!!!6جولائی کا احتساب عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ۔۔۔


دنیاکی تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ ملزم چاہے گناہگارہویا بیگناہ عدالتی فیصلہ اگر اسکے خلاف آجائے تو وہ اس کو کبھی بھی قبول نہیں کرتا‘گناہگار کواگر معلوم بھی ہو تو عدالت نے جوسزا سنائی ہے وہ جرم اس سے سرزدہوا ہے مگر وہ سزا کو نہیں مانتا اور اگر فیصلہ حدیبیہ پیپرز ملزکی طرح حق میں آجائے تو پھر عدلیہ درست فیصلے کررہی ہے اور اگرفیصلہ 28جولائی2017ء کے پانامہ پیپرزکی طرح کا آجائے تو پھر عدلیہ فیصلے انصاف پرنہیں انتقامی کارروائی کے تحت کررہی ہے۔ایک دفعہ ایک دیہاتی کہی سفرپرجارہاتھاکہ راستے میں اس کو رفع حاجت آگئی ‘رفع حاجت کیلئے زمین پر بیٹھ گیا تو اس کے سامنے سے ایک کیڑاگزررہاتھا دیہاتی نے قریب بڑا کانٹا اٹھاکر کیڑے کے پیٹ میں گھونپ دیا ‘کیڑا تڑپ تڑپ کر مرگیا‘کچھ عرصہ کے بعد دیہاتی قتل کے ایک مقدمہ میں گرفتار ہوگیا‘ عدالت نے اسے سزائے موت سنا دی‘جیل کی کال کوٹھری میں دیہاتی ایک رات خدا کے حضور رورو کر کہہ رہاتھا کہ اللہ تعالیٰ تونے میرے ساتھ انصاف نہیں جو جرم میں نے کیا ہی نہیں اس کی سزا مجھے کیوں دی۔دعا سے فارغ ہوکر دیہاتی سو گیا تو خواب میں کیڑے کے پیٹ میں کانٹا گھونپنے کا منظر اس کے سامنے آگیا اور خدانے اس کو یہ بتا دیا کہ جس کیڑے کو تونے مارا تھا اس کا قصورکیاتھا؟1980ء میں جب میاں نوازشریف کو گورنرغلام جیلانی کی سفارش پر ضیاء الحق نے پنجاب کاوزیرخزانہ بنایا اس روز سے لیکر آج تک میاں نوازشریف نے دولت کمانے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہرکوئی یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ اتفاق فاؤنڈری کا کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کن ذرائع سے حاصل ہونیوالی دولت سے کررہاہے ۔نوازشریف خاندان کے متعلق یہ بات بھی مشہورہے کہ اتفاق فاؤنڈری کا کوئی ملازم حقوق کیلئے زبان کھولتا تو اس کو آگ کی بھٹی میں پھینک دیاجاتا اور ریلوے کی جو ٹرین اتفاق فاؤنڈری کا سامان لیکر آتی وہ مشکل سے ہی واپس جاتی۔1980ء سے لیکر2017ء پرویزمشرف کے دوراقتدار کے سال نکال کر کم و بیش29سال تک سرکاری وسائل پر عیش وعشرت کرتے رہے اور اپنے بزنس کو پروموٹ کرتے رہے ‘دوستوں کیساتھ غداری اور بیوفائی کرنا ان کے ضمیرمیں شامل تھا سب سے پہلے انہوں نے 1987ء میں محمدخاں جونیجوکیساتھ غداری کرکے ضیاء الحق کی قربت حاصل کی۔ چوہدری شجاعت حسین‘ حامدناصرچٹھہ‘میاں منظوراحمدوٹو‘ غوث علی شاہ‘ سردار ذوالفقار علی کھوسہ‘ چوہدری نثار یہ وہ شخصیات ہیں یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے میاں نوازشریف کو زمین سے اٹھاکر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا ان لوگوں کیساتھ میاں نوازشریف نے مطلب نکل جانے کے بعد جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔میاں نوازشریف نے اپنی سیاست کا آغاز چونکہ آمریت کی گود سے کیاتھا اسلئے وہ فوجی آمروں کی طرح ہر ادارے کو زیرکرنا اپنا حق سمجھتے ہیں‘تینوں دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد ملک کے عسکری اداروں اورعدلیہ کیساتھ انکے تعلقات کشیدہ رہے ۔ایک دفعہ بھی ان کی مدت پوری نہیں ہوئی ‘پرویزمشرف کے دورِاقتدار میں جلاوطنی کے دوران کہاکرتے تھے کہ اگر دوبارہ اقتدارمیں آنے کا موقع ملا تو ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے ۔مئی2013ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب ملتے ہی انہوں نے خربوزے کی طرح رنگ بدل کر ملکی اداروں کیخلاف ٹکراؤ کی پالیسی کواپنانا شرو ع کردیا۔اپنے دورِ اقتدارمیں وزیرخارجہ کامنصب خالی رکھ کر دفاعی‘ معاشی اور خارجی محاذپربھارت کی جنوبی ایشیاء کی بالادستی قائم کرنے کیلئے بھارت کی بھرپور مدد کی۔کشمیری عوام کیساتھ غداری کی ان کے کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کی‘بھارتی جاسو س کو سزائے موت سے بچانے کیلئے بھارت کو عالمی عدالتوں سے رجوع کرنے کے مواقع فراہم کئے ‘اسحاق ڈار جیسے کرپٹ شخص کو وزیرخزانہ بناکر قومی خزانے کو بھی جی بھرکر لوٹا‘ملکی معیشت تباہ کردی‘ غیرملکی قرضوں میں سوفیصد اضافہ ہوا‘ایکسپورٹ ختم اور امپورٹ ہی رہ گئی جب اسحاق ڈار کیخلاف نیب نے شکنجہ تیار کیا تو اس کو ملک سے فرار کرادیا اسکے علاوہ میاں نوازشریف نے دوراقتدارمیں ایسی پالیسیاں اپنائیں جو اداروں کو پسندنہیں تھی مگر نوازشریف خودکو سیاہ و سفیدکے مالک سمجھ کر اداروں کوخاطرخواہ میں نہ لاتے تھے ‘ہرادارے میں اپنے من و پسند افرادکو سربراہ بناکر قومی دولت لوٹنے کی کھلی چھٹی دی۔پی ٹی وی کے سابق چیئرمین عطاء الحق قاسمی پر 27کرو رو پے کرپشن کرنے کا کیس ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں چل رہاہے ان تمام صورتحال کے بعد ملکی اداروں نے نوازشریف کیخلاف گھیرہ تنگ کرنے کا پروگرام بنایا‘پانامہ پیپرز میں نوازریف کا نام نے پر خفیہ اداروں کو نوازشریف کو عبرت کانشان بنانے کا راستہ مل گیامگرنوازشریف یہ سمجھ رہے تھے کہ میں طاقتورحکمران ہوں کوئی ادارہ میراکچھ نہیں بگاڑسکتا 28 جولائی 2017ء کے روز جب سپریم کور ٹ نے نوازشریف کو صادق و امین نہ ہونے کا فیصلہ سناکر اقتدار سے الگ کیاتونوازشریف نے عدلیہ کیخلاف کمرکس لی اورعدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے اس پر تابڑوتوڑحملے کرنے شروع کردیئے۔بقول چوہدری نثار احمدمیں نے نوازشریف کو عدلیہ کیساتھ محاذآرائی نہ کرنے کا مشورہ دیا مگروہ بازنہ آئے ۔13اپریل2018ء کے روزجب عدلیہ نے نوازشریف کو پارٹی صدارت سے نااہل قرار دیا تو انہوں نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے ملک دشمن اداروں سے مددمانگ لی ‘میرجعفروں اورمیرصادقوں کی ایک ٹیم ان کو اداروں کیساتھ ٹکراؤکے مشورے دیاکرتے تھے۔19ستمبر2017ء کے روزجب نیب ان کے خلاف احتساب عدالت سے ناجائز طریقے سے اثاثے بنانے کا کیس دائر کیا تو انہوں نے کہا کہ عدلیہ و دیگر ادارے جومرضی کرلیں میرا کچھ نہیں بگڑے گا عوام میرے ساتھ کھڑی ہے‘6جولائی کے روز جب اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمدبشیرنے میاں نوازشریف‘مریم نواز اور کیپٹن صفدرکیخلاف فیصلہ سنایا تو ح واروں میں سے ماسوائے آصف کرمانی کے تمام غائب تھے۔27جولائی 2017ء کے سپریم کور ٹ کے فیصلے کے بعد اگر دیکھاجائے تو ملکی اداروں کے ساتھ ٹکرانے میں مریم نواز شریف کا بڑا رول تھا وہ نو ازشریف کو مظلوم بناکر محترمہ بینظیربھٹو اور حسینہ واجد کی طرح وزارت عظمیٰ حاصل کرنا چاہتی تھی‘پارٹی معاملات میں اس کی بڑھتی ہوئی بے جا مداخلت کو سنیئررہنما اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے تھے ‘ڈان لیکس کے ذریعے فوج اور آئی ایس آئی کوبدنام کرنے کی پوری کوشش کی گئی جس پر میاں نوازشریف کے مخلص ساتھی چوہدری نثار کو احتجاجاً وزارت داخلہ کے منصب سے استعفیٰ دیناپڑا۔27جولائی 2017ء سے لیکر 6جولائی2018ء اس ایک سال کے عرصہ میں کسی ایک دن بھی نوازشریف نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی اورنہ ہی اداروں کیساتھ اپنے معاملات کو درست کرنے کی کوشش کی بلکہ ہر روز عدلیہ نیب و دیگراداروں پر تابڑتوڑحملے کرکے یہ کہاجاتا تم میراکچھ نہیں بگاڑ سکتے‘6جولائی کے فیصلہ کے روز ملک کے کسی ایک حصہ میں بھی ان کی پارٹی کے کسی کارکن یا میرجعفر‘ میرصادق نے فیصلہ کیخلاف احتجاج نہیں کیا یعنی ان کی پارٹی سمیت پوری قوم نے فیصلے کو درست مان لیا جب کہ اسی روز لندن میں انہوں نے اپنی بیٹی المعروف حسینہ واجد کے ہمراہ پریس کانفرنس کی تو پوری ڈھال بن کر میرے ساتھ کھڑی ہوگی ‘گیارہ سال تودور کی بات وہ ایک دن کی سزانہیں کاٹ سکیں گے کیونکہ جیل‘جیل ہوتی ہے اس میں جاتی عمرہ‘ماڈل ٹاؤن یاوزیراعظم ہاؤس کی طرح آگے پیچھے نوکروچاکر نہیں ہوتے وہاں پر تو گلاس میں پانی بھی اجازت لیکر بھرناپڑتاہے ویسے بھی میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف جتنے بھی مقدمات قائم ہوئے وہ سیاسی نو عیت کے نہیں ہیں تمام کے تمام کرپشن کے ہیں سیاسی مقدمات میں جان بخشی ہوجاتگی ہے کرپشن کیسزمیں نہیں۔میاں نوازشریف کو چاہئیے کہ وہ خداکے حضور گڑگڑاکر اپنے گناہوں کی معافی مانگے اورتوبہ بھی کریں شایداللہ تعالیٰ ان کو اس دیہاتی کی طرح خواب میں ان کا جرم دکھادے اور میاں صاحب یہ تسلیم کرنے پر

مجبورہوجائیں کہ 6جولائی کا احتساب عدالت کا فیصلہ کچھ نہیں ان کے جرائم کی سزا تو اس سے بھی زیادہ بنتی ہے ۔پہلے دور اقتدارمیں عرب مجاہدین کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرنا ‘بطوروزیراعظم قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں بیوفائی‘ عاشق رسول ممتاز قادری کو سزائے موت دینا‘اسلام دشمن قوتوں کی آشیرباد حاصل کرکے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ختم نبوت کی ترمیم کو ختم کرنا ‘قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جب کسی کو کرسی اقتدارعطاکرتاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کے نفاذ سے روگرانی کرتاہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ فاسق اور فاجرقراردیتاہے ‘اللہ تعالیٰ کسی کیساتھ بے انصافی نہیں کرتا۔