"احتساب کا دور اور پرویزمشرف کی باری"


گزشتہ دنوں چند صحافی حضرات کی نشست میں بیٹھنے کا موقع ملا جہاں ہر دوست اپنے مزاج اور ادارے کی پالیسی کے مطابق گفتگو کر رہا تھا. آج کل گفتگو کا مین کردار سابق وزیراعظم نوازشریف ہوتے ہیں کسی کے مطابق نوازشریف کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو کسی کے مطابق یہ امتحان اللہ کی طرف سے ہے.اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویزمشرف کا احتساب بھی ہونا چاہئے تاکہ عدلیہ بلکل میرٹ پر فیصلے کرتی نظر آئے.مگر ابھی تک پرویزمشرف کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں آخر کیوں مشرف کا احتساب نہیں ہورہا کیوں کے وہ سابق جنرل ہے یا اس کا احتساب فوج اپنی شان کی گستاخی سمجھتی ہے.اگر کیپٹن صفدر جیل جا سکتے ہیں تو مشرف بھی اگر نوازشریف اور مریم نوازپاکستان آنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تو پرویزمشرف بھی کر سکتے ہیں.اب یہ تمام باتیں اور فیصلہ کرنے کا اختیار تو چیف جسٹس آف پاکستان کو ہے.میری ناقص سوچ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے جس طرح عوام کا دل جیتا ہے اور جیسے عوام کیلئے عوام کے حق کیلئے فیصلے کئے ہیں یہ چھوٹی بات نہیں ہے.اتنا سب کچھ کرنا آسان نہیں تھا اس کے بعد چیف جسٹس کی عزت میں کافی حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.میرے خیال میں جنرل پرویزمشرف کا احتساب بھی کیا جائے گا اور یقیناً کرنا بھی چاہیے تاکہ یہ باور ہوسکے کے آئین اور قانون سب کیلئے برابر ہے کوئی بھی شخص آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہے.اگر نوازشریف پاکستان آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے دیکھو میں آگیا اور پرویزمشرف نہیں آیا اور میں جیل جانے کو تیار ہوں جبکہ سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پاکستان ہی نہیں آرہا تو اس صورت میں عوام پر اچھا تعصب نہیں جاتا چلیں امید ہے کے احتساب سب کا ہوگا کسی ایک شخص یا جماعت کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا.اور یہی سلسلہ عدلیہ کی عزت اور وقار کو بلند کرتا رہے گا.مگر کہیں ایسا محسوس ہوا کے عدلیہ پر کوئی دباؤ ہے یا کوئی اور فیصلے کروا رہا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہوگی پھر ساتھ ہی چیف جسٹس کا وہ جذبات سے بھرپور بیان یاد آتا ہے جب انہوں نے کہا کے کوئی پیدا نہیں ہوا جو عدلیہ کو پڑھائے یا اپنی مرضی کے مطابق چلانے کو کہے. اب ان تمام عوامل کے بعد تو ایسا ہی لگتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ہر فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کریں گے.اللہ کا خوف تو دل میں ہونا لازمی ہے خاص طور پر جب آپ قاضی کے اہم عہدے پر فائض ہوں یہ بہت اہم عہدہ ہے کیونکہ آپ ہر فیصلے پر اللہ کی ذات کو جواب دے ہیں.اب اگلی سوچ جو اکثریت میں لوگوں کے ذہن میں موجود ہے کے کیا موجودہ چیف جسٹس کے بعد بھی احتساب کا یہی سلسلہ جاری رہے گا یا پھر آصف علی زرداری کے کیسز کی طرح گیارہ سال بعد باعزت بری تو نہیں کردیا جائے گا آنے والے تمام جج حضرات کیا میرٹ پر ہی فیصلہ سازی کرتے رہیں گے یا پھر معاملات حل کرنے کی طرف بھی آسکتے ہیں. اگر چند سالوں بعد یا کچھ عرصے بعد کرپٹ لوگوں کو عدالتی احکامات پر کلین چٹ ملنے لگ گئی تو قصوروار کون ہوگا عوام فوج یا عدلیہ کویہ ضرور سوچنا چاہئے.سیاستدان عدلیہ اور افواجِ پاکستان تمام اداروں اور لوگوں کو ہر چیز اور اختلاف سے ہٹ کر پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کرنا چاہیے.ہمیں یہ سوچنا ہوگا کے ادارے تمام ہمارے ہیں انہیں کمزور کرنا پاکستان کو کمزورکرنے کے مترادف ہے ہم اداروں کو اور بہتر کرسکتے ہیں رات دن کی محنت سے لیکن آپس میں لڑوایا نہیں جاسکتا یہ ملک کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا.اگر عدلیہ اور نہایت ہی محترم چیف جسٹس آف پاکستان احتساب میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ کرپٹ ججوں اور کرپٹ جرنیلوں یا کوئی بھی ادارہ ہو اگر تمام پر ہاتھ ڈالا جائے تو یقیناً کوئی سیاستدان یا فردِ واحد یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کے احتساب صرف اس کا ہو رہا ہے ظلم اور زیادتی صرف اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔