شہ رگ کے عوام کامطالبہ


آزادجموں وکشمیرمیں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سپہ سالاروزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان نے امسال بھی اپنی رعایاکے تیس لاکھ نفوس کورمضان المبارک کاسبسڈی پیکیج دینے پرتاحال آمدگی ظاہرنہیں کی جبکہ ان کی پارٹی کے قائدوزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف نے 12ارب روپے کاپیکیج دیکراپنی عوام کورمضان المبارک کی خوشیوں میں گفٹ پیش کردیاہے ،تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیرکے دورمیں وقت کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجیدنے فریال تالپورہاؤس کاخرچہ چلانے کیلئے مبینہ طورپرآزادکشمیرمیں رمضان پیکیج بندکردیاتھاجبکہ آزادکشمیرکے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان نے 2010ء میں رمضان پیکیج دیالیکن اس کے بعدآٹھ سال کاطویل عرصہ گزرنے کے باوجود کسی بھی حکمران کواپنے عوام کیلئے رمضان پیکیج کاخیال نہ آیاگزشتہ دنوں مختلف قومی اخبارات میں میری نظرسے یہ خبرگزری کہ خادم اعلیٰ پنجاب نے اپنے عوام کوصرف آٹے پررمضان پیکیج کے نام پر12ارب روپے کی سبسڈی دی ہے تودل میں خیال آیاکہ آزادکشمیرمیں بھی خادم اعلیٰ سے محبت رکھنے والوں کی حکومت ہے تولامحالہ یہاں کے عوام بھی رمضان پیکیج سے مستفیدہوسکیں گے لیکن اب رمضان المبارک کی آمدآمدہے اورآزادکشمیرحکومت،بیوروکریسی اور مالیات والوں نے مہنگائی کے ہاتھوں مجبورعوام کی ڈھارس بندھانے کیلئے کوئی عملی کام نہیں کیااس کے برعکس گلگت بلتستان میں پوراسال گندم پرسبسڈی دیتے ہوئے چھ سوروپیہ فی چالیس کلوگرام گندم دی جارہی ہے جبکہ آزادکشمیرمیں سرکاری آٹے کاریٹ 1400روپے فی چالیس کلوگرام ہے ،رمضان المبارک میں پنجاب کاآٹاایک ہزارروپے فی چالیس کلوگرام دستیاب ہوگاتوآزادکشمیرسے آٹاکون خریدے گا؟آزادکشمیرمیں قائم گیارہ فلورملیں آزادکشمیرحکومت کے سبسڈی نہ دینے کے گناہ کی سزابھگتیں گی۔ماضی میں یہ تاثرپایاجارہاتھاکہ پنجاب سے آزادکشمیرمیں لایا جانیوالاآٹاملاوٹ شدہ اورانسانی صحت کیلئے انتہائی ناقص ہے جس پرآزاد کشمیرحکومت بالخصوص محکمہ خوراک نے کام بھی کیالیکن اکادکاشکایات پرعملدرآمدکے بعد معاملہ گول کردیاگیااب رمضان المبارک کی آمدکااستقبال کرنے کیلئے پاکستان بھرمیں صوبائی حکومتیں بشمول گلگت بلتستان رمضان پیکیج دینے کاسلسلہ شروع کرچکی ہیں لیکن ہمارے بھیاجی اوران کی حکومت کویہ ذرہ برابربھی خیال نہیں کہ آزادکشمیرکے عوام نے شہ رگ کے نام پرجوقربانیوں کانہ رکنے والاسلسلہ شروع کررکھاہے آٹے پرسبسڈی اس کانعم البدل ہرگزنہیں ہوسکتی ہاں اتناضرورہے کہ آزادکشمیرحکومت ماضی کی غلطیوں کاازالہ کرتے ہوئے سبسڈی دیکر آزاد کشمیرکے دوردرازعلاقوں بالخصوص لائن آف کنٹرول کے قریب مکین خاندان کی مالی مشکلات میں کچھ معاونت کرسکتی ہے یہاں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اورآزادکشمیرکے سابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان کی جانب سے سبسڈی کے حوالے سے اپنے عوام کی معاونت پرانہیں خراج تحسین پیش نہ کیاجانابھی بہت بڑی زیادتی ہوگی ۔تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنی رعایاکیلئے ہمیشہ بڑھ چڑھ کرکام کیااورعوام الناس کورمضان المبارک کے موقع پرسبسڈی پیکیج دلوانے میں وقت کے حکمرانوں سے پنجہ آزمائی بھی کی لیکن موجودہ حالات میں پاکستان میں حکمران مسلم لیگ ن ہونے کے باوجود آزادکشمیرکے تیس لاکھ نفوس کورمضان پیکیج نہ دیاجانابہت بڑی زیادتی ہے حالانکہ موجودہ حکومت کے اربوں روپے تعمیراتی کام مکمل نہ ہونے پرلیپس کی طرف جارہے ہیں اورآزادکشمیرکی بھاری بھرکم کابینہ کیلئے نئی گاڑیاں ،مال واسباب اوردیگرتعمیراتی اخراجات کی آڑمیں اربوں روپے کے اخراجات اٹھائے گئے ہیں کشمیریوں کیلئے صرف تیس کروڑروپے کی سبسڈی اگر دیدی جاتی تو نہ صرف ن لیگ کی جے جے ہوتی بلکہ پوائنٹ سکورنگ بھی ممکن تھی۔قارئین محترم!آزاد جموں وکشمیر میں دریاؤں کے کٹاؤاور منگلاڈیم ریزنگ پراجیکٹ پر عملدرآمدکے باعث زرعی زمینیں نہ ہونے کے برابرہیں میرپور ڈویژن میں کھڑی اورضلع بھمبرمیں کچھ علاقوں میں گندم کاشت ہوتی ہے لیکن پیداوارصرف اس حدتک ہے کہ کاشتکاراسے اپنے ذاتی مصرف میں لاسکے،یہی وجہ ہے کہ آزادکشمیرکی بڑی آبادی اپنی خوراک کیلئے گندم ودیگراشیائے خورونوش پنجاب سے حاصل کرتی ہے جوکہ پنجاب کے مقابلے میں آزادکشمیرمیں انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہوتی ہے رمضان المبارک کے آغازسے ہی جہاں دنیابھرمیں غیرمسلم احترام رمضان کے نام پرمسلمانوں کیلئے سستے بازاروں اورسستی خوراک مہیاکرنے کیلئے سیل لگاتے ہیں وہاں پاکستان اورآزادکشمیرمیں ناجائزمنافع خور،ذخیرہ اندوزاورگرانفروش کھل کرسامنے آتے ہوئے اشیائے خورونوش کاسٹاک کرکے مصنوعی قلت پیداکرتے ہوئے زیادہ منافع کی لالچ میں اشیائے ضروریہ کوبلیک کرنے کاسلسلہ شروع کردیتے ہیں ۔آزادکشمیرکی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی جانچ پڑتال کیلئے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیاں رمضان بازارقائم کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ محض دکھاوے کی باتیں ہیں،رمضان بازاروں کی نسبت اوپن مارکیٹ سے اشیائے خورونوش کم قیمت پردستیاب ہوتی ہیں یہاں یہ کہنابھی انتہائی ضروری ہے کہ رمضان بازاروں میں بعض ذخیرہ اندوز ضلعی انتظامیہ کورام کرنے کیلئے چھوٹے موٹے سٹال جس میں چینی،آٹا اورکچھ دیگراشیاء ہوتی ہیں سجاتے ہیں اورانتہائی کم مقدارمیں مال سامنے رکھ کرانتظامیہ کی آنکھوں میں سرخ مرچ ڈال کریہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سے بڑھ کرعوام اورانتظامیہ کاخدمت گزارکوئی نہیں اوربعض انتظامی آفیسران بھی ایسے ذخیرہ اندوزوں، گرانفروشوں کے آلہ کارتصورہوتے ہیں اورمارکیٹ میں چیکنگ کے موقع پران کے بڑے بڑے سٹورز کارخ نہیں کرتے۔جہاں عوام کی کھال ادھیڑنے کاکندچھریوں سے سلسلہ جاری رہتاہے ،عوام الناس کورمضان المبارک میں ریلیف فراہم کرناریاست کی ذمہ داری ہے اگرریاست کے ذمہ داران عوام کو اشیائے خورونوش دودھ ،دہی ،گھی ،بیکری مصنوعات اورسامان کریانہ کیساتھ ساتھ گوشت ،مرغ، مچھلی ،سبزی ،فروٹ مناسب اورکنٹرول نرخوں پردستیاب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تومیرے نزدیک یہ حکمرانوں کی نیک نامی کاباعث ہوگابصورت دیگر
ہررمضان میں غریب روزہ دارانتہائی مفلسی کے اندازمیں سحروافطار کے مراحل سے دوچارہوتاہے ۔قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ہے کہ ’’اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کئے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پچھلی امتوں پرفرض کئے گئے تھے‘‘ان تعلیمات پرعملدرآمدممکن بنانے کیلئے ریاست کے حکمرانوں پربھی بھاری ذمہ داریاں عائدہوتی ہیں میری تجویزہے کہ آزادکشمیرکے دس اضلاع میں ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کواس بات کاپابندبنایاجائے کہ یومیہ بنیادوں پراشیائے خورونوش کی قیمتوں کی جانچ پڑتال کی جائے اورجوبھی تاجرپرائس لسٹ سے تجاوز کرے اسے جرمانے کی بجائے فوری طورپرایک ماہ کیلئے جیل میں ڈال دیاجائے اس کی رہائی عیدالفطرکے بعدبھاری جرمانے کیساتھ ہوتاکہ آئندہ کوئی تاجریاذخیرہ اندوزنہ تومہنگی اشیاء فروخت کرے اورنہ ہی ملاوٹ شدہ۔شنیدہے کہ آزادکشمیربھرکے تمام اضلاع میں انتظامیہ کے اجلاس کاانعقاد ہواہے لیکن افسوسناک امریہ ہے کہ اجلاس ہاء میں انہی تاجروں کی نمائندگی ہوتی ہے جوخودگرانفروشی کے مرتکب ہوتے ہیں ،عام عوام میں سے لوگوں کوان اجلاسوں میں نہیں بٹھایاجاتاتاکہ کوئی مثبت تجاویزاورپرائس کنٹرول لسٹ کے تعین کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت ہوسکے جبکہ انتظامی آفیسران اپنے ٹھنڈے دفاترمیں بیٹھ کرچھوٹے عملے کے ذریعے مگرمچھ (بڑے ذخیرہ اندوز) کاشکارکرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں انہیں کبھی کامیابی ممکن نہیں ہوتی اورعام تاثربھی یہی ہوتاہے کہ بڑے بڑے سٹورزمیں چھوٹے مجسٹریٹ جانے کی سکت نہیں رکھتے جس کیوجہ سے انتظامیہ اپنی جاری کردہ پرائس لسٹ پرعملدرآمدمیں کامیاب نہیں ہوتی۔ماضی قریب میں یہ پریکٹس بھی سامنے آئی ہے کہ محکمہ خوراک نے حکومتی اکابرین کوعوامی ردعمل سے بچانے کیلئے سستے رمضان بازاروں میں اپنے ڈپوزسے محدود پیمانے پرآٹے کے سٹال لگائے لیکن پنجاب کے مقابلے میں آزادکشمیرمیں محکمہ خوراک کے اسٹالزپربھی مہنگے داموں آٹے دستیاب ہوتاہے جس کیوجہ سے عام آدمی مستفیدنہیں ہوپاتا۔آخرمیں وزیراعظم آزادکشمیرسے عوام کامطالبہ یہ ہے کہ آٹے پرسبسڈی ودیگرضروریات زندگی سستے داموں مہیاکرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، رمضان المبارک میں روزہ داروں کوفروٹ، گوشت، ڈرنکس وفاسٹ فوڈکی خریداری پربھی ریلیف دینے کابندوبست کیاجانا چاہیے۔