سچ تویہ ہے! قسط نمبر 44


خانہ کعبہ میں حاضری 
وزیر اعظم بننے کے بعد میں نے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا ۔ میرے وفد کے انیس ارکان کو شاہی مہمان کا درجہ دیا گیا ۔ تقریباً چالیس افراد میے ذاتی مہمان کی حیثیت سے ساتھ گئے ۔ جن کے اخراجات مںی نے اپنی جیب سے ادا کیے تھے ۔
پہلے ہم جدہ اور پھر مکہ معظمہ پہنچے ۔ مکہ معظمہ میں ہم نے عمراہ ادا کیا اور شاہی محل میں قیام کیا ۔ سعودی حکومت نے اس بار بھی ہمارے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولٰنے کا بند وبست کیا تھا۔ خانہ کعبہ کا دروازہ کھو لنے کیلئے رات گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا گیا ۔ ہم حرم شریف میں بیٹھے دروازہ کھلنے کے منتظر رہے لیکن رات کے دو بج گئے، درواز ہ نہیں کھلا۔ معلوم ہوا کہ اب چار بجے دروازہ کھلے گا مگر دروازہ نہیں کھلا۔ پھر سعودی چیف آف پر وٹوکول نے آکر معذرت کی اور بتا یا کہ وہاں موجود دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی خبر ہو گئی ہے کہ پاکستان وزیر اعظم کیلئے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طور پر کھولا جارہا ہے ۔ وہاں ایک ہجوم جمع ہو گیا ہے لہٰذا بے حرمتی کے اندیشے کی وجہ سے درواز ہ نہیں کھو لا جا رہا ہے ۔
شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز سے ملاقات 
اگلے روز ہم شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز جو اس وقت ولی تھے ۔ ان سے ملاقات کیلئے پہنچے ۔ اس ملا قات میں میرے ساتھ وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق اور گورنر سندھ عشرت اعلباد کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے ۔ ملاقات کے شروع میں ہی شاہ عبد اللہ بن عبد العز یز نے رات کو خانہ کعبہ کا دروازہ نہ کھولے جانے کی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ روضۂ رسول ﷺ کے دروزے آپ کیلئے کھے ہیں ، آپ جب چاہیں اپنے وفد کے ساتھ اندر جاسکتے ہیں اور عبادت کرسکتے ہیں ۔ میں نے اپنے وفد میں شامل ارکان سے شاہ عبد اللہ کو متعارف کروایا ۔ اعجاز الحق کا تعارف کراتے ہوئے میں نے انہیں بتایاکہ یہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے ہیں ۔ جس پر وہ بہت گر مجوشی سے انہیں ملے ۔ اس ملاقات یں میرے ساتھ پانچ حکومتی عہدیدار بھی تھے ۔
ان دنوں سب سے اہم مسئلہ عراق میں فو جیں بھیجنے یا نہ بھیجنے کا تھا۔ مجھے جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ مسلم ممالک میں اس مسئلے پر جو فیصلہ سعودی حکومت کا ہو گا ۔ وہی ہمارا ہو گا۔ کیونکہ یہ فوجیں امن قائم کرنے کے مشن پر جائیں گی۔ اتفاق سے سعودی عرب روانگی سے ایک رات پہلے میں نے وہ خط خود پڑھا جو عراقی وزیر اعظم نے صدر پرویز مشرف کو ارسال کیا تھا اور اس میں عراق میں امن قائم رکھنے کیلئے فوج بھجو انے کی درخواست کی گئی تھی، عر اقی حکومت نے اس طرح کے خطوط دیگر مسلم ممالک کو بھی بھیجے تھے ۔ میں نے یہ خط ذرا غور سے پڑھا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ خط میں کہیں بھی یہ درج نہیں تھا کہ عراق میں امن قائم کرنے کیلئے فوج بھجو انے کی درخواست کی جارہی ہے ۔ نہ ہی کسی امن مشن کا تذکرہ تھا۔ اس خطا میں یہ فقرہ لکھا گیا تھا ۔ To Protect Un Forces in Iraqدفتر خاجہ میں کسی نے ان لفظوں پر غور نہیں کیا تھا ۔
جب اس موضوع پر شاہ عبد اللہ سے میری بات ہوئی تو میں نے واضح کردیا کہ امن قائم رکھنے کیلئے فوج بھیجنے کی درخواست سمجھ میں آتی ہے لیکن عراقی وزیر اعظم کے خط میں امن مشن کا کوئی ذکر نہیں ۔ شاہ عبد للہ بہت حیران ہوئے اور ترجمان سے میری بات دہراتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہی بات انہوں نے نے کہی ہے ۔ ترجمان نے اثبات میں جواب دیا ۔ اب شاہ عبد اللہ مجھے کچھ مصنطر ب نظر آئے ،کہنے لگے ، کل عراقی وزیر اعظم مجھ سے ملنے کیلئے آرہے ہیں ۔ میں ان سے بات کروں گا ، جو خطا عراقی وزیر اعظم نے بھجوایا تھا ، اس کا عربی ترجمہ میں نے شاہ عبد اللہ کو پیش کر دیا ۔ انہوں نے یہ عربی ترجمہ انتہائی غور سے پڑھا اور پھر انگریزی میں لکھا گیا خطا بھی پڑھا۔ تقریباً چارمنٹ تک خاموشی رہی ۔ شاہ عبد اللہ کی جانب سے پانچ افراد اس ملاقات میں موجودتھے۔
اس کے بعد دیگر مو ضوعات پر بات چیت شروع ہوئی تو میں نے شاہ عبد اللہ کو سعودی عرب میں موجو د پاکستانیوں کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے ان کے حل کی یقین دہا نی کروائی ، ہم نے ان سے اجازت چاہی تو انہوں نے وفد کے ارکان سے مصافحہ کیا اور میرا ہاتھ پکڑے ہوئے کمرے کے باہر کو ریڈ ور سے ہوتے ہوئے گاڑی تک چھوڑنے آئے ۔ حالا نکہ میں نے بار ہا کہا کہ اس زحمت کی ضرورت نہیں ۔ بعد میں چیف آفیسر پروٹوکول نے بتایا کہ پہلا موقع ہے کہ ولی عہد اتنی عزت اور محبت سے کسی وزیر اعظم کو گاڑی تک چھوڑنے آئے ہیں ۔
پرنس نا ئف بن عبد العز یزگ کی طرف سے بندوق کا تحفہ 
اگلی ملاقات سعودی وزیر داخلہ پرنس نائف بن عید العز یز سے تھی ۔ میں ان سے بطور وزیر داخلہ پہلے بھی دو تین مرتبہ مل چکا تھا ۔ ان کے ساتھ یہ ملاقات بھی نہا یت دوستانہ ماحوال میں ہوئی ۔ ملاقات کے آخر میں انہوں نے تحفے کے طور پر مجھے گولڈ پلیٹڈ گن پیش کی ۔ یہ ان کی محبت کا بڑا واضح اظہار تھا ۔
شاہ فہد بن عبدالعزیز سے ملاقات 
اسی روز سہ پہر کو ہماری ملاقات سعودی فرمانر واشاہ فہد بن عبد العزیز السعود کے ساتھ طے تھی ، ملاقات سے پہلے ان کے چیف آف پروٹوکول نے درخواست کی کہ شاہ کی طبیعت کچھ ناساز ہے ۔ لہذا آپ اپنی ملاقات دس سے پندرہ منٹ میں مکمل کر لیں ۔ میں نے جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں ۔
ملاقات کے شروع میں ، میں نے شاہ فہد کو صدر پرویز مشرف کا سلام پیش کیا اور پھر استدعا کی کہ آپ پاکستان کی بقاء، سالمیت ، عوام کی خوشحالی اور سلامتی کیلئے خصوصی دعا فرمائیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے دعا کیلئے ہاتھ اوپر اٹھائے ۔ شاہد فہد نے بھی با قاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی ، اس دوران ہمیں قہوہ پیش کیاگیا ۔ قہوہ پینے کے قوراً بعد میں نے کہا ہمیں اجازت دیجئے۔ ملاقات کے بعد پروٹوکول آفیسر نے مسکر اتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کو بار بار یاد کرانا پڑتا ہے کہ شاہ سے ملاقات مختصر کریں ، جب کہ پپ نے بغیر یاد کروائے ، اس ملاقات کو چند منٹ میں ختم کر دیا ۔
روضۂ رسول ﷺکے اندر حاضری 
اگلے روز ہم مدینہ منورہ پہنچے ، سب سے پہلے مسجد نبو ی ﷺگئے ، وہا نو افل ادا کیے ، اس کے بعد سعودی حکام نے ہمارے لیے خصوصی طور پر روضۂ رسول ﷺ کا درواز ہ کھو لا ، وفد کے تمام ارکان روضۂ رسول ﷺکے اندرونی حصے میں گئے ، یہاں ہم نے خصوصی نوافل ادا کرتے ہوئے کافی دیر قیام کیا ۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ گلو کار ابر ارالحق جو اس خصوصی وفد میں شامل تھے ۔ ان کو اندیشہ تھا کہ کہیں بھیڑ میں وہ

 

(جاری ہے )