی اسمبلی سمیت دیگر صوبا ئی اسمبلیوں میں استعمال ہوتی رہی ‘ پنجا ب اور سند ھ اسمبلی میں تو کچھ زیادہ ہی غلط زبان بیاں استعمال ہوتی رہی‘ اب الیکشن مہیم کے دوران سیاست دانوں میں سخت الفاظ غیر اخلاقی زبان ایک دوسرے کے علاوہ عوام کے لئے بھی استعمال کیے جارہے ہیں ‘ عوام کو غلط زبان اور غیر اخلاقی الفاظ کا استعما ل کر کے پکارہ جارہا ہے ، ایک سیاست دان عوام کو گدھا کہتا تو دوسرا بے غیرت کے الفا ظ استعمال کر رہا ہے ‘ جس کو سن کر ایک باشعور پاکستانی کو شرم آنے لگتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے نمائندے ہیں جو اقتدار میں آکر دنیا بھر میں ہماری نمائندگی کریں گے ۔اس طرح کی غیر شائستہ زبان استعمال کرنے والوں کو الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کر دیے ہیں ، جس میں عمران خان کے بیان کی سماعت الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ عبدالغفار سومرو کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کی‘عمران خان کے وکیل بابراعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، کمیشن نے استفسار کیا کہ عمران خان نے ایک جماعت کے کارکنوں کو نامناسب لفظ سے پکارا ، جس پر بابراعوان نے کمرہ عدالت میں سابق سپیکر ایاز صادق کی ویڈیو چلا کر دکھا دی توالیکشن کمیشن نے کہا آپ اپناجواب خود دیں ان کے نام کا نوٹس جاری ہو رہا ہے ، عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا طالبان خان اور یہودی جیسے الفاظ استعمال ہو رہے ہیں تو اس پر ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے کہا یہ کون کہہ رہے ہیں جو شرح اور دین کے قریب ہیں ۔؟ ابھی اور بھی نوٹسز نکل رہے ہیں‘ بابر اعوان نے کہا گدھا تو معمولی لفظ ہے، استاد بھی گدھا کہہ دیتے ہیں، کمیشن نے کہا استاد کی بات اور ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے نوٹس کی سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ ان الفاظ کے ادا کرنے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے کیا فیصلہ آتا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ ایک اچھی شروعات ہے کہ غلط اور غیر اخلا قی زبان استعمال کرنے پر نوٹسز جاری ہوئے ہیں اب اس کا فیصلہ جو بھی آئے لیکن اس سے پہلے ان لیڈران کو احساس کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لینی چاہیے اور عوام بھی یہ سوچے گی کہ ان لیڈران کو سزا ملنے سے پہلے احساس ہوگیا، صبح کا بھولا شام کو لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے عوام بھی یہی سوچتے ہوئے ان لیڈران کو معاف کر دے گی۔سیاسی لیڈران کے بیانات سے معاشرے میں اس کے اثرات ضرور مر تب ہو تے ہیں ‘ ان لیڈران کے لاکھو ں چا ہنے والے ہوتے ہیں جو ان کی جانے انجانے میں کی جانے والی باتوں کو سنجید گی سے لیتے ہو ئے بعض مر تب اس پر اپنا ردعمل بھی دیتے ہیں ‘ دھر نے کی دوران ایک جماعت کے کسی میڈیا چینل پر جانبداری کا الزام لگا دیا تھا تو اس جماعت کے ورکر اکثر اس چینل کے رپورٹرز کو تشدد کا نشانہ بنا نے کے علا وہ ان کے دفاتر پر پتھر اؤ بھی کر تے تھے ‘ اب حالیہ عمران خان نے مخالف جماعت کے ورکرز کو گدھا کہا تو اس کے تنا ظر میں کراچی میں کچھ نا معلوم اورافراد نے گدھے پر بے جا تشدد کیا گیا جس کی خبر کو پوری دنیا کے میڈیا نے اٹھا یااور بین الا قومی میڈ یا نے یہ تاثر دینے کی کو شش کی کہ پاکستان کی سیا ست میں تشدد پسند افر اد کا غلبہ ہے ‘ سیا ست دانوں کو اپنی گفتگو میں احتیاط سے کا م لینا چا ہیے تھوڑی سی بے احتیاطی کی وجہ سے سیا سی ساکھ متاثر ہونے کے علا وہ عوام میں انتشار پھیل سکتا ہے‘ لہذا سیاست دانوں کو بول چال اور آداب گفتگو کی تربیت حاصل کرنی چاہیے ، تاکہ آئندہ ایسی غلطی ان سے سرزدہ نہ ہو جس سے ان کو شرمندگی اٹھانی پڑے ۔