’’سچ تویہ‘‘قسط نمبر15


جنوبی کوریا کیساتھ میری وابستگی

1979ء میں چودھری ظہور الٰہی کے قریبی دوست جسٹس افضل چیمہ نے پاک کوریا فرینڈ شپ سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔اس وقت جنوبی کوریا کے پاس ایمبیسڈرل اسٹیٹس،یعنی سفارتی مرتبہ نہ تھا۔اسلام آباد میں اس کے قونصلر جنرل تعینات تھے۔1986ء میں چیمہ صاحب نے جنوبی کوریا کے اعزازی قونصل کے لیے میرا نام تجویز کیا۔اس منصب کے لیے اور بھی کئی نام سامنے آئے تھے۔
مجھے اعزازی قونصل بنا دیا گیا تو میں نے جنوبی کوریا کے قونصل جنرل مسٹراوہ(OH)کے ساتھ مل کر ساؤتھ کوریا کو سفارتی رتبہ دلوانے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں شروع کر دیں۔
میری جب بھی جنرل ضیاء الحق سے ملاقات ہوتی تو میں جنوبی کوریا کے ایمبیسڈرل اسٹیٹس کے لیے ان سے ضرور بات کرتا۔وہ ہمیشہ کہتے کہ وہ یہ مسئلہ چین کی رضا مندی سے حل کریں گے۔ایک دن مجھے صدر ضیاء الحق نے بلایا کہ اس دفعہ میں نے جب چینی صدر سے اس سلسلے میں بات کی تو وہ خاموش رہے اور نیم رضا مندی کا اظہار کیا۔اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس معاملے پر پاکستان اور چین میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔لہٰذا میں جنوبی کوریا کے لیے’’ایمبسیڈرل اسٹیٹس‘‘کا نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہوں۔
اس کے بعد جنوبی کوریا اور پاکستان کے کاروباری حضرات کی آپس میں ملاقاتیں کروائی گئیں۔اسی دوران صدر ضیاء الحق نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔اس دورے میں پاک کوریا مشترکہ پراجیکٹ،مغل ریسٹورنٹ،کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا،جس کا افتتاح صدر ضیاء الحق نے خود کیا۔ریسٹورنٹ کے مالک ہمارے عزیز گلزار محمد ہیں۔کچھ عرصہ بعد ڈائیوو(Daewoo)کے چیئرمین مسٹر کم (KIM)پاکستان آئے اور انہوں نے کراچی میں ایک پکچر ٹیوب پراجیکٹ لگانے کی تجویز دی۔اس زمانے میں یہ واحد دو پراجیکٹ تھے جو کوریا اور پاکستان نے مشترکہ طور پر شروع کیے تھے۔
بعد میں کوریا کی مزید کئی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔چونکہ میرا دفتر لاہور میں تھا،تو میں نے انہیں ہر ممکن مدد اور سہولیات فراہم کرنا شروع کر دیں۔میری ان کوششوں کے نتیجے میں دوسال کے مختصر عرصہ میں سینکڑوں کورین کمپنیوں نے پاکستان میں پراجیکٹ شروع کیے۔ان میں سب سے اہم ڈائیوو کا موٹر وے پراجیکٹ تھا۔جنوبی کوریا کے لیے پاکستان میں میری ان خدمات کے اعتراف میں کورین حکومت نے مجھے اپنے ملک کے اعلیٰ ترین ڈپلومیٹک ایوارڈ سے بھی نوازا ہے۔
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد
نواز شریف کی مسلسل عہد شکنی
1985ء تا1988ء
1985ء کے الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔تمام ارکان اسمبلی اپنی آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر آئے تھے لیکن پنجاب اسمبلی میں ہمارے گروپ نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔الیکشن کے بعد وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ابتدائی طور پر تین نام سامنے آئے۔1۔ملک اللہ یار خان،جن کو جنرل ضیاء الحق پسند بھی کرتے تھے۔2۔چودھری عبدالغفور،ان کا تعلق بہاولنگر سے تھا۔،3۔مخدوم زادہ حسن محمود ،یہ رحیم یار خان سے تھے۔
یہ تین نام سامنے آئے اور ان پر مشورے شروع ہی ہوئے تھے کہ میاں نواز شریف نے بھی اپنا نام فلوٹ(Float)کر دیا۔اب چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ ان کا نام بار بار کیوں آرہا ہے۔حالانکہ ان کے پاس مطلوبہ اکثریت ہے۔نہ ان کا کوئی سیاسی پس منظر ہے۔صلاح مشورے کے لیے میٹنگز کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے بھی اپنے گھر میں دوستوں اور ساتھیوں کو مدعو کیا۔سب سے زیادہ ارکان اسمبلی ہماری میٹنگ میں آئے،جن میں خواجہ سعد رفیق کی والدہ محترمہ بھی تھیں۔سب کا یہی مشورہ تھا کہ ہماری طرف سے پرویز الٰہی کا نام بطور وزیر اعلیٰ آنا چاہیے۔مخدوم حسن محمود کا میرے والد سے بڑا قریبی تعلق رہا تھا۔وہ دو تین مرتبہ آئے اور کہنے لگے کہ ہم ان سے تعاون کریں۔ہم نے کہا،ہمارے لوگ کہتے ہیں کہ پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا جائے۔

نواز شریف کا پہلی بار وزیر اعلیٰ بننا

ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ بریگیڈیئر (ر)قیوم اور گورنر پنجاب غلام جیلانی نے ہم سے رابطہ قائم کیا اور ہمیں گورنر ہاؤس مدعوکیا۔ہم وہاں پہنچے تو بریگیڈیئر(ر)قیوم بھی وہاں تشریف فرماتھے۔جنرل جیلانی کہنے لگے،چونکہ پنجاب میں آپ کا گروپ سب سے بڑا ہے،اس لیے صوبہ کی اہم وزارتیں آپ رکھ لیں۔اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر بھی اپنی مرضی کا منتخب کر لیں،لیکن وزیراعلیٰ،نواز شریف کو بنا دیں۔اس طرح ایک مضبوط اتحاد قائم ہو جائے گا اور کابینہ بھی بن جائے گی،جس میں رہنمائی آپ کی ہو گی۔ہم نے اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے لیے دو دن کا وقت مانگا۔انہوں نے کہا،ٹھیک ہے،دو دن بعد نواز شریف اور شہباز شریف کو بھی بلا لیتے ہیں اور سب مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیں گے۔
اس کے بعد ہم دونوں گروپوں کی مشترکہ میٹنگ نواز شریف کے والد محترم میاں محمد شریف کے دفتر واقع ایمپریس روڈ ہوئی،جس میں نواز شریف،شہباز شریف،بریگیڈئر قیوم،پرویز الٰہی اور میں شریک تھے۔طے پایا کہ نواز شریف،وزیر اعلی کے مشترکہ امیدوار ہو ں گے،جبکہ اسپیکر اور صوبائی وزراء کا فیصلہ باہمی مشاورت سے ہو گا۔
شہباز شریف بطور ضمانت قرآن لانے کیلئے اٹھے
یہ یارے فیصلے ہو گئے تو میاں شہباز شریف جلدی سے اٹھے اور کہا۔’’اگرچہ سب کچھ طے ہو گیا ہے،لیکن پھر بھی آپ کی تسلی کے لیے قرآن مجید لے کر آتا ہوں تاکہ ضمانت رہے کہ ہماری طرف سے کوئی وعدہ خلافی نہ ہو گی۔‘‘اس پر پرویز الٰہی ار میں نے کہا۔ ’’دیکھیں،سیاست میں نہ ہمارے بزرگ قرآن کو بیچ میں لائے تھے،نہ ہم نے کبھی اس کی جسارت کی ہے۔‘‘میں نے کہا۔’’پرویز الٰہی صرف ایک ووٹ کی برتری سے چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہو کر آئے ہیں۔گجرات میں ہمار ے مخالفوں نے ہمیں ہرانے کے لیے اپنے ارکان سے قرآن پر حلف لیے،مگر ہم نے اپنے کسی ساتھی سے قرآن پر حلف نہیں لیا۔‘‘یہ کہہ کر ہم نے شہباز شریف کو قرآن مجید لانے سے منع کر دیا۔
اگلے روز گورنر جیلانی نے ہم سے پوچھا کہ میٹنگ کیسی رہی۔ہم نے سارا احوال سنا دیا،بلکہ شہباز شریف کے قرآن مجید ضمانت کے طور پر لانے کے بارے میں بھی بتایا۔جنرل جیلانی نے کہا،اس معاملے میں،میں اپنی ضمانت دیتا ہوں اور ویسے بھی

 

(جاری ہے)