ووٹ کس کو دینا ہے ؟


ہمارے ملک میں کئی مرتبہ انتخابات ہوئے اور کئی مرتبہ اس ملک کی عوام سے دھوکہ ہوا عوام نے منتخب نمائندوں کی اہلیت دیکھے بغیر ان نمائندوں پر اندھا دھند اعتبار صرف اس لیے کیا کہ ان کے پسندیدہ یا حمایت یافتہ پارٹی کے لیڈر نے انہیں ٹکٹ دیکر عوام سے انہیں ووٹ دینے کی اپیل کی تھی ان نمائندوں کی اکثریت نے منتخب ہونے کے بعد ووٹ دینے والی عوام سے نہ صرف بے وفائی کی بلکہ عوام کے اعتماد کوبری طرح ٹھیس بھی پہنچائی اس کے ساتھ ساتھ ان منتخب نمائندوں نے ایک طرف تو اپنے لیڈروں سے دغا کیا اور دوسری طرف اپنے وطن سے غداری کے مرتکب ہوئے ان کے عزیز رشتہ دار اور خوشامدی ساتھی تو امیر ہوگئے مگروہ مخلص دوست اور غریب عوام جنہوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا تھاوہ مسائل در مسائل کا شکار ہو کر زندگی کی خوشیوں سے محروم ہوتے چلے گئے غریب کے بیٹے کی اصلی ڈگری کو رشوت خوروں اور کرپشن کرنے والو ں نے مات دینا شروع کردی نوکریاں میرٹ پر نہیں بلکہ ریٹ پر بانٹی گئیں ایمانداروں کی ٹرانسفر کسی دور دراز دیہاتی علاقے میں کر دی جاتی تاکہ کرپٹ اہلکار اس منتخب نمائندے کو اس کا حصہ باقاعدگی سے دیتے رہیں اسی کشمکش میں غریب لوگوں نے جیسے تیسے کر کے اپنے بچوں کو پڑھایا لکھایاپیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو بھوکا سونے سے بچایاچاہے کتنے ہی پاپڑ بیلنے پڑے اور اس کو کہیں سے بھی قرضہ ملا اس نے اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنی ساری زندگی کی کمائی سود اتارتے گزاردی اور اب ان غریب لوگوں کے بچے جوان ہو گئے ہیں وہ پڑھے لکھے بھی ہیں اور ہنر مند بھی مگر نہ تو انہیں کہیں نوکری نظر آرہی ہے اورنہ ہی حکومت کی طرف سے روزگار کی کوئی سپورٹ مل رہی ہے جہاں پہلے سے نوکری کرنے والوں کو فارغ کیا جارہا ہووہاں ان نوجوانوں کو نوکریاں کیا ملیں گی آج یہ نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں مختلف وارداتوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں ہر پکڑے جانیوالے نوجوان کے پیچھے غربت اور معاشرتی ناانصافی کی ڈھیروں داستانیں چھپی ہوئی ہیں اب نئے انتخابات کا وقت قریب ہے آج ان نوجوانوں کو اپنے والدین اور اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کا موقع مل رہا ہے آج ان نوجوانوں کو عہد کرنا ہے کہ وہ صرف اورصرف ان امیدواروں کو ووٹ دیں گے جن کا ماضی بے داغ ہوجن کے ہاتھ کرپشن سے نہ رنگے ہوں جن کے اندر ملک کے لیے کچھ کرنے کا عزم ہوآج کوئی بات عوام سے ڈھکی چھپی نہیں رہی یہ شہر کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ لیڈروں کی طرف سے نامزد کیے گئے امیدواروں نے کیا کیا کارنامے سرانجام دیے ہیں اور غریبوں کے پیسوں سے کن کن لوگوں نے موج اڑائی ہے ووٹ دیتے وقت پارٹیوں کو نہیں دیکھنا بلکہامید واروں کی اہلیت کو دیکھنا ہے کہ آیا وہ امید وار اس قابل بھی ہے کہ اس کو ووٹ دیا جائے اچھے لوگ آخر اچھے ہی ہوتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہوپارٹیوں کو ووٹ دے دے کر ہم اس حال تک پہنچ گئے ہیں اگر پارٹی لیڈر نے ٹکٹ د یتے وقت میرٹ ایمانداری اورجذبے کو مدنظر نہیں رکھاتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے آنکھیں بند کر کے اسی کو ووٹ دے دینا ہے اب ہم نے پارٹی کا نہیں بلکہ اپنے علاقے کا سوچنا ہے ایک پارٹی کے سوگندے اراکین کی بجائے سو پارٹیوں کا ایک ایک اچھا کارکن بہتر ہے آنے والا وقت اس ملک کے نوجوانوں کا امتحان ہے اگر ہم نے اپنے والدین کو انکی محنت کا صلہ دینا ہے اگر ہم نے اپنے بچوں کومستقبل میں بہترین مواقع فراہم کرنے ہیں اور اگر ہم نے اپنے ملک کو محفوظ بنا کر ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں 
شامل کرناہے تو ہمیں سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہو گاہمیں ذات برادری ،پارٹی بازی ،گروہ بندی ،دھڑے بازی ،فرقہ پرستی پر مشتمل سیاست کوپس پشت رکھ کر سیاست برائے خدمت اور سیاست برائے عباد ت جیسی نت نئی مثالیں قائم کرنا ہوگی ہمیں پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انقلاب یا تبدیلی صرف گولی سے ہی نہیں بلکہ مثبت سوچ حب الوطنی اور سچے جذبے کے ساتھ بھی لائی جاسکتی ہے سب یہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی اچھا لیڈر نہیں مل رہا جب یہ نوجوان اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اچھے لوگوں کو منتخب کرواکر اسمبلیوں میں بھیجیں گے تو ایک کی بجائے سینکڑو ں اچھے لیڈر ملیں گے پھر نااہل لوگ آگے آنے سے گھبرائیں گے کیونکہ ان کو یہ معلوم ہو گاکہ ان کو کل قوم کے آگے جواب دہ ہونا ہے بحیثیت قوم ہمیں آج یہ فیصلہ کرناہوگا کہ ہم محب وطن ہیںیا نہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے گوکہ ہم وقت کا بہت ضیا ع کر چکے ہیں لیکن بھر بھی ابھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں اب بھی اگرملک کی نوجوان نسل اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرلے تو ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہ حق پر چلنے کی توفیق عطافرمائے ۔